“*کلٹی میں تقریبِ پذیرائی اور شعری نشست*”
کل 5/ ستمبر کی شام “تنظیم بحرِ ادب”( پتیانہ محلہ، کلٹی) کی جانب سے یومِ اساتذہ کے پروقار موقعے پراستاد شاعر “معراج احمد معراج” کی پذیرائی کی گئی اور انہیں تحائف پیش کر کے ان کی عزت افزائی کی گئ. اسی موقعے سے ایک طرحی شعری نشست کا انعقاد بھی ہوا جس کے لیے یہ مخصوص طرح دی گئی تھی:
*“نہ کوئی شعلہ اٹھا اور نہ کچھ دھواں نکلا”*
اس طرح پر بہت سارے شعرا نے اپنا اپنا کلام سنایا. اس کے علاوہ یومِ اساتذہ سے متعلق بھی لوگوں نے نظمیں پڑھیں. اس تقریب کے مہمانانِ خصوصی جناب زیاد خان اور عبدالرب صاحب تھے. اس نشست کی نظامت معروف ادیب و شاعر جناب شمشاد اکرم نے کی، انہوں نے ڈاکٹر رادھا کرشنن کی تعلیمی خدمات اور ان کی حیات پر روشنی ڈالی.جبکہ صدارت کا بار معراج احمد معراج نے اٹھایا. معراج احمد معراج نے سب سے پہلے اپنے اساتذہء کرام صابر اجمیری(کلٹی) اور ڈاکٹر عنوان چشتی(نوئڈا) کو اپنی رباعیات کے ذریعہ خراجِ عقیدت پیش کیا.انہوں نے صدارتی خطبے میں کہا کہ یومِ اساتذہ شاگردوں اور استادوں کے لیے ایک بہت ہی اہم دن ہے اور اسے ہم اس لیے مناتے ہیں کہ اپنے اپنے اساتذہ کی عزت افزائی کر سکیں”. اسی موقعے پر جو شعرا ان سے وابستہ ہیں جنہوں نے ان سے کچھ سیکھا ہے ،ان لوگوں نے ان کی پذیرائی کی. انہیں تحائف دیے.جن شعرا نے اس تقریب میں حصہ لیا ان کے نام ہیں جاں نثار اختر،مکرم علی نادم، انعام الحق انعام، اظہر عارف، ہریرہ شہزاد وارثی،خالق کلٹوی،شمشاد اکرم، حافظ ارشاد، عمران افروز اور معراج احمد معراج نے بھی اپنی طرحی غزل سنائی. مجموعی طور پر یہ شعری نشست اور تقریبِ پذیرائی بہت ہی کامیاب رہی.
منجانب: *انعام الحق انعام* بانی:تنظیم بحرِ ادب، کلٹی*










