Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*بھارتی الیکشن کمیشن میں فیصلوں کا اختیار: آئینی اکثریت بمقابلہ پردہ نشیں قوتیں*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*بھارتی الیکشن کمیشن میں فیصلوں کا اختیار: آئینی اکثریت بمقابلہ پردہ نشیں قوتیں*

*(دو کمشنروں کے چودہ اعتراضات: الیکشن کمیشن کے نام پر فیصلے کون کر رہا تھا؟)*

ازقلم: *اسماء جبین فلک*

بھارت کے الیکشن کمیشن میں تین کمشنر ہیں۔ قانون کہتا ہے کہ کمیشن حتی الامکان اتفاقِ رائے سے کام کرے گا اور اختلاف کی صورت میں اکثریت کی رائے فیصلہ کن ہوگی۔ لیکن اب سامنے آنے والی دستاویزات ایک ایسا سوال کھڑا کرتی ہیں جسے محض “داخلی اختلاف” کہہ کر نظر انداز کرنا ممکن نہیں: اگر تین میں سے دو الیکشن کمشنر دس ماہ کے دوران کم از کم چودہ مرتبہ تحریری طور پر یہ اعتراض اٹھا رہے تھے کہ کمیشن کے نام سے اہم اقدامات ان کے علم یا منظوری کے بغیر ہو رہے ہیں، تو پھر الیکشن کمیشن کے نام سے فیصلے آخر کون اور کس اختیار کے تحت کر رہا تھا؟
یہ سوال حزبِ اختلاف نے پیدا نہیں کیا، بلکہ یہ خود الیکشن کمیشن کے دو معزز ارکان کے تحریری اعتراضات سے ابھرا ہے۔
23 ستمبر 2026 کو انڈین ایکسپریس کی طویل اور جامع تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ میں کم از کم 14 مواقع پر باضابطہ اعتراضات درج کیے۔ بعض اوقات ان کا اعتراض یہ تھا کہ کمیشن کے نام سے احکامات یا مراسلات ان کی منظوری کے بغیر جاری کیے گئے۔ معاملات بھی معمولی نوعیت کے نہیں تھے: نئے ووٹروں کا اندراج، ووٹروں کے نام خارج اور بحال کرنا، فارم 6 میں تبدیلیاں، مغربی بنگال میں ووٹروں کے خلاف اپیلیں، انتخابی فہرست کے ڈیجیٹل نظام تک رسائی اور ووٹروں کے تمام تر اعداد و شمار کا انتظام و تحفظ۔
اس تحقیق کا سب سے سنگین پہلو کوئی صحافتی تبصرہ نہیں، بلکہ دونوں کمشنروں کا تحریری داخلی مؤقف ہے۔
16 اپریل کو سندھو نے کمیشن کے اعلیٰ افسران کو متنبہ کیا کہ کمیشن کے نام سے متعدد مراسلات ایسے جاری ہو رہے ہیں جنہیں خود “کمیشن” کی باضابطہ منظوری حاصل نہیں۔ آٹھ دن بعد، 24 اپریل کو، جوشی نے بھی یہی بنیادی نکتہ اٹھایا کہ الیکشن کمیشن کے نام سے کئی خطوط مطلوبہ منظوری کے بغیر جاری کیے جا رہے ہیں۔ دونوں کمشنروں نے آئین کے آرٹیکل 324 اور 2023 کے قانون کے تحت اجتماعی منظوری کی قانونی ضرورت یاد دلائی۔
یہاں معاملہ محض ذاتی یا فکری اختلاف کا نہیں رہتا۔
جب تین رکنی آئینی ادارے کے دو ارکان، یعنی عددی اکثریت، اپنے ہی ماتحت افسران کو تحریری طور پر یہ یاد دلانے پر مجبور ہو جائیں کہ “الیکشن کمیشن” کسی ایک عہدے دار یا دفتر کا نام نہیں بلکہ پورے کمیشن پر مشتمل ادارہ ہے، تو سوال محض انتظامی نہیں رہتا بلکہ سنگین ادارہ جاتی بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اور اس معاملے میں قانون بھی کسی ابہام کا شکار نہیں۔
چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری، شرائطِ ملازمت اور مدتِ عہدہ سے متعلق 2023 کے قانون کی دفعہ 18 کے مطابق، کمیشن کے جملہ امور جہاں تک ممکن ہو اتفاقِ رائے سے انجام دیے جائیں گے، اور اختلاف کی صورت میں فیصلہ اکثریت کی رائے کے مطابق ہوگا۔ اسی دفعہ کی رُو سے کمیشن اپنے طریقۂ کار اور کام کی تقسیم کا تعین بھی متفقہ فیصلے سے ہی کرتا ہے۔
اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ تین رکنی کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر انتظامی طور پر نمایاں منصب ضرور رکھتا ہے، لیکن اختلاف کی صورت میں اس کی انفرادی رائے باقی دو ارکان کی مشترکہ رائے پر عددی فوقیت نہیں رکھتی۔
اسی پس منظر میں گیانیش کمار کی سربراہی والے موجودہ الیکشن کمیشن کے اندر سامنے آنے والے 14 تحریری اعتراضات غیر معمولی آئینی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔
اس معاملے کا پہلا بڑا تنازع فارم 6 ہے۔
یہ وہ قانونی فارم ہے جس کے ذریعے نیا اہل شہری انتخابی فہرست میں اپنا نام درج کرانے کے لیے درخواست دیتا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی تحقیق کے مطابق، اس فارم کے ڈیجیٹل پورٹل پر خصوصی جامع نظرثانی سے متعلق ایک نیا سوال شامل کر دیا گیا۔ درخواست گزار سے پوچھا جانے لگا کہ گزشتہ خصوصی جامع نظرثانی کی فہرست میں اس کا، اس کے والدین یا دادا دادی اور نانا نانی کا نام موجود تھا یا نہیں۔ سوال کو بظاہر لازمی قرار نہیں دیا گیا تھا، لیکن عملاً اس کا جواب دیے بغیر ڈیجیٹل درخواست جمع نہیں ہو سکتی تھی۔
اصل مسئلہ سوال کے درست یا غلط ہونے کا نہیں تھا، بلکہ اصل قانونی سوال یہ تھا کہ کیا ایک قانونی فارم کو مروجہ ضابطے کے بغیر اس طرح تبدیل کیا جا سکتا تھا؟
16 مئی کو وویک جوشی نے متعلقہ فائل پر تحریری اعتراض درج کیا۔ ان کا واضح مؤقف تھا کہ فارم 6 اور فارم 8 مروجہ انتخابی قواعد کے تحت طے شدہ فارم ہیں، اور رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز 1960 میں باقاعدہ قانونی ترمیم کے بغیر ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر تبدیلی ناگزیر ہے تو یہ معاملہ قواعد میں باضابطہ ترمیم کے لیے حکومت کو بھیجا جائے۔ 19 مئی کو سندھو نے بھی اس قانونی مؤقف سے مکمل اتفاق کیا۔
اس کے باوجود، وہ تبدیل شدہ فارم پورٹل پر بدستور موجود رہا۔
بعد ازاں 13 اگست کو سندھو نے دوبارہ تحریری اعتراض درج کرایا۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ کمیشن کے 2 ارکان پہلے ہی اس تبدیلی کی قانونی حیثیت پر اپنا واضح فیصلہ دے چکے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو “غیر مجاز” اور “غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا تاکہ نوجوان اور پہلی مرتبہ ووٹر بننے والے شہریوں کو غیر ضروری دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہاں ایک بنیادی سوال ناگزیر ہو جاتا ہے:
اگر تین رکنی کمیشن کے دو ارکان مئی میں ہی تحریری طور پر واضح کر چکے تھے کہ قانونی فارم کو اس طرح تبدیل نہیں کیا جا سکتا، تو پھر وہ تبدیلی کس کے حکم اور کس کی منظوری سے برقرار رہی؟
اس سوال کا تسلی بخش جواب محض یہ کہہ دینے سے نہیں ملتا کہ “اختلاف رائے فیصلہ سازی کے عمل کا معمول کا حصہ ہے”۔
اختلاف رائے بلاشبہ ایک فطری عمل ہو سکتا ہے، لیکن اگر اختلاف کرنے والے تین میں سے دو ارکان ہوں، قانون اختلاف کی صورت میں اکثریت کی رائے کو حتمی قرار دیتا ہو، اور اس کے باوجود وہی دونوں ارکان چند ماہ بعد یہ لکھ رہے ہوں کہ ان کے فیصلے کے برعکس تبدیلی بدستور نافذ ہے، تو یہ جاننا نہ صرف جائز بلکہ ازبس ضروری ہو جاتا ہے کہ پردے کے پیچھے کیا ہوتا رہا۔
اس پورے قضیے کا دوسرا اور شاید کہیں زیادہ دور رس پہلو ووٹر لسٹ کے ڈیجیٹل نظام کا ہے۔
بھارت میں انتخابی فہرستیں پہلے بھی مرکزی ڈیجیٹل نظام “ای آر او نیٹ” پر موجود رہی ہیں، اس لیے یہ مفروضہ درست نہیں کہ انتخابی اعداد و شمار کی مرکزیت موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے دور میں پہلی مرتبہ عمل میں آئی۔ اصل سوال کہیں زیادہ دقیق اور سنگین ہے: کیا قانونی طور پر بااختیار مقامی انتخابی رجسٹریشن افسر کے پاس اپنے ہی انتخابی حلقے کی فہرست میں کوئی فیصلہ نافذ کرنے کا عملی اختیار باقی بچا ہے؟
مئی میں جوشی نے اسی صورتِ حال کو انتخابی فہرست کے اعداد و شمار کی “بتدریج مرکزیت” قرار دیتے ہوئے ایک آزادانہ آڈٹ کی تجویز پیش کی تھی، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مجاز قانونی حکام کے سوا کسی دوسرے کو ووٹر لسٹ میں رد و بدل کی رسائی حاصل نہ ہو۔ اگست میں سندھو نے بھی ریاستی انتخابی حکام کی ان شکایات کا حوالہ دیا کہ انہیں اس نظام پر مطلوبہ اختیارات میسر نہیں۔ انہوں نے کمیشن کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ونگ کے اختیارات پر بھی قانونی سوالات اٹھائے۔
اسی دوران ریاستِ گوا میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اس تکنیکی بحث کو 97 زندہ شہریوں کے بنیادی حقِ رائے دہی سے براہِ راست جوڑ دیا۔
سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق گوا کے انتخابی رجسٹریشن افسران نے ان شہریوں کی دستاویزات کی تصدیق کی جن کے ریکارڈ پر خودکار ڈیجیٹل نظام نے اعتراضات لگائے تھے۔ جانچ پڑتال کے بعد متعلقہ افسران نے 97 شہریوں کو مکمل طور پر اہل پایا۔
مگر المیہ یہ ہوا کہ ڈیجیٹل نظام میں ان خارج شدہ شہریوں کے نام بحال کرنے کی تکنیکی سہولت ہی موجود نہیں تھی۔
11 سے 17 فروری کے دوران گوا کے چیف الیکٹورل افسر کے دفتر نے آٹھ مرتبہ اعلیٰ حکام کو تحریری درخواست کی کہ نظام میں وہ آپشن فعال کیا جائے جس کے ذریعے مقامی افسر اپنے قانونی فیصلے کو ڈیجیٹل طور پر درج کر سکیں۔ مگر حتمی فہرست کی اشاعت تک یہ سہولت فراہم نہ کی جا سکی، اور وہ 97 تصدیق شدہ شہری حتمی انتخابی فہرست سے باہر ہی رہ گئے۔
یہاں “الگورتھم نے شہریوں کا ووٹ چھین لیا” کا نعرہ لگانا شاید سطحی جذباتیت کہلائے، مگر اصل حقیقت اس سے کہیں زیادہ سنگین اور تشویش ناک ہے۔
ایک بااختیار قانونی افسر نے شہری کو اہل قرار دیا، مگر مرکزی ڈیجیٹل نظام نے اس افسر کو اپنا ہی قانونی فیصلہ نافذ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔
جدید جمہوری نظام کے لیے یہ کوئی چھوٹا سوال نہیں۔
