*کلٹی کی معروف شخصیت عقیل احمد کو صدمہ* سماجی و تعلیمی حلقوں میں یہ خبر افسوس کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ کلٹی کی معروف سماجی شخصیت اور مسلم میرج رجسٹرار عقیل احمد کی والدہ مختصر سی علالت کے بعد اس جہان آب و گل کو خیرباد کہہ کر اپنے معبود حقیقی سے جا ملیں۔ سوموارکے دن بعد نماز ظہر برلا قبرستان کلٹی میں سپرد خاک کی گئیں۔ ان کے آخری سفر میں ہرمکتبہ فکر کے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد موجود رہی۔ عقیل احمد کے مطابق موت کی وقت ان کی والدہ کی عمر تقریباً 80 سال تھی مگر اس عمر میں بھی بالکل چاک وچوبند اور صوم صلوۃ کی پابند تھی یہاں تک کہ تہجد،چاشت اور اشراق کی نمازوں کی بھی پابندی کیا کرتی تھی۔ گذشتہ مہینے آنت کی تکلیف میں مبتلا ہوئی۔ مرض کی شدت بڑھنے پر دس دن قبل مقامی اسپتال میں داخل کرائی گئیں جہاں کامیاب آپریشن بھی ہوا مگر پھر طبیعت ایسی بگڑی کہ جانبر نہ ہوسکیں۔ پسماندگان میں تین بیٹے شکیل احمد،عقیل احمد اور ماسٹر قتیل احمد کے علاؤہ دوشادی شدہ بیٹیاں،پوتا،پوتی،نواسہ نواسی سمیت بھرا پرا خاندان شامل ہے۔واضح ہوکہ عقیل احمد کے والد کا انتقال 2004 میں ہی ہوچکا ہے۔










