*اسرائیل کا یوگانڈا، ہمارا روانڈا*
*بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین*
ہمارے ایک محترم اور دیرینہ دوست ہیں، رفاقت حسین، جنہیں کوچہ و بازار میں بلاوجہِ ثبوت “پروفیسر صاحب” کہا جاتا ہے۔ گزشتہ شام وہ ہمارے غریب خانے پر یوں وارد ہوئے گویا کوئی تیسری عالمی جنگ سر پر آپہنچی ہو۔ ان کا علمِ سیاسیات دراصل ان اخبارات کے کٹے پھٹے صفحات کا مرہونِ منت ہے جو وہ حجام کی دکان پر اپنی باری کے طویل انتظار کے دوران ازبر کر لیتے ہیں۔ ادھر ہم بجلی کے بل میں لگے ہوشربا ٹیکسوں کی جمع تفریق میں اپنا سر پیٹ رہے تھے، اور ادھر وہ آئے اور بغیر کسی تمہید کے صوفے پر دھپ سے گرے۔ ہاتھ میں شام کا اخبار یوں بھینچا ہوا تھا جیسے اس کی گردن دبوچ لی ہو۔ چہرے پر وہ مخصوص اور پیچیدہ تاثر تھا جو عموماً ہماری بیگم کے چہرے پر مہینے کی آخری تاریخوں میں نمودار ہوتا ہے۔ بولے: “میاں! تم نے سنا؟ آج کل اسرائیل کا سب سے لنگوٹیا یار یوگانڈا بنا ہوا ہے۔” ہم نے بل کو چپکے سے جیب میں ٹھونستے ہوئے نہایت متانت سے عرض کیا: “قبلہ! افواہ تو ہم نے بھی کچھ ایسی ہی سنی ہے۔”
ان کے اس انکشاف پر ہم نے چاہا کہ اپنے علمِ جغرافیہ کی زنگ آلود گراریوں کو ذرا تیل دیں اور گھر میں پڑی واحد بوسیدہ اٹلس میں یوگانڈا تلاش کریں۔ یہ نادرِ روزگار اٹلس 1989ء کی مطبوعہ تھی، جس میں سوویت یونین اب تک اپنی پوری ہولناکی کے ساتھ موجود تھا، مگر یوگانڈا کی جگہ محض ایک مٹیالا سا دھبہ تھا جس کے نیچے جلی حروف سے ‘مشرقی افریقہ’ درج تھا۔ گویا یہ کوئی خودمختار ریاست نہیں، بلکہ گینڈوں کی کوئی چراگاہ ہو۔ رفاقت حسین نے ہماری اس جغرافیائی درگت اور خستہ حال اٹلس کو دیکھ کر کمالِ شفقت سے فرمایا: “میاں! یہ یوگانڈا وہی تو ہے جہاں طارق روڈ کے نکڑ پر ایک ‘اوگنڈا کباب ہاؤس’ ہوا کرتا تھا۔” ہم نے سرِ تسلیم خم کر دیا، کیونکہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارا جغرافیہ اور تاریخ دونوں ہی دیمک زدہ ہیں، مگر پروفیسر صاحب کی خود اعتمادی کے آگے کوہِ ہمالیہ بھی شرم سے پانی مانگنے لگے۔
عالمی سیاست کی اس بساط پر غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل مسلسل نصف صدی تک نہایت ڈھٹائی سے خود کو ‘مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت کا واحد چراغ’ کہتا رہا۔ سچ بھی ہے، جب چار سُو گھپ اندھیرا ہو تو سلگتی ہوئی ماچس کی تیلی بھی قطب تارے کا بھرم دیتی ہے۔ مگر آج، اقوامِ متحدہ کے وسیع و عریض ہال میں جب اسرائیلی نمائندہ غزہ کی کسی قرارداد پر ووٹنگ کے وقت امید بھری نگاہ اٹھاتا ہے، تو اس کی حسرت ناک نظر یورپ کی خفگی سے بچتی، عربوں کی پرسرار خاموشی کو پھلانگتی اور ایشیا سے مایوس ہو کر، افریقہ کے ایک دور افتادہ اور تاریک کونے میں جا ٹکتی ہے، جہاں یوگانڈا کا نمائندہ سینہ تانے بیٹھا ہوتا ہے۔ وہ اسرائیلی کو دیکھ کر بالکل اسی طرح مسکراتا ہے جیسے بھری بارات میں پسینے میں شرابور بیٹھے اکیلے دولہا کو کوئی پرانا اور قدرے احمق دوست آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دے رہا ہو کہ: “چوہدری! ہم کھڑے ہیں۔”
اب اس بے لوث یارانے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تاریخ کے مردے اکھاڑنا پڑیں گے۔ گو کہ ہمیں تاریخ کے مطالعے سے ہمیشہ وہی وحشت ہوئی ہے جو رات گئے قبرستان سے گزرتے ہوئے ہوتی ہے، کیونکہ اس کے ملبے سے ہمیشہ وہ کچھ برآمد ہوتا ہے جو آدمی کو اپنی اشرف المخلوقیت کے دعوے سے ہی دستبردار کرا دے۔ 1976ء میں انتبے ایئرپورٹ کے واقعے کے وقت یوگانڈا کے سیاہ و سفید کے مالک عیدی امین دادا تھے۔ ان کے نام کا “دادا” محض کوئی خاندانی لاحقہ نہیں، بلکہ ان کی کل کائنات اور طرزِ حکمرانی کا عملی خلاصہ تھا۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ عیدی امین نے اپنے ابتدائی دور میں اسرائیل ہی سے حربی تربیت لی، ان سے ہتھیار ادھار لیے، اور پھر ایک روز ایسی قلابازی کھائی جیسے محلے کا لفنگا آپ سے ترس کھا کر موٹرسائیکل چلانا سیکھے، اور پھر آپ ہی کو سڑک پر لفٹ دینے سے انکاری ہو جائے۔ عیدی امین نے اقتدار کے نشے میں چور ہو کر بعد ازاں اسرائیل اور صیہونیت کے بارے میں جو ہوش ربا اور متنازعہ بیانات داغے، وہ اتنے رنگارنگ اور غیر سنسر شدہ تھے کہ اگر انہیں من و عن نقل کیا جائے تو اس کے لیے ایک قطعی الگ کتاب کا تقاضا درپیش ہوگا، اور اس کتاب کو بھی مارکیٹ میں شاید “صرف بالغوں کے مطالعے کے لیے” کے مخصوص زمرے میں چھپا کر رکھنا پڑے۔ یہاں اس طویل داستان کو سمیٹتے ہوئے صرف اتنا عرض کرنا ہی کافی ہوگا کہ محترم عیدی امین نے عالمی ناشکری، نمک حرامی اور احسان فراموشی کی طویل و عریض تاریخ میں ایک ایسا سنہرا باب رقم کیا جسے بغور پڑھ کر خود نامور ناشکرے اور احسان فراموش بھی شرم سے پانی پانی ہو جائیں، بشرطیکہ ان ناشکروں کی آنکھ میں شرم و حیا کا کوئی ایک آدھ قطرہ موجود ہو۔
یہ تاریخی قصہ سن کر پروفیسر صاحب نے اپنی ٹھوڑی کھجائی اور ایک فلسفیانہ گوہر بکھیرا: “تو گویا پرانا اور ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ جڑ گیا؟ اس میں حیرت کیسی میاں! ہمارے ہاں بھارت میں بھی تو طلاق کے بعد اکثر لوگ رجوع کر ہی لیتے ہیں۔” ہم نے پروفیسر کے اس سفاک خاندانی تجزیے پر خاموشی ہی میں عافیت جانی۔ ادھر یورپ کا حال یہ ہے کہ اسپین، آئرلینڈ اور ناروے نے فلسطین کو تسلیم کر کے یوں سرِ عام توبہ کا اعلان کیا ہے جیسے پچھلے ستر برس کی مجرمانہ خاموشی کا گناہ ایک ہی غسل میں دھونا چاہتے ہوں۔ اور برطانیہ بہادر، جس نے 1917ء میں بالفور ڈیکلریشن کا الاؤ روشن کر کے یہ ساری آگ لگائی تھی، اب اپنے گھر کی کھڑکیاں بند کیے بیٹھا ہے اور اگر کوئی پوچھے تو کمالِ رعونت سے کہتا ہے: “بھئی یہ تو پچھلی حکومت کا کیا دھرا ہے۔”
رہ گئی برادر عرب دنیا، تو ان کے نام نہاد ابراہیمی معاہدوں کی دوستی بالکل ویسی ہی ہے جیسے ایک عرصے تک ہمارے شریف محلے کی چھتوں پر ڈش اینٹینا پانی کی ٹنکی کے عین پیچھے چھپا کر رکھا جاتا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ اندرونِ خانہ تو غیر ملکی نشریات کے مزے لوٹے جائیں، مگر باہر محلے داروں کے سامنے پرہیزگاری کا بھرم ہر صورت قائم رہے۔ تجارت اور تعلقات اندر سے استوار ہیں، جبکہ باہر کی دنیا کے لیے مذمتی بیانات کا وہی پرانا، زنگ آلود مگر گرجدار مسودہ ہے جس میں صرف کلینڈر کی تاریخ بدل دی جاتی ہے۔ ہمارے نزدیک سفارت کاری اور منافقت میں اب محض ایک سرکاری گزٹ اور ماہانہ تنخواہ کا فرق رہ گیا ہے۔