اگر قانون ایک مقامی افسر کو فیصلے کا اختیار دیتا ہے، مگر اس فیصلے کے نفاذ کے لیے درکار ڈیجیٹل رسائی کسی مرکزی دفتر کے کنٹرول میں ہے، تو پھر حقیقی اختیار کہاں ہے؟ آئین اور قانون کی کتاب میں، یا کسی ڈیجیٹل نظام کے کمانڈ کنٹرول میں؟
یہی وجہ ہے کہ سندھو اور جوشی کا اعتراض محض کسی دفتر کے کمپیوٹر سسٹم کا تکنیکی مسئلہ نہیں تھا۔ دونوں کمشنروں نے ڈیجیٹل ڈھانچے اور کام کی تقسیم میں کی جانے والی من مانی تبدیلیوں پر الگ الگ کابینہ سیکریٹری ٹی وی سومناتھن سے باضابطہ رجوع کیا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، دونوں کمشنروں نے واضح کیا کہ یہ تمام تر تبدیلیاں ان کے علم اور رضا مندی کے بغیر کی گئیں۔
اس کے بعد ایک اور حیران کن حقیقت سامنے آتی ہے کہ تینوں کمشنروں کا 9 ستمبر کو منعقد ہونے والا اجلاس گزشتہ 4 ماہ میں پہلا باضابطہ مشترکہ اجلاس تھا۔
ایک ایسے اہم دورانیے میں جب پورے ملک میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کا عمل جاری تھا، کروڑوں اندراجات کی تصدیق کی جا رہی تھی اور خود کمیشن کے دو ارکان قانونی و انتظامی اختیارات کے انحراف پر مسلسل تحریری صدائے احتجاج بلند کر رہے تھے، مکمل کمیشن کا چار ماہ تک کوئی اجلاس نہ ہونا بذاتِ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اس کے بعد مغربی بنگال کا معاملہ سامنے آتا ہے۔
وہاں خصوصی جامع نظرثانی کے نتیجے میں 27.16 لاکھ ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے خارج کیے گئے۔ ان میں سے 22.21 لاکھ شہریوں، یعنی تقریباً 82 فیصد، نے ناموں کی دوبارہ شمولیت کے لیے باضابطہ اپیلیں دائر کیں۔ مجموعی طور پر 38.31 لاکھ اپیلیں موصول ہوئیں، جن میں 16.10 لاکھ اپیلیں وہ تھیں جو پہلے سے درج شدہ ووٹروں کے خلاف دائر کر کے ان کے نام حذف کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
یہاں کمیشن کے اندر سے ایک اور سنگین سوال اٹھا۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق، سندھو نے اگست میں استفسار کیا کہ ان اپیلوں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر کرنے کی باضابطہ منظوری کس نے دی اور عملاً انہیں کس نے عدالتوں میں داخل کیا؟ انہوں نے فائل پر باقاعدہ درج کیا کہ نہ تو انہیں، نہ جوشی کو، اور نہ ہی مغربی بنگال کے موجودہ چیف الیکٹورل افسر کو اس ساری کارروائی کے پسِ پردہ محرکات یا طریقہ کار کا علم تھا۔
یہ سوال معمولی نہیں ہے:
جب الیکشن کمیشن کے نام سے لاکھوں شہریوں کے مستقبل سے جڑی قانونی چارہ جوئی ہو رہی ہو، اور خود 3 میں سے ایک آئینی کمشنر فائل پر یہ پوچھ رہا ہو کہ اس کا مجاز کون تھا، تو اس کا تحریری جواب کسی نہ کسی سرکاری فائل میں لازماً موجود ہونا چاہیے۔
مغربی بنگال کے اعداد و شمار کا ایک اور پہلو بھی خاصا تشویش ناک ہے۔ 22.21 لاکھ خارج شدہ ووٹروں نے بحالی کے لیے اپیل کی، لیکن اسمبلی انتخابات کے انعقاد تک اپیل کے ذریعے محض 1,607 ووٹروں کے نام بحال ہو سکے۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تمام 27.16 لاکھ ناموں کا اخراج غلط تھا۔ الیکشن کمیشن نے فوت شدگان، نقل مکانی کرنے والوں، مستقل غیر حاضر اور دوہرے اندراجات کے مختلف زمروں کا حوالہ دیا ہے۔
اسی طرح دستیاب انتخابی نتائج بھی کسی ایک سیاسی جماعت کے حق میں کوئی قطعی رائے قائم نہیں کرتے۔ کل 294 نشستوں میں سے 49 نشستیں ایسی تھیں جہاں حذف شدہ ووٹوں کی تعداد جیت کے حتمی فرق سے زیادہ تھی؛ ان میں سے 26 نشستیں بی جے پی اور 21 ترنمول کانگریس نے جیتیں۔ اس لیے محض موجودہ اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ الزام عائد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سارا عمل جان بوجھ کر کسی مخصوص جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے رچایا گیا تھا۔
تاہم، یہ اعداد و شمار بنیادی سوال کی سنگینی کو کم نہیں کرتے۔
اگر 27.16 لاکھ خارج شدہ ووٹروں میں سے 22.21 لاکھ افراد اپنے اخراج کو چیلنج کریں اور پولنگ کے دن تک ان میں سے صرف 1,607 افراد کو ہی شنوائی کے بعد حقِ رائے دہی مل سکے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حقِ اپیل محض کاغذی خانہ پری تھا یا عملاً بھی اس کی کوئی افادیت تھی؟
جمہوری نظام میں انتخابی انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے محرومی کے مترادف ہو جاتی ہے۔ پولنگ کا وقت گزر جانے کے بعد اگر کسی شہری کا نام فہرست میں بحال بھی کر دیا جائے، تو اسے اس کا ضائع شدہ حقِ رائے دہی کبھی واپس نہیں مل سکتا۔
اگر ان تمام واقعات کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے تو ہر ایک کے لیے شاید کوئی نہ کوئی دفتری یا انتظامی تاویل پیش کی جا سکتی ہے: فارم میں تبدیلی محض دفتری سہو، گوا کے 97 ووٹروں کا اخراج تکنیکی خرابی، 4 ماہ تک اجلاس کا نہ ہونا شدید مصروفیات کا شاخسانہ، مغربی بنگال کی اپیلیں پیچیدہ قانونی مراحل، اور 14 تحریری اعتراضات ایک معمول کا صحت مند داخلی اختلاف۔
لیکن غیر جانب دار صحافت کا فرض محض واقعات کو الگ الگ خانوں میں بانٹنا نہیں، بلکہ اس باہمی ربط کو سمجھنا ہے جو ایک ہی ادارے میں، ایک ہی مخصوص عرصے کے دوران، ایک ہی فیصلہ سازی کے عمل سے بار بار برآمد ہو رہا ہو۔
اور یہاں ابھرنے والا بنیادی سوال بالکل واضح ہے:
کیا تین رکنی الیکشن کمیشن کا اجتماعی آئینی اختیار عملی سطح پر بھی اسی طرح بروئے کار لایا جا رہا تھا جس طرح ملک کا آئین اور قانون تقاضا کرتا ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی زیادہ وزن رکھتا ہے کہ سندھو اور جوشی کسی حزبِ اختلاف کی جماعت کے نامزد نمائندے نہیں، بلکہ وہ اسی الیکشن کمیشن کے دو باوقار آئینی ارکان ہیں جن کا تقرر مروجہ قانونی طریقۂ کار کے تحت عمل میں آیا ہے۔ باہر سے لگائے جانے والے الزامات کو سیاسی قرار دے کر مسترد کیا جا سکتا ہے، مگر جب وہی سوالات ادارے کے 3 میں سے دو کلیدی فیصلہ ساز اپنی فائلوں پر تحریر کرنے لگیں تو صورتِ حال یکسر بدل جاتی ہے۔
