Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

تیل کا کھیل : چین کی دور اندیشی اور بھارت فیل

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

تیل کا کھیل : چین کی دور اندیشی اور بھارت فیل

 

بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

 

مارچ 2026 کی ایک صبح، آبنائے ہرمز کا منظر ناقابلِ یقین تھا۔ وہ آبی گزرگاہ جہاں کبھی 200 سے 300 بحری جہاز روزانہ گزرتے تھے، اب ہفتے میں صرف 1 جہاز کی راہداری پر آ گئی تھی۔ عالمی توانائی ادارے (IEA) نے اعلان کیا کہ دنیا تاریخ کی سب سے بڑی تیل سپلائی میں خلل کا سامنا کر رہی ہے۔ اسی لمحے ممبئی کے قریب واقع ایک بڑی ریفائنری کے کنٹرول روم میں الارم بجا، اور افسران نے یہ حساب لگایا کہ خالص اسٹریٹجک ذخائر کتنے دن چلیں گے۔ جواب تکلیف دہ تھا، صرف 9.5 دن۔ یہ محض ایک تکنیکی پریشانی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی قومی کمزوری کا لمحۂ انکشاف تھا جو برسوں سے مسلسل نظرانداز ہوتی رہی تھی۔

 

بھارت آج دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ ہے، روزانہ تقریباً 55 لاکھ بیرل خام تیل اس کی ضروریات کا حصہ ہے، اور اس میں سے تقریباً 85% بیرونِ ملک سے آتا ہے۔ مگر محض درآمد کا انحصار کوئی عیب نہیں، جاپان اور جنوبی کوریا بھی اسی راستے پر ہیں۔ اصل عیب یہ ہے کہ اس درآمد کا 55% ایک ہی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے یعنی آبنائے ہرمز، جو دنیا کی کل تیل ترسیل کا 20% حصہ کنٹرول کرتی ہے۔ کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس نے اپریل 2026 کی اپنی رپورٹ میں لکھا کہ بھارت نے 40 سے زائد ممالک سے تیل خریدنے کا متنوع نظام ضرور بنایا ہے، مگر اس کے بیشتر بڑے سپلائر یعنی عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سب 1 ہی جغرافیائی خطرے کے دائرے میں آتے ہیں۔ تنوع کا نام تو ہے، مگر خطرے کا خاتمہ نہیں۔

 

یہ سوال کہ آخر بھارت اس مقام پر کیوں کھڑا ہے اور چین کیوں محفوظ ہے، اس کا جواب نہ کسی 1 فیصلے میں ہے نہ کسی 1 حکومت کی غفلت میں۔ اس کا جواب ان 2 قوموں کی دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک سوچ کے گہرے فرق میں پنہاں ہے، اور اس فرق کو سمجھنے کے لیے ہمیں وقت میں پیچھے جانا ہوگا۔ 1973 میں جب عرب ممالک نے مغرب کے خلاف تیل کی پابندی لگائی اور پھر 1990 کی خلیجی جنگ نے عالمی توانائی سپلائی کو لرزا دیا تو دنیا کے ذہین ترین قائدین نے 1 سبق سیکھا: جو قوم طوفان سے پہلے اپنی چھت کی مرمت نہیں کرتی، وہ طوفان میں سازوسامان ڈھونڈتی رہتی ہے۔ چین نے وہ سبق پلے سے باندھ لیا اور پھر دہائیوں تک اس پر عمل کیا۔

 

انصاف کا تقاضا ہے کہ یہاں بھارت کی کوششوں کا کھلے دل سے اعتراف بھی کیا جائے۔ پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے فروری 2026 میں راجیہ سبھا کو بتایا کہ اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزروز (SPR)، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذخائر، ریفائنریوں میں موجود خام تیل، اور بندرگاہوں پر فلوٹنگ اسٹوریج سب کو ملا کر بھارت کی مجموعی استطاعت 74 دن کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل (S&P Global) کے مطابق بھارت نے 2025 سے 2026 میں 3 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ ریفائنری صلاحیت بھی بڑھائی اور 2028 تک پیداواری توسیع کے بڑے منصوبے جاری ہیں۔ 2026 کے بحران کے دوران بھارت نے فوری ردِعمل میں ارجنٹائن کی ایل پی جی (LPG) برآمدات 2 گنی کرائیں اور امریکی تیل کی شپمنٹ خلیجی حجم کے برابر کر دی۔ یہ سب قابلِ تعریف اقدامات ہیں۔ مگر یہاں 1 بنیادی حقیقت سامنے آ کھڑی ہوتی ہے کہ (IEA) کا مقررہ کردہ کم از کم معیار 90 دن ہے، اور بھارت ابھی 16 دن پیچھے ہے۔ موقع پر جوابی قدم ایک اچھا ردِعمل ہے مگر یہ برسوں پہلے سے کی گئی اسٹریٹجک تیاری کا متبادل نہیں ہوتا۔

 

