*ٹی آر ایس کے شدیداحتجاج پر سنگارینی انتظامیہ مذاکرات پر مجبور*
*ورکرس کے مسائل کی یکسوئی کے لئے 60 یوم کی مہلت،بصورت دیگر بھوک ہڑتال منظم کرنے کویتا کا اعلان*
*انحصاری ملازمتیں مزدوروں کا حق، خیرات نہیں۔ 11 اہم مطالبات پیش*
حیدرآباد: ریڈ ہلز، سنگارینی بھون کے گھیراؤ اور احتجاج کے بعد سنگارینی کالریز کمپنی لمیٹڈ (SCCL) کا انتظامیہ، ٹی آر ایس کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوگیا ہے اورتلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا کے ساتھ باضابطہ مذاکرات شروع کردیئے گئے ہیں۔ HMS اور تلنگانہ رکشنا سینا (TRS) کے پرچم تلے کوئلہ کانوں کے مزدوروں، لیبر قائدین اور پارٹی کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے سنگارینی بھون کا گھیراؤ کیا۔کلواکنٹلہ کویتا نے سینکڑوں کارکنوں کی قیادت کرتے ہوئے سنگارینی کے 40 ہزار ملازمین کے مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیا اور انتظامیہ کو تمام زیر التوا مطالبات کی یکسوئی کے لئے 60 دن کی مہلت دی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات حل نہ کئے گئے تو وہ سنگارینی بھون کے سامنے ہی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کردیں گی۔احتجاجی مقام پر بڑی تعداد میں موجود مزدوروں اور پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے انتظامیہ کے رویہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس اور HMS مشترکہ طورپر سنگارینی کے 40 ہزار ورکرس کے جائز مسائل کے حل کے لئے احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے ڈیپینڈنٹ یا انحصاری ملازمتوں کی منظوری سے بچنے کی انتظامیہ کی کوششوں پر شدید تنقید کی اور واضح کیا کہ انحصاری ملازمتیں مزدوروں کا مکمل حق ہے۔یہ کوئی خیرات نہیں جو انہیں دی جارہی ہے۔احتجاج کے دوران کلواکنٹلہ کویتا نے انتظامیہ کے سامنے ورکرس کے 11 اہم مطالبات پیش کئے۔ ان میں سنگارینی کے منافع میں سے 35 فیصد حصہ/بونس براہ راست ورکرس کو دینے، میڈیکل بورڈ کے لئے درخواست دینے والے تمام ورکرس کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر ان فٹ قرار دینے، ہر ماہ مستقل طور پر دو مرتبہ میڈیکل بورڈ منعقد کرنے اور عرفی ناموں سے درج ملازمین کے زیر التوا سروس اور شناخت سے متعلق تمام مسائل حل کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔
اسی طرح تمام خالی جونیئر اسسٹنٹ عہدوں کو فوری طور پر پُر کرنے، ویجلنس انکوائری کے نام پر روکی یا بلاجواز تاخیر کا شکار انحصاری ملازمتیں فراہم کرنے، اپنے گھر کی اسکیم (Sonti Inti Pathakam) کے تحت ہر ورکر کو 2 گنٹے زمین فراہم کرنے، سنگارینی کی توسیع کے لئے نئے کوئلہ بلاکس حاصل کرکے مختص کرنے، سنگارینی ورکرس کے لئے انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے، کنٹراکٹ مزدوروں کو ہائی پاور کمیٹی کی سفارشات کے مطابق اجرت فراہم کرنے اور حکومت کی جانب سے سنگارینی کو واجب الادا 62 ہزار کروڑ روپئے فوری طور پر جاری کرکے بقایاجات کی ادائیگی کے مطالبات بھی شامل ہیں۔مزدوروں کے شدید احتجاج اور سنگارینی بھون کے سامنے بڑے پیمانے پر جمع ہونے والے کارکنوں کے دباؤ کے بعد سنگارینی انتظامیہ نے فوری طور پر اپنے نمائندوں کو مذاکرات کے لئے بھیجا۔ انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات کے آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے واضح کیا کہ مزدوروں کے جائز مطالبات کی تکمیل کے لئے 60 دن کی مہلت دی گئی ہے۔
کویتا نے دوٹوک انداز میں خبردار کیا کہ اگر ان 60 دنوں کے اندر سنگارینی مزدوروں کے جائز مطالبات مکمل طور پر حل نہیں کئے گئے تو وہ سنگارینی بھون کے سامنے ہی بیٹھ کر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کردیں گی۔










