*طلبہ کی اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ بقایاجات فوری جاری کئے جائیں*
*حکومت کی لاپرواہی کے باعث چھوٹے پرائیویٹ کالجس بند ہونے کے دہانے پر*
*ہنمکنڈہ میں طلبہ کے ساتھ ریالی۔ صدر ٹی آر ایس کے کویتا کا خطاب*
تلنگانہ رکشنا سینا کی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایاجات فوری طور پر جاری کرنے اور طلبہ کے مسائل حل کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ ورنگل کے دورہ کے موقع پر ہنمکنڈہ میں طلبہ کے ساتھ ریالی میں حصہ لیتے ہوئے کویتا نے کہا کہ موجودہ حکومت گزشتہ تین سال سے فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایاجات ادا نہیں کررہی ہے۔ جس کے باعث چھوٹے پرائیویٹ کالجس بند ہونے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب طلبہ کو اسکالرشپس اور فیس کے بقایاجات بھی ادا نہیں کئے جارہے ہیں جبکہ طالبات سے کئے گئے اسکوٹیز فراہم کرنے کے وعدہ پر بھی عمل نہیں کیا گیاہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ آج اسمبلی اجلاس میں حکومت کو فیس ری ایمبرسمنٹ، اسکالرشپس اور طلبہ سے متعلق دیگر مسائل پر بات کرنی چاہئے اور ان مسائل کے حل کے لئے واضح اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کی رقم کی ادائیگی کے مطالبہ پر طلبہ تقریباً چار کلومیٹر پیدل چل کر ریالی کی شکل میں آئے ہیں۔ حکومت کو طلبہ کی اس تکلیف اور مشکلات کو سمجھتے ہوئے مثبت انداز میں جواب دینا چاہئے۔فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایاجات کی ادائیگی اور طلبہ کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے ہنمکنڈہ کے امبیڈکر مجسمہ سے ہنمکنڈہ کلکٹریٹ تک طلبہ کے ساتھ مل کر ریالی نکالی۔قبل ازیں کویتا نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمہ پر پھول مالا چڑھائی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے طلبہ کے ساتھ کلکٹریٹ کے اندر جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑک پر بیٹھ کر احتجاج بھی کیا۔ کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ طلبہ کے فیس بقایاجات ادا نہ کرکے حکومت انہیں مشکلات سے دوچار کررہی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کے طرزِ حکمرانی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک طرف وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ انٹرمیڈیٹ تعلیمی نظام ختم کردیں گے جبکہ دوسری طرف پالی ٹیکنک تعلیم کو اسکل یونیورسٹی میں ضم کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تعلیمی نظام کے ساتھ اس طرح کے تجربات کرنے کے بجائے طلبہ کے بنیادی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں طلبہ ڈگری اور پروفیشنل ڈگریاں مکمل کرنے کے باوجود اپنے تعلیمی اسناد حاصل کرنے سے قاصرہیں۔ اس کے نتیجہ میں وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے باوجود ملازمتیں حاصل کرنے سے محروم ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس رقم کی عدم ادائیگی سے طلبہ کے مستقبل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔کلواکنٹلہ کویتا نے واضح کیا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے تمام بقایاجات ادا کئے جانے تک تلنگانہ رکشنا سینا طلبہ کے ساتھ کھڑی رہے گی اور حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کی مشکلات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ بقایاجات فوری طور پر جاری کئے جائیں اور طلبہ کو درپیش تمام مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔










