*دعائیہ کلمات پر تادیب اور ڈاکٹر بشریٰ بانو کا تبادلہ*
*محمد ہاشم القاسمی* (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)موبائل 9933598528
مغربی بنگال میں تعینات ایک باصلاحیت مسلم آئی پی ایس افسر، ڈاکٹر بشریٰ بانو کا محض دعائیہ اور روایتی کلمات ادا کرنے پر تنازع کا شکار ہونا اور اس کے فوراً بعد ان کا تبادلہ کر دیا جانا ملک کی بیوروکریسی، آئینی آزادی اور سیکولر اقدار پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ڈاکٹر بشریٰ بانو، جنہوں نے سعودی عرب میں ایک پرآسائش ملازمت ترک کر کے ملک کی خدمت کا بیڑا اٹھایا اور یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC) کا باوقار امتحان دو مرتبہ کامیابی سے پاس کیا، آج ایک منظم آن لائن مہم اور امتیازی رویے کا نشانہ بنی ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر بشریٰ بانو نے سوشل میڈیا (X) پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ریزیڈنشل کوچنگ اکیڈمی سے ملنے والی مدد کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ کو سول سروسز کے امتحانات کی تیاری کے لیے حوصلہ افزائی کر رہی تھیں۔ بشریٰ بانو کی ویڈیو میں ان کے سول سروسز تک پہنچنے کے سفر پر خاص توجہ دی گئی تھی۔ وہ سول سروسز میں آنے سے قبل سعودی عرب میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کرچکی ہیں۔ انہوں نے اپنی تیاری کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ریزیڈنشیل کوچنگ اکیڈمی (RCA) سے ملنے والی سہولیات کا ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ سول سروسز کی تیاری میں انہیں مطالعاتی مواد، ٹیسٹ سیریز اور لائبریری تک رسائی سمیت مختلف سہولیات سے فائدہ ہوا۔ ان کی ویڈیو کا بنیادی موضوع ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی سے سول سروسز تک پہنچنے کا سفر تھا۔ اعتراض یہ ہے کہ ویڈیو کے آغاز میں انہوں نے “السلام علیکم” کہا، دورانِ گفتگو “انشاء اللہ” اور آخر میں “جزاک اللہ” جیسے روایتی دعائیہ الفاظ استعمال کیے۔ اس پر ‘ہندو لیگل فنڈ’ نامی ایک ہندوتوا تنظیم نے مغربی بنگال کے ہوم سکریٹری کو شکایت درج کروائی کہ ایک سرکاری افسر کو عوامی پیغام میں مذہبی کلمات کے بجائے قومی نعرے جیسے “جئے ہند” یا “وندے ماترم” استعمال کرنے چاہئیں۔
اس عمومی اور بے ضرر گفتگو کو بنیاد بنا کر ہندوتوا سے وابستہ حلقوں نے بشری بانو کے خلاف زہریلی مہم چلائی۔
انہیں اس لیے تنقید کا نشانہ بنایا گیا چونکہ انہوں نے روایتی حب الوطنی کے نعرے استعمال نہیں کیے۔ سدرشن نیوز جیسے اداروں نے اس معاملے کو اپنی پرانی زہریلی تھیوری ’’یو پی ایس سی جہاد‘‘ کا رنگ دینے کی کوشش کی، اور ’’ہندو لیگل فنڈ‘‘ کی جانب سے مغربی بنگال کے ہوم سیکریٹری کو باقاعدہ شکایت ارسال کی گئی۔ حیران کن بات یہ رہی کہ حکومت نے قابل افسر کا دفاع کرنے کے بجائے شکایت کے اگلے ہی دن اس افسر کا تبادلہ کر دیا۔
اس واقعے نے پورے ملک میں سیاسی اور سماجی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی تیز تررار رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے اس پر دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیا کہ جہاں ایک طرف حکومت بین الاقوامی سربراہ اجلاسوں میں پرئیر روم بنا کر سیکولرزم کی تشہیر کرتی ہے، واضح رہے کہ حال ہی میں نئی دہلی میں تعمیر کیے گئے جدید ترین کنونشن سینٹر ‘بھارت منڈپم’ میں عالمی تقاریب اور سمٹس کے دوران مسلم مندوبین اور دیگر وفود کے لیے باقاعدہ پرئیر رومز اور وضو وغیرہ کے لیے موزوں سہولیات کا انتظام رکھا گیا تھا تاکہ وہ اجلاس کی مصروفیات کے دوران بروقت نماز ادا کر سکیں۔ حکومت اور انتظامیہ ایسے عالمی فورمز پر بھارت کے کثیر مذہبی اور رواداری پر مبنی تشخص کو اجاگر کرتی ہے، جہاں ہر عقیدے کے احترام اور بنیادی آزادی کا عملی نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ملکی مباحثوں اور عوامی بیانات میں ناقدین اکثر اس کا حوالہ دیتے ہیں کہ جب حکومت عالمی سربراہ اجلاسوں میں بین الاقوامی وفود کی مذہبی ضروریات کا مکمل خیال رکھتی ہے اور اسے سیکولرزم کی علامت کے طور پر پیش کرتی ہے، تو اندرونِ ملک بھی سرکاری اہلکاروں اور شہریوں کے انفرادی عقیدے اور دعائیہ کلمات کے احترام کا وہی پیمانہ برقرار رہنا چاہیے۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم خاتون افسر کو ان کی ذاتی زبان اور ثقافتی اظہار کی بنیاد پر الگ تھلگ کیا جا رہا ہے”۔ جبکہ جمہوری حکومت اور آئینِ ہند کی رو سے عوام سے خطاب کے دوران السلام علیکم، آئندہ کے کسی ارادے پر ان شاء اللہ، یا کسی کے اچھے برتاؤ پر جزاک اللہ کہنا بالکل بھی غیر قانونی یا جرم نہیں ہے۔ آئینی تحفظ (دفعہ 19 اور 25): آئین ہند کی دفعہ 19(1)(a) ہر شہری کو آزادیٔ اظہارِ رائے دیتی ہے اور دفعہ 25 ضمیر اور مذہب کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ اپنی گفتگو میں مذہبی، تہذیبی یا لسانی الفاظ کا استعمال مکمل طور پر اس حق کے دائرے میں آتا ہے۔ ہندوستان کی تعزیرات (یا نئے نافذ شدہ قوانین) میں ایسا کوئی ضابطہ موجود نہیں ہے جو کسی بھی زبان کے شائستہ اور دعائیہ الفاظ ادا کرنے پر پابندی لگاتا ہو۔ یہ الفاظ امن، سلامتی، دعا اور شکر گزاری کا مفہوم رکھتے ہیں جن میں کسی بھی قسم کی قانون شکنی کا کوئی پہلو نہیں پایا جاتا۔ جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں رکھی جاتی کہ وہ اپنی انفرادی یا مذہبی شناخت کو مٹا کر بات کریں۔ جس طرح دیگر مذاہب اور طبقات کے لوگ اپنے روایتی الفاظ (جیسے نمستے، جے ہند، پرنام، گاڈ بلیس یو) آزادی سے ادا کرتے ہیں، اسی طرح سلام اور دعائیہ کلمات کہنا بھی عام اور جائز حق ہے۔
سوشل میڈیا یا عوامی مباحثوں میں بعض تنگ نظر عناصر کی جانب سے ایسی باتوں پر اعتراض یا بیانات محض سیاسی و سماجی تعصبات کا نتیجہ ہوتے ہیں، ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ آپ قانوناً اور جمہوری طور پر یہ تمام کلمات ادا کرنے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے بھی اس اقدام کو نفرت کے آگے حکومتی ہتھیار ڈالنے سے تعبیر کیا اور آئی پی ایس ایسوسی ایشن سے اس غیر منصفانہ رویے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
اس پورے تنازعے نے ملک کے انتظامی ڈھانچے میں موجود تضادات کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ ناقدین اس کی مثال اتر پردیش کے پولیس افسر انوج چودھری سے دے رہے ہیں، جنہوں نے پولیس کی وردی میں نہ صرف مذہبی رتھ یاترا میں شرکت کی بلکہ ہاتھ میں گدا بھی اٹھائے نظر آئے، مگر تادیبی کارروائی کے بجائے انہیں ترقی سے نوازا گیا۔ اس کے برعکس، بشریٰ بانو کی جانب سے محض سلام اور دعائیہ کلمات کا استعمال حکام کو ناگوار گزرا۔