الیکشن کمیشن نے اس پر اپنا ردِ عمل دیا ہے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ مختلف آرا، سوالات اور تجاویز کسی بھی کثیر رکنی آئینی ادارے میں غور و خوض کا فطری حصہ ہوتی ہیں، اور گزشتہ ایک سال کے دوران تمام حتمی فیصلے، بشمول خصوصی جامع نظرثانی، تینوں کمشنروں نے باہمی اتفاقِ رائے سے کیے۔ کمیشن کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 40 اصلاحی اقدامات اجتماعی طور پر نافذ کیے گئے۔
یہ مؤقف بلاشبہ قابلِ ذکر ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
تاہم یہ وضاحت پرانے خدشات کو دور کرنے کے بجائے مزید کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
اگر تمام حتمی فیصلے واقعی باہمی اتفاق سے ہوئے، تو پھر وہ 14 تحریری اعتراضات کس طرح نمٹائے گئے؟
فارم چھ کے حوالے سے دو کمشنروں کی واضح قانونی مخالفت کے باوجود متنازع تبدیلی کس کے حکم سے برقرار رہی؟
گوا کے 97 اہل شہریوں کے معاملے میں مقامی افسران کو برقی تصحیح کا اختیار بروقت کیوں میسر نہ ہو سکا؟
مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن کے نام پر دائر کی جانے والی اپیلوں کی باضابطہ قانونی اجازت کس نے جاری کی؟
مرکزی ڈیجیٹل نظام کے آزادانہ آڈٹ کی تجویز کا کیا بنا؟
اور جس عرصے میں یہ تمام سنگین اختلافات سر اٹھا رہے تھے، اس دوران مکمل کمیشن 4 ماہ تک ایک میز پر کیوں نہ بیٹھ سکا؟
اگر ان سوالات کے شفاف دستاویزی جوابات موجود ہیں تو انہیں قوم کے سامنے لایا جانا چاہیے۔
یہاں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی ذات اس لیے مرکزِ نگاہ بنی ہے کہ وہ ادارے کے سربراہ ہیں اور یہ تمام واقعات انہی کے دور میں رونما ہوئے۔ تاہم، کسی ادارے کے سربراہ کے دور میں انتظامی یا قانونی بے ضابطگیوں کا سامنے آنا ایک الگ امر ہے، اور اس سربراہ پر کسی مخصوص سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کا الزام لگانا بالکل دوسرا معاملہ۔
موجودہ دستاویزات پہلے نکتے پر سنگین سوالات ضرور اٹھاتی ہیں، مگر دوسرے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے تا حال کوئی براہِ راست اور ٹھوس دستاویزی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
اس باریک فرق کو ملحوظِ خاطر رکھنا صحافتی دیانت اور عدل کا بنیادی تقاضا ہے۔
ان انکشافات کے بعد حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف استعفے، برطرفی اور قانونی کارروائی کے تند و تیز سیاسی مطالبات شروع کر دیے ہیں۔
مگر محض سیاسی بیانات کسی معاملے کا حتمی ثبوت نہیں ہو سکتے۔
اسی طرح الیکشن کمیشن کا یہ یک طرفہ اعلان بھی ان 14 اعتراضات کا تشفی بخش جواب نہیں بن سکتا کہ “تمام فیصلے متفقہ تھے”۔
ان دو انتہاؤں کے درمیان صرف ایک ہی مستند پیمانہ باقی بچتا ہے جس پر ایک جمہوری نظام کو مکمل اعتماد ہونا چاہیے، اور وہ ہے غیر جانب دارانہ دستاویزی ریکارڈ۔
ہر اعتراض کے سامنے اس کا باضابطہ جواب درج ہو۔
ہر متنازع حکم نامے کے سامنے اس کی تحریری منظوری موجود ہو۔
ہر قانونی اعتراض کے تعاقب میں مجاز قانونی رائے سامنے آئے۔
ہر ڈیجیٹل رد و بدل کے پیچھے آئینی اختیار کا واضح حوالہ ہو۔
اور ہر متفقہ فیصلے کے پیچھے وہ دستاویزی مرحلہ موجود ہو جہاں تمام تر اختلافات اتفاقِ رائے میں تبدیل ہوئے۔