ان سب سے ہٹ کر، سپر پاور امریکہ کی سرپرستی اس مالدار اور خرانٹ چچا کی سی ہے جو اپنے بگڑے ہوئے یتیم بھتیجے کا سارا خرچ اٹھائے، اس کے لڑائی جھگڑوں میں لاٹھی لے کر کھڑا ہو، اور بدلے میں یہ اپنا پیدائشی حق سمجھے کہ وقتاً فوقتاً سب کے سامنے یہ جملہ دہرا کر اپنا رعب جھاڑے: “بیٹا! ذرا برداشت سے کام لو، دنیا کیا کہے گی؟” اور اسرائیل نامی یہ منہ زور لاڈلا، چچا کی اس نصیحت پر من و عن عمل کرتے ہوئے بالکل وہی کرتا ہے جو دنیا کے تمام بگڑے ہوئے بھتیجے کرتے آئے ہیں… یعنی کچھ نہیں کرتا۔
اس سارے مفاد پرست ہجوم میں یوگانڈا اکیلا وہ ملک ہے جس کی دوستی نہ تو کسی پردے میں چھپی ہوئی ہے اور نہ مشروط ہے۔ وہ کھلے عام ڈھٹائی سے ووٹ ڈالتا ہے، اور اس کے بعد باقی افریقی ممالک اسے اس نگاہ سے گھورتے ہیں جو پرائمری کلاس میں اس اکیلے بچے کو ملتی ہے جس نے استاد کی غیر موجودگی میں کوئی شرارت نہ کی ہو۔ مگر یوگانڈا کو اس کی رتی برابر پروا نہیں۔
ہماری اس طویل رام کہانی کے اختتام پر رفاقت حسین خاصی دیر تک ٹھنڈی ہوتی ہوئی چائے کا کپ دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھے رہے۔ آخر کار، ایک سرد آہ بھر کر بولے: “تو میاں! اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس بھری دنیا میں آج اسرائیل کے کل تین ہی یار بچے ہیں۔ ایک امریکہ جو محض مجبوری کے تحت ساتھ ہے، دوسرا اپنا بھارت جو ‘ایپسٹین فائلوں’ کے چکر میں ایسا دھرا گیا ہے کہ اب نہ اگلتے بنتی ہے نہ نگلتے، اور تیسرا، ان سب سے بڑھ کر یوگانڈا، جو بلاوجہ مگر سینہ تانے کھلم کھلا ساتھ کھڑا ہے۔”
پروفیسر صاحب نے پیالی میز پر رکھی اور دکھ بھرے لہجے میں فرمایا: “یار غور کرو تو یہ تو ہو بہ ہو ہماری اپنی کہانی ہے۔ مودی سرکار کی قلابازیوں اور ‘وشوگرو’ بننے کے خبط میں ہماری خارجہ پالیسی کا ایسا شاندار بھٹہ بیٹھا ہے کہ آج ہم ایک ایسے وشوگرو بن چکے ہیں جس کے آشرم میں کوئی چیلہ پھٹکنے کو تیار نہیں۔ اب ہمارے ساتھ بھی صرف وہی کھڑے ہیں جو یا تو کسی مجبوری کے اسیر ہیں، یا پھر وہ جن کی اس کرہِ ارض پر ویسے بھی کوئی نہیں سنتا۔”
ان کے اس آخری جملے نے کمرے میں ایک ایسا بوجھل اور گہرا سناٹا بچھا دیا، جس میں طنز کی کاٹ سے زیادہ ہماری اپنی سفارتی تنہائی کا نوحہ چھپا تھا۔ ہمیں اچانک اپنا بجلی کا ہوشربا بل، عالمی سیاست کی عیاں منافقت، ایپسٹین کی فائلیں اور پروفیسر صاحب کی یہ اداسی، سب ایک ہی المیے کے مختلف نام محسوس ہونے لگے۔ ہم نے ایک طویل سرد آہ بھری اور دل کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ اگر آج اسرائیل جیسے ملک کو تنہائی کے اس کڑے وقت میں یوگانڈا جیسا بے لوث یارِ غار مل سکتا ہے، تو کیا عجب کہ کل کو ہماری اس ‘فقید المثال اور آزاد’ خارجہ پالیسی کے طفیل، کسی برے وقت میں صومالیہ یا روانڈا ہی ہمارے گلے لگ کر رونے آ جائیں۔ اسی موہوم سی بین الاقوامی امید پر ہم نے ٹھنڈی چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور اخبار کو نہایت احتیاط سے ردی کی ٹوکری کے حوالے کر دیا۔