آئینی اقدار اور تنوع پر ضرب
جیسا کہ سابق بیوروکریٹ آشیش جوشی نے بجا طور پر نشان دہی کی، بھارت کی اصل طاقت اس کے کثیر الثقافتی اور تکثیری وجود میں ہے۔ سرکاری وردی پہننے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایک شہری یا افسر اپنی مذہبی اور لسانی شناخت سے دستبردار ہو جائے۔ ڈاکٹر بشریٰ بانو کا کلمات کا انتخاب ان کے ذاتی عقیدے کا مظہر تھا، نہ کہ اپنے فرائض یا ملک سے انحراف کا ثبوت۔
جب سوشل میڈیا کے متعصبانہ ٹرولز اور زرد صحافت کے دباؤ میں آ کر انتظامیہ اپنے ہی مخلص اور محنتی افسران کی منتقلی پر اتر آئے، تو اس سے پورے بیوروکریٹک نظام میں مایوسی اور تفریق کا پیغام جاتا ہے۔ ہندوستان کے وسیع تر مفاد میں یہ ضروری ہے کہ میرٹ، آئینی تحفظ اور رواداری کو تنگ نظری اور فرقہ وارانہ دباؤ پر ترجیح دی جائے۔ ڈاکٹر بشریٰ بانو کا تعلق ریاست اتر پردیش کے ضلع قنوج سے ہے۔ وہ 1980 کی دہائی کے اوائل میں ایک روایتی اور تعلیم دوست خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی اسکول کی تعلیم اپنے آبائی علاقے (قنوج/علی گڑھ) کے مقامی اسکولوں سے حاصل کی۔ اسکول کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) کا رخ کیا۔ وہاں سے انہوں نے گریجویشن کے بعد ایم بی اے (MBA) کیا اور بعد ازاں بزنس ایڈمنسٹریشن/مینجمنٹ کے شعبے میں پی ایچ ڈی (PhD) کی ڈگری مکمل کی، جس کی بدولت ان کے نام کے ساتھ ’ڈاکٹر‘ کا سابقہ لگتا ہے۔ پی ایچ ڈی کے بعد انہوں نے تدریس کا پیشہ اختیار کیا اور سعودی عرب کی ایک معروف یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی شادی ڈاکٹر اسمر حسین سے ہوئی، جو خود بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تدریسی شعبے سے وابستہ رہے ہیں۔ دو بچوں کی والدہ ہونے اور تدریسی مصروفیات کے باوجود انہوں نے سول سروسز کی تیاری شروع کی۔
انہوں نے ملازمت ترک کر کے وطن واپسی کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ریزیڈنشل کوچنگ اکیڈمی (RCA) سے رہنمائی لی۔ 2018 کے یو پی ایس سی امتحان میں ابتدائی کامیابی (آئی آر پی ایس وغیرہ) کے بعد دوبارہ کوشش کی اور UPSC CSE 2020 (2021 بیچ) میں 277 واں رینک حاصل کر کے انڈین پولیس سروس (IPS) کے لیے منتخب ہوئیں۔ 2021 بیچ کی آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کا تعلق مغربی بنگال کیڈر سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعیناتی ہوگلی رورل میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر ہوئی تھی۔ رواں سال جون میں انہیں ترقی دے کر ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بنایا گیا تھا اور اس کے بعد انہیں کھڑگ پور میں تعینات کیا گیا۔تازہ حکم کے بعد اب بشریٰ بانو اسٹیٹ آرمڈ پولیس کی چوتھی بٹالین میں ڈپٹی کمانڈنٹ کے عہدے پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔مغربی بنگال اسٹیٹ آرمڈ پولیس (SAP) کی 4th بٹالین کا ہیڈکوارٹر قصبہ، رائے گنج (ضلع اتر دیناج پور) میں واقع ہے۔***