یہ شفافیت کا مطالبہ الیکشن کمیشن کو کمزور کرنے کی کوشش ہرگز نہیں، بلکہ اگر کمیشن کا مؤقف درست ہے تو یہی دستاویزی ثبوت اس کے ادارہ جاتی وقار کے تحفظ کا سب سے بڑا ضامن بنیں گے۔
لیکن حقائق کو منظرِ عام پر لائے بغیر محض زبانی دعوؤں پر اکتفا کرنا ممکن نہیں۔
کیونکہ یہ معاملہ صرف الیکشن کمیشن کے فیصلوں تک محدود نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے نام پر فیصلہ سازی کی باگ ڈور عملاً کس کے ہاتھ میں تھی۔
اگر 3 رکنی آئینی ادارے کے 2 ارکان 10 ماہ کے قلیل عرصے میں 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کرائیں؛ اگر وہ مراسلات کے غیر مجاز اجرا پر صدائے احتجاج بلند کریں؛ اگر قانونی فارم میں تبدیلی پر 2 ارکان کے تحریری فیصلے کو نظر انداز کر دیا جائے؛ اگر ووٹر لسٹ کے ڈیجیٹل نظام کی مرکزیت پر سنگین سوالات اٹھائے جائیں؛ اگر کمشنروں کو کابینہ سیکریٹری تک سے رجوع کرنا پڑے؛ اور اس سب کے دوران کمیشن کا مکمل اجلاس 4 ماہ تک معطل رہے، تو اسے محض “صحت مند داخلی تنوع” قرار دینا خود آئینی عمل کی سنگینی سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔
اس نازک موڑ پر کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل ایک آزاد، جامع اور شفاف دستاویزی جانچ پڑتال وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
بھارت کا الیکشن کمیشن محض کوئی روایتی سرکاری محکمہ نہیں۔ کروڑوں عوام کے لیے یہ اس بنیادی جمہوری حق کا محافظ ہے کہ کون ووٹ کا اہل ہوگا، کس کا نام فہرست میں درج رہے گا، کس کا نام خارج ہوگا، اور عوامی نمائندوں کے انتخاب کا شفاف میدان کس طرح فراہم کیا جائے گا۔
ایسے حساس ادارے پر عوام کا اعتماد محض پریس ریلیز یا اخباری بیانات سے قائم نہیں رہ سکتا۔
اعتماد اسی وقت بحال ہوتا ہے جب فیصلے بااختیار فورم سے ہوں، قانونی عمل مکمل طور پر شفاف ہو، اختلافِ رائے کو محفوظ کیا جائے، عددی اکثریت کا احترام لازم ہو، اور ہر فیصلے کے پسِ پشت آئینی منظوری کا واضح ثبوت موجود ہو۔
آج الیکشن کمیشن کے سامنے اصل چیلنج شاید یہ نہیں کہ اس کے اندر اختلاف رائے کیوں پیدا ہوا۔
اختلافِ رائے تو جمہوری اداروں کی حیات اور فکری وسعت کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
اصل اور بنیادی سوال تو یہ ہے:
جب تین میں سے دو کمشنر ان فیصلوں پر معترض تھے، تو الیکشن کمیشن کے نام سے یہ تمام فیصلے آخر کون نافذ کر رہا تھا؟
اور اگر کمیشن کا یہ دعویٰ درست ہے کہ تمام فیصلے بالآخر متفقہ طور پر ہی طے پائے تھے،
تو پھر وہ تمام تر خفیہ سرکاری فائلیں قوم کے سامنے کھولی جانی چاہئیں جو یہ ثابت کر سکیں کہ وہ 14 سنگین تحریری اعتراضات کس قانونی عمل کے تحت اتفاقِ رائے میں تبدیل ہوئے۔
کیونکہ ایک خود مختار الیکشن کمیشن سے صرف شفاف انتخابات کا انعقاد ہی مطلوب نہیں ہوتا،
بلکہ یہ بھی اولین تقاضا ہوتا ہے کہ وہ خود بھی انہی آئینی اصولوں، اجتماعی اختیار اور کڑے احتساب کے دائرے میں کام کرے جن کی نگہبانی کا حلف خود اس ادارے نے اٹھا رکھا ہے۔