*برطانوی دور کی سوچ اور ذہنیت سے نجات بھی ضروری: کلواکنٹلہ کویتا*
*اپنی تاریخ کو جانیں، آباو اجداد کی جدوجہد سے نئی نسل کو واقف کروائیں*
*ریاستی دفترتلنگانہ رکشنا سینا میں 80ویں یوم آزادی تقریب۔ صدر ٹی آر ایس نے قومی پرچم لہرایا*

حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کے ریاستی دفتر بنجارہ ہلز میں 80ویں یوم آزادی کے موقع پر قومی پرچم کشائی تقریب منعقد ہوئی۔ پارٹی صدر کلواکنٹلہ کویتا نے قومی ترنگا لہرایا۔ اس موقع پر انہوں نے ملک کے عوام کو یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی تاریخ سے واقف ہونا چاہئے، کیونکہ جو لوگ تاریخ کو جانتے ہیں وہی بہتر مستقبل تعمیر کرسکتے ہیں۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ برطانوی دور میں ہندوستان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں، ان کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی اور ہمارے آباو اجداد کی جدوجہد کو نئی نسل تک پہنچانا ضروری ہے۔ جلیان والا باغ سانحہ میں سینکڑوں افراد کا قتل عام، مصنوعی قحط کے ذریعہ ہزاروں لوگوں کی موت اور دونوں عالمی جنگوں میں ہندوستانیوں کو فوجیوں کے طور پر استعمال کرنے جیسے واقعات ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی جنگوں میں شرکت کے بدلے آزادی دینے کا وعدہ بھی برطانوی حکومت نے پورا نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ برطانوی دور میں قبائلیوں کو جنگلات سے نکالا گیا اور ان کے ساتھ ناانصافیاں کی گئیں۔ برطانوی حکومت نے جاتے جاتے ہندوستان کو ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کرکے دونوں ملکوں کو مستقل دشمن بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی دور میں ہندوستان سمیت کئی ممالک کی دولت لوٹی گئی اور آج دنیا کے مختلف ممالک اپنی لوٹی گئی دولت واپس کرنے اور برطانوی شاہی خاندان پر معافی پر زور دےرہے ہیں۔
کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ تلنگانہ رکشنا سینا بھی ہندوستان سے لے جائے گئے کوہ نور ہیرے سمیت دیگر قیمتی اثاثوں کو واپس کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت تو ختم ہوگئی، لیکن اس دور کی سوچ اور ذہنیت آج بھی بعض شکلوں میں برقرار ہے۔ انگریزی بولنے والوں کو زیادہ قابل سمجھنا اور اپنی زبان بولنے والوں کو کمتر سمجھنا بھی اسی ذہنیت کا حصہ ہے۔ سفید رنگ کو برتر اور سیاہ رنگ کو کمتر ظاہر کرکے بھی لوگوں میں تفریق پیدا کی گئی۔انہوں نے زور دیا کہ ہمیں برطانوی دور کی حکمرانی اور اس کی ذہنیت سے مکمل طور پر نجات حاصل کرنی ہوگی۔ اپنی تاریخ اور اپنے آباواجداد کی جدوجہد کو بچوں کو بتانا ہوگا کیونکہ تاریخ سے مکمل واقفیت ہی ایک مضبوط اور بہتر مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔








