*فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف متحد ہو کر ووٹ ڈالیں مولانا تبارک حسین قاسمی کی مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل*
رپورٹ :
*امتیاز احمد انصاری* “ووٹ آپ کا جمہوری حق ہے اور یہ ایک امانت بھی ہے۔ اس لئے جہاں ایک طرف جہاں ملک عزیز کے ہر شہری کو دستور ہندکےذریعہ اپنے من پسند امیدوار اور حکومت چننے کا دستوری وجمہوری حق حاصل ہے وہیں دوسری طرف یہ ایک امانت بھی ہے جس کی حفاظت بھی ہرشہری کا فرض ہے” . ان باتوں کا اظہار شمالی آسنسول ندی پار عیدگاہ والی مسجد کے امام وخطیب اور سنسکرت کے ا چھے اسکالر مولانا تبارک حسین قاسمی نے جمعہ کی نماز سے قبل ووٹ کی اہمیت اور اس کا صحیح استعمال کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئےمقتدیوں کی بڑی تعداد کے سامنے کیا۔مولانا موصوف نے اپنی گفتگو کا سلسلہ دراز کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورا ملک نازک دور سے گذر رہا ہے ۔ ملک کی جمہوریت خطرے میں ہے ۔فرقہ پرست طاقتیں محض کرسی اور اقتدار کی لالچ میں ملک کی صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب کو مٹانےاور اسے ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش میں جٹی ہیں۔نفرت کی ایک عام فضا قائم کردی گئی ہے۔ان حالات میں ملک کے ایک اچھے ، سچے اور ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم ملک کے آئین اور دستور کی حفاظت کے لئے سامنے ائیں ۔ اس وقت یہ موقع ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہماری ریاست مغربی بنگال سمیت ملک کی دیگر پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخاب ہونے جارہا ہے۔ لہذا ان فرقہ پرست طاقتوں کوشکست دینے کا مظبوط ہتھیار ووٹ کی صورت ہمیں ملا ہے اس ہتھیار کااستعمال کرکے ایک ایسی حکومت کے قیام میں مدد کریں جو آئین کی حفاظت کرنے والی ہو اورجو ملک کے ہرشہری کی جان و مال اور عزت وآبرو کی فکر کرنے والی ہو۔مولانا محترم نے مسلمانوں کو خصوصی طور پر آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی تلقین کیا۔ قرآن مقدس کی کئی صورتوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ صاف صاف کہہ رہا ہے کہ ” اے لوگو ! اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور باہم تفرقہ پیدا نہ کرو” ۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ “اے نبی جو آپ کے دین میں تفرقہ ڈالے اور مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو گئے ان سے آپ کا کوئی واسطہ نہیں” ۔ چنانچہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہرحالت میں اتحاد و اتفاق کا دامن تھام کر اور پوری طرح متحد ہوکر فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف ووٹ ڈالیں۔ موصوف نے کسی بھی سیاسی جماعت کا نام لئے بغیر کہا کہ جس جس سیٹ پر جو سیکولر پارٹی کے امیدوار فرقہ پرست پارٹی کے امیدوار کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں زیادہ سے زیادہ ووٹ دے کر کامیاب بنانے کی ضرورت ہے۔ اپنے ووٹ کی طاقت اور اس کی اہمیت کو سمجھیں ، جذباتی نعروں میں نہ الجھیں اور بہت سنجیدگی کے ساتھ اپنے ووٹ کے حق کااستعمال کریں۔مولانا تبارک حسین قاسمی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جن کے نام ووٹرلسٹ میں شامل ہے وہ انتخاب والے دن اپنے پولنگ بوتھ پہنچ کر بہتر امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالیں اور جن کا نام ووٹرلسٹ سے حذف کردیا گیا ہے وہ پہلی فرصت میں اپنے نام کو دوبارہ ووٹرلسٹ میں شامل کرنے کی اپیل تمام دستاویزات کے ساتھ ضلع انتظامیہ کے دفتر میں جمع کرہ فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف متحد ہو کر ووٹ ڈالیں مولانا تبارک حسین قاسمی کی مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل “ووٹ آپ کا جمہوری حق ہے اور یہ ایک امانت بھی ہے۔ اس لئے جہاں ایک طرف جہاں ملک عزیز کے ہر شہری کو دستور ہندکےذریعہ اپنے من پسند امیدوار اور حکومت چننے کا دستوری وجمہوری حق حاصل ہے وہیں دوسری طرف یہ ایک امانت بھی ہے جس کی حفاظت بھی ہرشہری کا فرض ہے” . ان باتوں کا اظہار شمالی آسنسول ندی پار عیدگاہ والی مسجد کے امام وخطیب اور سنسکرت کے ا چھے اسکالر مولانا تبارک حسین قاسمی نے جمعہ کی نماز سے قبل ووٹ کی اہمیت اور اس کا صحیح استعمال کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئےمقتدیوں کی بڑی تعداد کے سامنے کیا۔مولانا موصوف نے اپنی گفتگو کا سلسلہ دراز کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورا ملک نازک دور سے گذر رہا ہے ۔ ملک کی جمہوریت خطرے میں ہے ۔فرقہ پرست طاقتیں محض کرسی اور اقتدار کی لالچ میں ملک کی صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب کو مٹانےاور اسے ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش میں جٹی ہیں۔نفرت کی ایک عام فضا قائم کردی گئی ہے۔ان حالات میں ملک کے ایک اچھے ، سچے اور ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم ملک کے آئین اور دستور کی حفاظت کے لئے سامنے ائیں ۔ اس وقت یہ موقع ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہماری ریاست مغربی بنگال سمیت ملک کی دیگر پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخاب ہونے جارہا ہے۔ لہذا ان فرقہ پرست طاقتوں کوشکست دینے کا مظبوط ہتھیار ووٹ کی صورت ہمیں ملا ہے اس ہتھیار کااستعمال کرکے ایک ایسی حکومت کے قیام میں مدد کریں جو آئین کی حفاظت کرنے والی ہو اورجو ملک کے ہرشہری کی جان و مال اور عزت وآبرو کی فکر کرنے والی ہو۔مولانا محترم نے مسلمانوں کو خصوصی طور پر آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی تلقین کیا۔ قرآن مقدس کی کئی صورتوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ صاف صاف کہہ رہا ہے کہ ” اے لوگو ! اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور باہم تفرقہ پیدا نہ کرو” ۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ “اے نبی جو آپ کے دین میں تفرقہ ڈالے اور مختلف جماعتوں میں تقسیم ہو گئے ان سے آپ کا کوئی واسطہ نہیں” ۔ چنانچہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہرحالت میں اتحاد و اتفاق کا دامن تھام کر اور پوری طرح متحد ہوکر فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف ووٹ ڈالیں۔ موصوف نے کسی بھی سیاسی جماعت کا نام لئے بغیر کہا کہ جس جس سیٹ پر جو سیکولر پارٹی کے امیدوار فرقہ پرست پارٹی کے امیدوار کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں زیادہ سے زیادہ ووٹ دے کر کامیاب بنانے کی ضرورت ہے۔ اپنے ووٹ کی طاقت اور اس کی اہمیت کو سمجھیں ، جذباتی نعروں میں نہ الجھیں اور بہت سنجیدگی کے ساتھ اپنے ووٹ کے حق کااستعمال کریں۔مولانا تبارک حسین قاسمی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جن کے نام ووٹرلسٹ میں شامل ہے وہ انتخاب والے دن اپنے پولنگ بوتھ پہنچ کر بہتر امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالیں اور جن کا نام ووٹرلسٹ سے حذف کردیا گیا ہے وہ پہلی فرصت میں اپنے نام کو دوبارہ ووٹرلسٹ میں شامل کرنے کی اپیل تمام دستاویزات کے ساتھ ضلع انتظامیہ کے دفتر میں جمع کریں۔










