Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*شعبۂ اُردو ،قاضی نذرل یونیورسیٹی میں146واں جشن یومِ پیدائش منشی پریم چند کے موقع پر خصوص لیکچر وطلبہ سیمینار کا انعقاد* ۔

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

شعبۂ اُردو ،قاضی نذرل یونیورسیٹی میں146واں جشن یومِ پیدائش منشی پریم چند کے موقع پر خصوص لیکچر وطلبہ سیمینار کا انعقاد ۔

شعبۂ اُردو،قاضی نذرل یونیورسیٹی میں آ ج 31 جولائی 2026 بروز جمعہ یومِ پیدائش منشی پریم چند کے موقع پر مغربی بنگال کے معروف کالم نویس انجینئر خورشید غنی کی صدارت میں 146واں جشنِ یومِ منشی پریم چند کی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔اس پر مسرت موقع پر ایک خصوصی لکچر و طلبہ سیمنار بعنوان “منشی پریم چند کی ادبی معنویت” کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کا آغاز ڈاکٹر صوفیہ محمود شعبہ اُردُو قاضی نذ رل یونیورسٹی کے خیر مقدمی کلمات سے ہُوا،موصوف نے تمام مہمانان کااستقبال کرتے ہوئے شعبہ اردو کی سر گرمیوں اور منشی پریم چند کی ادبی اہمیت پر روشنی ڈالی ،بعد از تقریب میں موجود تمام مہمانان کی گل پوشی کی گئی.شبعہ اردو کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد فاروق اعظم نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئےکہا کہ پریم چند نے اپنی کہانیوں میں غربت،طبقاتی تفاوت،استحصال،جاگیر دارنہ نظام اور سماجی ناانصافیوں کو موضوع بنایا ہے ،ان کے ناول گودان،غبن اور ان کا افسانہ کفن آج بھی معاشرتی ناہمواریوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ عصر حاضر میں جہاں معاشی تفاوت،ذات پات اور صنفی عدم مساوات،آج بھی بڑے مسائل ہیں ،پریم چند کی تحریریں ان موضوعات پر گہری روشنی ڈالتی ہیں ۔ان کی کہانیاں نہ صرف ادب کی دنیا میں ایک اہم ورثہ ہیں بلکہ آج کے دور میں بھی سماجی تبدیلی اور خود آگہی کے لیے ایک رہنما کی طور پر کام کرتی ہیں۔
تقریب میں موجود قاضی نذرل یونیورسٹی شعبہ تاریخ کے استاذ ڈاکٹر پردیپ کمار داس نے اپنی تقریر میں منشی پریم چند کی شخصیت اور ان کی سماجی و تعلیمی اصلاحات اور دیگر کارناموں کا ذکر کیا۔ پریم چند کا موازنہ دیگر ادباء سے کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح دیگر ادباء نے ہندوستانی سماج میں رائج فرسودہ رسم و رواج اور انسانوں کے ساتھ ہونے والے استحصال کے خلا ف آواز بلند کی ہے اسی طرح پریم چند نے بھی اپنی قوم میں رائج فرسودہ رسم و رواج اور ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کی ہے ۔بعداز تقریب میں موجود قاضی نذرل یونیورسٹی کے لائبریرین بسواجیت سا ہا نے اپنی تقریر میں کہا کہ شعبۂ اردو کے تمام اساتذہ کی محنت و مشقت پر آج مجھے بہت فخر محسوس ہو رہا۔اس یونیورسٹی میں شعبہ اردو کی کارکردگی کی یہ مثبت دلیل ہے کے آج ایم ۔اے کے طالباءو طالبات منشی پریم چند پر مقالہ پیش کریں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے پریم چند کی ادبی زندگی پر،پرمغز گفتگو کرتے ہوئے شعبہ اردو کےکوآرڈینیٹر ڈاکٹر فاروق اعظم اور شعبہ کے تمام اساتذہ کو فعال اور متحرک قرار دیتے ہوئے ان کو دلی مبارکباد پیش کی ۔
تقریب میں موجود ہگلی محسن کالج کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عمر غزالی صاحب نے کہا کہ
پریم چند کی ادبی معنویت کا سب سے اہم پہلو ان کی حقیقت نگاری ہے۔ انہوں نے ہندوستانی معاشرے کی حقیقی تصویر پیش کی، جس میں غریب کسان، مزدور، متوسط طبقہ، عورتوں کی حالت، ذات پات کی تفریق، جہالت، استحصال اور سماجی ناانصافیاں نمایاں ہیں۔ ان کے کردار زندگی سے قریب اور نہایت فطری معلوم ہوتے ہیں۔
پریم چند کے ادب میں انسان دوستی اور اخلاقی اقدار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ وہ ظلم، ناانصافی اور استحصال کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور مساوات، محبت، اخوت اور انصاف کا پیغام دیتے ہیں۔ ان کی تحریریں قاری کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔
شعبہ اردو کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اُنہوں نے مزید کہا کہ شعبۂ اُردو اس یونیورسٹی میں اپنی ایک شناخت رکھتا ہے اس شعبۂ کے تمام اساتذہ کرام اور طلباء و طالبات بہت مہذب اور فعال ہیں ہمہ وقت سر گرم رہتے ہیں۔
اس خصوصی تقریب میں طلبہ سیمنار بعنوان “منشی پریم چند کی ادبی معنویت” کا بھی اہتمام کیا گیا۔ جس میں شعبۂ اُردو، ایم۔ اے میقات چہارم کے طلباء و طالبات بالترتیب سائمہ تنزیل نے بعنوان “پریم چند کی کہانیوں میں کسان،مزدور اور غریب طبقہ”، میقات دوم کی طلباء شاہین پروین نے بعنوان ” پریم چند کے افسانوں میں عورتوں کا کردار اور اس کا مقام”، ناظمین فرحت نے بعنوان ” پریم چند کی افسانہ نگاری حقیقت نگاری کا نیا باب”،اس طرح صالحہ امرین نے” پریم چند کی کہانیوں میں مزدور،کسان ،اور غریب طبقہ “میقات چہارم کی شاہین پروین نے بعنوان”منشی پریم چند اور ترقی پسند تحریک کی فکری زمین” ، عظمیٰ ناہید نے بعنوان” پریم چند کے افسانوں میی عورت” اور میقات دوم کی مسکا ن نے ” پریم چند کی نثر میں قومی یکجہتی اور قومی ہم آہنگی” کے عنوان پر مقالے پیش کیے۔
صدر مجلس انجینئر خورشید غنی صاحب نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ منشی پریم چند اردو اور ہندی ادب کے عظیم ترین افسانہ نگار اور ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں “افسانے کا بادشاہ” اور “ناول کا شہنشاہ” بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے سماجی اصلاح، انسانی ہمدردی اور بیداری کا مؤثر وسیلہ بنایا۔
ان کے مشہور ناولوں میں کسانوں کی کسمپرسی پر مبنی *گؤدان ایک اہم ناول ہے اس ناول کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان میں کسانوں کی حالت جو کل تھی آج بھی وہی ہے لیکن* ایک اہم سوال یہ ہے کہ پریم چند کے عہد کا کسان تمام مشکلات کے باوجود خود کشی نہیں کرتا بلکہ حالا ت کا مقابلہ کرتا ہے جبکہ آج کا کسان خود کشی پر آ ما ده ہے ۔
انہوں نے تمام مقالہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کی محنت کو سراہا اور شعبہ اُردو کے تمام اساتذہ و طلباء و طالبات کو اس کامیاب تقریب کے لیے مبارک با د پیش کی۔
ڈاکٹر صوفیہ محمود کی خوبصورت نظامت اور اس تقریب میں شامل شعبہ اردو کے اساتذہ و شعبہ اردو کے تمام طلباء و طالبات کی موجودگی، محنت اور محبت نے اس تقریب کو کامیاب بنایا۔