Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ووٹ ایک مقدس امانت اور بارِ گراں ہے*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

محمد ہاشم القاسمی (خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)

ووٹ ایک مقدس امانت اور بارِ گراں ہے۔ ووٹ سے حکومتیں بنتی اور بدلتی ہیں، ووٹ کی طاقت سے ملک کی تقدیروں کے فیصلے ہوتے ہیں، جمہوری نظام کی بنیاد منصفانہ الیکشن اور ووٹنگ مشین کے بٹن کا صحیح استعمال سے ہوتا ہے۔ عوام کی طاقت، فیصلے، جذبات اور بیانیے کا اظہار ووٹ ہے ۔ ہمارے ملک ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑے پارلیمنٹری اور غیرمذہبی (سیکولر) جمہوری ملک ہونے کا شرف حاصل ہے۔ہمارے ملک کا آئین ایسا جامع اور مکمل ہے، جس میں ملک میں بسنے والے شہریوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے کیلئے با اختیار بنایا گیا ہے، ہر ایک کو آزادی رائے اور آزادی خیال کی مکمل اجازت دی گئی ہے اور اس کے شخصی تحفظ کی بھی ضمانت دی گئی ہے. مگر ہمارے معاشرے میں ووٹ کا درست استعمال بہت کم ہوتا ہے. اور اگر ہوتا بھی ہے تو ہمارے ووٹ کا استعمال ذات، برادری اور ذاتی منفعت کے لیے ہو گئی ہے۔ ہمارے ووٹ قبیلوں، برادریوں، عصبیتوں، دھڑا بندیوں اور منافرت کے بندھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ہم انتخابی امیدواروں کو ملک کی قیادت، اہلیت اور صلاحیت کی کسوٹی پر پرکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ ہم خود اپنے ہاتھوں اور اپنے ووٹ سے نااہل، ظالم، جابر، کرپٹ، رؤسا، امراء، جاگیرداروں اور وڈیروں کو اپنے اوپر مسلط کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ کہیں کہیں ووٹ کی بولی بھی لگتی ہے اور وہ معمولی و بھاری رقوم کے عوض بھی خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔ اس سارے سلسلے میں ملک کا مفاد سب سے آخری ترجیح ہوتی ہے۔ہمارے معاشرہ میں ایک اور المیہ یہ بھی ہے کہ بہت سے شرفاء اور پُرامن لوگ ووٹ کاسٹ کرنے سے ڈرتے ہیں چونکہ کبھی کبھار ملک کے کئی حلقوں میں الیکشن کے دن خون کی ہولی بھی کھیلی جاتی ہے۔ ہمارے اندر سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ ہم دیانتدار، علماء، دانشور، محقق، سائنس داں، ادباء، معلمین اور مڈل کلاس لوگوں کو ووٹ دینا پسند نہیں کرتے۔ حالانکہ سیاسی شعبدہ بازوں کے مقابلے میں مثبت، ترقی پسند، تعمیری سوچ کی ملک کو زیادہ ضرورت ہے۔
ہندوستان اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دوراہے پر کھڑا ہے، ایک طرف ملک کی سالمیت اور گنگا جمنی تہذیب کے حامیوں کی سیاست پر یقین رکھنے والے ہیں تو دوسری طرف مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے کی روایتی سیاست کو اپنے انجام تک پہنچانے میں ہمہ تن مصروف عمل ہیں۔ اس نازک موقع پر مخلص، اہل، دانشور اور ایماندار شخصیات کو ووٹ دینا ہمارا دینی، ملی، اخلاقی، فریضہ ہے ، چاہے ان کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو۔کسی کے ظاہری نعروں، ملک میں نفرت کے بیج بونے والوں اور ملک کے غیر جانبدار اداروں کے غلط استعمال کرنے والوں کی طاقت سے مرعوب نہ ہوں۔ ہندوستان کی دستور کی بقا کا خیال کیجیے۔ آپ کے ووٹ سے وہ لوگ منتخب نہ ہوں جو کرپشن کو فروغ دیں، مذہب کے نام پر نفرت پھیلائیں، محدود سوچ رکھیں، اور نہ ہی مذہبی انتہاپسندی اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو ووٹ دیں ۔ بلکہ معتدل، امن پسند، اور سیکولر قیادت تلاش کیجیے۔ ایماندار اور راست سوچ کے حامل لوگوں کو مسند اقتدار تک پہنچائیے۔
آپ کے ایک کے ووٹ سے قوم کے مقدر کا فیصلہ کرنا ہے۔ حب الوطنی، امن، بھائی چارہ، گنگا جمنی تہذیب، سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور مضبوط معیشت کو فروغ دینے والوں کو ان 100 کروڑ 40 لاکھ میں سے تلاش کیجیے اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچائیے۔ پارلیمنٹ کی نئی عمارت اہل قیادت کی راہ تکتے ترس رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے عوام کے ووٹوں سے منتخب قیادت نے ان ممالک کو ترقی کی منزلوں سے ہمکنار کر دیا ہے۔ آپ کا ووٹ قوم کی امانت ہے۔ مالک روز جزا آپ سے سوال کرے گا۔ ووٹ ڈالنا اور اہل افراد کو ووٹ دینا قومی ذمے داری اور مذہبی فریضہ ہے۔ آئیے امانت داروں کو ان کا حق دیں اور اپنے مہان بھارت کو اہل قیادت عطا کریں۔***