Home » *پروقار تقریب کے دوران علم وادب کے روشن ستاروں کے ہاتھوں ، امتیازاحمدانصاری کااولین سائنسی مضامین کا مجموعہ “حیرت انگیز اور دلچسپ سچائیاں “اجراء عمل میں آیا*
*پروقار تقریب کے دوران علم وادب کے روشن ستاروں کے ہاتھوں ، امتیازاحمدانصاری کااولین سائنسی مضامین کا مجموعہ “حیرت انگیز اور دلچسپ سچائیاں “اجراء عمل میں آیا*
اسنسول دی سیٹی آف برادر ہڈ سے تعلق رکھنے والےاپنی ذات میں انجمن سمیٹے معلم،ناظم،شاعر،نثرنگار،صحافی اور بچوں کے ادیب امتیازاحمد انصاری کااولین سائنسی مضامین کا مجموعہ “حیرت انگیز ودلچسپ سچائیاں”کااجراء اتوار کے دن آسنسول رحمانیہ ہائی اسکول کے بڑے ہال میں انجمن ترقی اردو ہند،ضلع پچھم بردوان ،آسنسول کے زیراہتمام دودرجن سے زائد کتابوں کے خالق،تقریباً400مضامین کے مصنف،نثر نگار اور گورنمنٹ ٹیچرس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے سابق پرنسپل الحاج عبدالودود انصاری کے ہاتھوں اسکائی لائن یونیورسٹی شارجہ(یواے ای)ڈاکٹر ریاض احمد،سخنواران جھاڑکھنڈ کے خالق اور رسالہ رنگ کے مدیر ڈاکٹر اقبال حسین،بزرگ افسانہ نگار،محقق الحاج ڈاکٹر عشرت بیتاب،مغربی بنگال اردواکاڈمی کےارکان میں شامل شکیل انوراور کہکشاں ریاض خوشی،ریسرچ اسکالر اور آر کے مشن پرولیا کے معلم محمدانوارالحق،وارڈ 28کے کونسلر غلام سرور،وارڈ 25کےکونسلر ایس ایم مصطفیٰ،وارڈ 24کی کونسلر فنصبی عالیہ،ایڈوکیٹ محمد سمیع الدین،بزرگ شاعرعراج الاسلام معراج کی موجودگی میں ہوا۔رسم ورونمائی کی اس پروقار تقریب کی صدارت معمر افسانہ نگار،بچوں کی کہانیوں کے نمائندہ قلمکار الحاج نذیراحمد یوسفی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض شاعرہ،ادیبہ اور رانی گنج ٹی ڈی بی کالج کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرصابرہ خاتون حنا نے بحسن وخوبی انجام دیا۔پروگرام کاآغاز جہانگیری محلہ مسجد کے امام وخطیب الحاج مفتی شکیل الرحمن قاسمی کے تلاوت کلام پاک سے ہوا جبکہ مترنم آواز کے مالک نوجوان ابوفیضان نے سرورکونین کے حضورنعت پاک کا نذرانہ پیش کیا۔معروف غزل سنگر محمد حفیظ نے امتیازاحمدانصاری کی خوبصورت غزل کو اپنی مدھرآواز میں پیش کرکے دادوتحسین حاصل کیا۔بعدازاں انجمن کے سکریٹری ماسٹر محمد سلیمان نے خیرمقدمی کلمات ادا کئے جبکہ ریسرچ اسکالر محمدانوارالحق نے افتتاحی تقریر کے دوران امتیازاحمد انصاری کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔شکیل انور نے امتیازاحمدانصاری کو کثیرالجہات شخصیت سے تعبیر کرتے ہوئے انکےسائنسی مضامین کے حوالے سے ان کی تحریر کی خوبیوں کو بیان کیا۔کہکشاں ریاض خوشی نے بھی انکے مضامین پر حاصل سیر گفتگو کیا۔ڈاکٹر عشرت بیتاب نے امتیازاحمدانصاری جیسے شاگرد پر فخر کرتے ہوئے اس اولین مجموعہ کےساتھ انکی دیگر دوکتابوں کےزیرترتیب ہونے کی خوشخبری سنائی۔ڈاکٹر ریاض احمد نے مصنف سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکرکرتے ہوئے انکی صلاحیتوں پرانگریزی میں ایک توضیحی نظم بھی پیش کیا۔عبدالودودانصاری نے اپنی گفتگو کے دوران جہاں ایک طرف آسنسول اور رحمانیہ ہائی اسکول سے خصوصی وابستگی کا ذکر کیا وہیں اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ مورخ جب کبھی آسنسول کے سائنسی ادیب کی تاریخ مرتب کرے گا توپہلے ادیب کے طور شروعات مجھ سے کرے گا تومیرے بعد میرے چھوٹے بھائی اور عزیز شاگرد امتیازاحمدانصاری کانام شامل کرے گا۔خالق ادیب نے ریلپار کی سرزمین کو زرخیز قرار دیتے ہوئے ماضی کی بڑی شخصیتوں کا ذکر کیا وہیں امتیازاحمدانصاری کی ادبی مجلسوں میں آمد بحیثیت کوئز ماسٹر کے بتایا۔مفتی شکیل الرحمن قاسمی نے بھی اس علاقے کو علمی،ادبی اور تعلیمی اعتبار سے منفردعلاقہ بتایا جہاں گوں نہ گوں صلاحیتوں کے مالک لوگوں کے ساتھامتیازاحمدانصاری جیسے لوگ بھی بستے ہیں۔اس موقعے پر ادارہ حلقہ اردوادب کی جانب سے خورشید ادیب نے امتیازاحمدانصاری کو شال اور پھولوں کا ہار کے ساتھ منظوم خراج عقیدت کا نذرانہ پیش کیا۔وقیع منظرنے بھی اجراء کی تقریب کے حوالے سے ایک خوبصورت رباعی پیش کیا۔رسم ورونمائی کی تقریب کے مہمان ذی وقار آسنسول کارپوریشن کے ڈپٹی مئیر سید وسیم الحق زخمی ہاتھوں کی وجہ کر پروگرام میں شامل تو نہ ہوسکے مگراردو زبان وادب سے اپنی محبت کا ثبوت پیش کرتے ہوئے امتیازاحمدانصاری کی اس اولین کتاب کی پہلی کاپی مبلغ پانچ ہزار روپئے میں اپنے نام کیا جس کااعلان ناظم بزم نے کیا اور تمام سامعین نے ہرزور تالی بجاکر اس کااستقبال کیا اور جلداز جلد انکی صحت یابی کی دعائیں دی گئیں۔دوران تقریب مصنف نے بھی اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے جہاں سبھی مہمان اور سامعین کا شکریہ ادا کیا وہیں سائنس کے موضوع پر کتاب کیوں لکھا اس پر روشنی ڈالی۔صدارتی خطبہ اور اظہار تشکر کے بعد پروگرام اختتام پذیر ہوا۔