*🕌 حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی وفات پر تعزیتی نشست*
آسنسول | ۱۱ اکتوبر ۲۰۲۶ء، بروز اتوار
حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندویؒ کی وفات پر مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات، آسنسول کے صدیقہ ہال میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی، جس کی صدارت استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد اسرائیل صاحب مظاہری، ناظمِ تعلیمات مدرسہ اسلامیہ عربیہ، برنپور نے فرمائی۔

نشست کا آغاز حضرت مفتی قاری شمیم الدین صاحب کی تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا، جب کہ ماسٹر آصف انور صاحب نے نعتِ رسول مقبول ﷺ پیش کی۔
اس موقع پر شہر آسنسول کے مؤقر علماء و ائمہ نے حضرت مولانا مرحوم کی علمی و دینی خدمات، اخلاقِ حسنہ اور تدریسی و تصنیفی کمالات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حضرت مولانا محمد توقیر ذکی ندوی صاحب، ناظم مدرسہ ہٰذا نے حضرت مولانا مرحوم کی نماز اور تکبیرِ اولیٰ سے غیر معمولی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں یہ بات مشہور تھی کہ گزشتہ پچاس برسوں میں ان کی تکبیرِ اولیٰ کبھی فوت نہیں ہوئی۔
حضرت مولانا نیاز احمد ندوی صاحب نے اپنے ذاتی استفادے کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مولانا مرحوم کی علمی وجاہت، منکسر المزاجی، بردباری اور مہمان نوازی کو اجاگر کیا۔
حضرت مولانا مفتی زبیر احمد صاحب قاسمی، قاضیِ شریعت ضلع پچھم بردوان نے تدریس، تقریر و تحریر میں حضرت مولانا کی مہارت اور عربی ادب پر ان کی غیر معمولی دسترس کو ان کا نمایاں امتیاز قرار دیا۔
صدرِ مجلس حضرت مولانا محمد اسرائیل صاحب مظاہری نے ان کی تصنیفات کو تبحرِ علمی کا مظہر قرار دیتے ہوئے وقت کی پابندی کو ان کی نمایاں خصوصیات میں شمار کیا۔
ان کے علاوہ حضرت مولانا مفتی سعید اسعد صاحب قاسمی، حضرت مولانا ایڈوکیٹ عظیم الشان صاحب ندوی، حضرت مولانا شاہد صدیقی صاحب ندوی اور حضرت مولانا مفتی ثاقب صاحب ندوی کریک نے بھی اپنے تاثرات پیش کیے۔
نشست کی نظامت جواں سال عالمِ دین حضرت مولانا مفتی محمد ہشام صاحب ندوی نے فرمائی، جب کہ اختتام صدرِ مجلس کے حکم پر حضرت مولانا تابشِ فرحان ندوی صاحب کی پُرسوز دعا پر ہوا۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے اور تمام پسماندگان، تلامذہ و متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!
✍️ رودادِ نشست:
*أشرف علی مظاہری*
مدرس، مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات، آسنسول










