*مختصر سیرتِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ*
————————————————————
نام و نسب ؛- آپ کا نام عبد القادر ، کنیت ابو محمد اور لقب غوث اعظم،محبوب سبحانی اور قطب ربانی ہے۔ آپ کی ولادت یکم رمضان 470 ھ کو جیلان (ایران) میں ہوئی آپ والد کی طرف سے حسنی اور والدہ کی طرف سے حسیني سید ہیں۔
تعلیم و تربیت:- آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی۔18 سال کی عمر میں علم دین حاصل کرنے لیے بغداد تشریف لیے گئے۔وہاں آپ نے تفسیر، حدیث، فقہ،اور تمام علوم دینیہ میں مہارت حاصل کی۔آپ کی ذہانت ایسی تھی کہ کم عمری میں ہی بڑے بڑے علماء آپ کے علم کے معترف تھے۔
عبادت و ریاضت :- آپ بہت عبادت گزار تھے دن کو روزہ اور رات کو عبادت الٰہی مشغول رہتے۔25سال تک آپ نے بغداد کے ویرانوں سخت مجاہدہ اور چلہ کشی کی۔
تدریس و تبلیغ :- بغداد کے مدرسہ نظامیہ میں آپ درس دیا کرتے تھے۔آپ کے وعظ میں 70 ہزار سے زیادہ لوگ شریک ہوتے۔آپ کے ہاتھوں پر ہزاروں غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا اور لاکھوں گنہگاروں نے توبہ کی۔
آپ کی مشہور کرامات :- اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیشمار کراماتِ سے نوازا تھا آپ کی سب سے بڑی کرامت آپ کا علم اور آپ کی تعلیمات ہیں جو آج بھی دلوں کو زندہ کر رہی ہیں۔
ڈوبی ہوئی کشتی کو بچانا :- ایک بار کچھ تاجر سمندر میں سفر کررہے تھے کہ اچانک طوفان آگیا۔انہوں نے دل سے یا غوث اعظم المدد کا نعرہ لگایا۔ اس وقت آپ بغداد میں وضو فرمارہے تھے آپ نے وضو کا پانی اُس طرف پھینکا اور فرمایا جاؤ کشتی کو بچالو۔اللہ کے حکم سے وہ طوفان رک گیا اور کشتی کنارے لگ گئی۔
چور کو قطب بنادیا:- ایک چور آپ کے گھر چوری کرنے آیا جب وہ اندر داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ آپ عبادت میں مصروف ہیں۔آپ کی نورانی صورت دیکھ کر اس کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ وہ وہیں رونے لگا۔آپ نے اس کی طرف دیکھا اور اسے توبہ کرائی اور آپ کی نگاہ کرم سے وہ چور وقت کا قطب بن گیا۔
مردہ کو زندہ کرنا :- ایک عورت اپنے بیٹے کی لاش لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کر نے لگی کہ یہ میرا اکلوتا بیٹا تھا۔آپ کو اس پر رحم آیا آپ نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی اور فرمایا قم باذن اللہ تو وہ مردہ لڑکا اللہ کے حکم سے زندہ ہوگیا۔
آپ کا وصال مبارک :- آپ کا وصال اختلاف رائے کے مطابق11 ربیع الثانی 561 ھ کو 91سال کی عمر میں ہوا آپ کہ مزار مبارک بغداد شریف میں ہے جو آج بھی مرجع فیض ہے۔محمد تاج الدین حبیبی نظامی، قریشی محلہ، دھام نگر شریف










