*درگاپور میں نابالغ طلبہ سے رقم کا لالچ دے کر خون کا عطیہ لینے کا انکشاف، ٹی ایم سی پی رکن سمیت تین گرفتار*
درگاپور میں اسکول کے نابالغ طلبہ کو رقم کا لالچ دے کر ان سے خون کا عطیہ کرانے کے ایک سنسنی خیز معاملے میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ترنمول چھاترا پریشد کے ایک رکن سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اِسپات نگری کے ایک نجی اسکول کے چند نابالغ طلبہ کو درگاپور کے بیدھان نگر علاقے میں واقع ایک نجی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان سے خون کا عطیہ لیا گیا۔ الزام ہے کہ اس کے بدلے طلبہ کو رقم دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس غیر قانونی سرگرمی کا انکشاف ہونے کے بعد درگاپور تھانے میں تحریری شکایت درج کرائی گئی تھی، جس کی بنیاد پر پولیس نے تحقیقات شروع کیں۔ تفتیش کے دوران ایک منظم ریکیٹ کا پردہ فاش ہوا۔ تحقیقات میں سب سے پہلے اسی اسکول کے سابق طالب علم دیوپریہ چکروورتی کا نام سامنے آیا، جو نابالغ طلبہ کو پیسوں کا لالچ دے کر اسپتال لے جاتا تھا۔ پولیس کی پوچھ گچھ میں اس نے انکشاف کیا کہ اسے اس کام کے لیے ٹی ایم سی پی کے رکن امت پرساد یادو نے تیار کیا تھا۔ اس معاملے میں مالدہ کے رہائشی محمد حبیب اللہ کا نام بھی سامنے آیا، جو اس وقت بیدھان نگر کے ایک ہوٹل میں ملازمت کرتا ہے۔ پولیس کے مطابق پورے نیٹ ورک کا اصل سرغنہ موچی پاڑہ باشندہ اور ٹی ایم سی پی رکن امت پرساد یادو ہے۔
پولیس نے چھاپہ ماری کے دوران دیوپریہ چکروورتی، محمد حبیب اللہ اور امت پرساد یادو کو گرفتار کر لیا۔ تینوں ملزمان سے سخت پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ اس ریکیٹ کے دیگر ارکان اور اس کے ممکنہ روابط کا پتہ لگایا جا سکے۔