ریٹنگ ایجنسی موڈیز (Moody’s) نے مارچ 2026 میں خبردار کیا کہ بھارت کے پاس ذخائر کے بجائے ایندھن پر سبسڈی اور قیمتوں پر انتظامی کنٹرول جیسے اقدامات ہیں جو نہ صرف مالی طور پر مہنگے ہیں بلکہ کسی بڑے بحران میں دیرپا بھی نہیں ثابت ہو سکتے۔ مشہور مالیاتی تحقیقاتی ادارے ایم یو ایف جی (MUFG) نے حساب لگایا کہ ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافے پر بھارت کا جی ڈی پی (GDP) 0.1 سے 0.2 فیصد گھٹتا ہے اور مہنگائی 0.2 فیصد مزید بڑھتی ہے، اور اگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند ہو تو یہ صورتِ حال اسٹاگ فلیشن (Stagflation) میں بدل سکتی ہے۔ مارچ 2026 میں بھارت کی خام تیل درآمدات 105 ملین بیرل سے گھٹ کر 81 ملین بیرل رہ گئیں یعنی 22.9 فیصد کی کمی، اور اس کا براہِ راست اثر صنعتی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی پر پڑا۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، یہ ایک زندہ قوم کی روزمرہ زندگی پر لکھی گئی دستاویز ہے۔

 

مگر اس کہانی میں 1 اور پرت ہے جو اکثر نظرانداز ہو جاتی ہے، اور یہ پرت سب سے تکلیف دہ ہے۔ بھارت کی توانائی پالیسی محض جغرافیائی کمزوری کا شکار نہیں بلکہ وہ امریکی دباؤ کی بھی قیدی ہے۔ دسمبر 2025 میں جب امریکی پابندیوں کے اثر تلے بھارت نے روسی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کی اور یہ درآمد فروری 2025 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئی تو بھارت کو مجبوراً مہنگے خلیجی تیل پر مزید انحصار کرنا پڑا۔ فروری 2026 میں امریکی آپریشن ایپک فیوری کے بعد واشنگٹن نے 1 تیس روزہ پابندی معافی (Sanctions Waiver) دی جس سے سمندر پر موجود 30 ملین بیرل روسی تیل بھارت میں داخل ہو سکا۔ مگر جب یہ مہلت اپریل 2026 میں ختم ہوئی تو بھارت 2 طرفہ بحران میں جا پھنسا، 1 طرف آبنائے ہرمز کی بندش اور دوسری طرف روسی تیل پر از سرِنو پابندی۔ جو ملک اپنی توانائی پالیسی کے لیے کسی اور کی اجازت کا محتاج ہو، وہ آزاد توانائی حکمتِ عملی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

 

یہی وہ لمحہ ہے جہاں چین اور بھارت کی تصویروں کا فرق سب سے واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔ جیسے ہی بھارت نے روسی خام تیل سے منہ موڑا، ماسکو نے چین کو گہرے ڈسکاؤنٹ دینے شروع کر دیے اور روسی یورالز کروڈ (Urals Crude) آئی سی ای برینٹ (ICE Brent) بینچ مارک سے 9 سے 11 ڈالر فی بیرل کی چھوٹ پر چین کو دستیاب ہو رہا تھا۔ جنوری 2026 میں چین کو روسی سمندری خام تیل کی برآمدات ریکارڈ 18 لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ تک پہنچ گئیں جو سال در سال 46 فیصد کا اضافہ تھا۔ کیپلر (Kpler) کی سینئر آئل تجزیہ کار مویو شو نے اس صورتحال کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ جیوپولیٹیکل صورتحال کے بارے میں عمومی تشویش نے چینی قیادت کو ذخائر کی بھرپور تعمیر پر مجبور کیا اور یہی دور اندیشی آج اسے اپنے ایشیائی پڑوسیوں سے کہیں بہتر مقام پر کھڑا کرتی ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کی سینئر توانائی ریسرچر ایریکا ڈاؤنز (Erica Downs) نے مارچ 2026 میں لکھا کہ چین نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو اپنی توانائی سپلائی کو متنوع بنانے کے موقع کے طور پر استعمال کیا، نہ کہ اسے 1 خطرے کے طور پر۔

 

مگر محض سستا تیل خریدنا چین کی اصل طاقت نہیں ہے۔ اصل طاقت اسٹریٹجک ذخائر (Strategic Petroleum Reserves) کی اس عمارت میں ہے جو بیجنگ نے دہائیوں میں تعمیر کی۔ توانائی تحقیقاتی ادارے ایناڈیٹا (Enerdata) کے مطابق چین 2026 تک تقریباً 1.3 ارب بیرل کے کل ذخائر کا ہدف رکھتا ہے، اور سینوپیک (Sinopec) اور سی این او او سی (CNOOC) نے 2025 سے 2026 میں 11 مقامات پر 169 ملین بیرل اضافی اسٹوریج کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے، یعنی بحران کے درمیان بھی توسیع جاری ہے۔ یہ ذخائر چین کو (IEA) کے 90 دن کے معیار سے کہیں آگے رکھتے ہیں۔ اور پھر وہ بنیادی ڈھانچہ جو آبنائے ہرمز اور آبنائے ملاکہ جیسی تنگ سمندری گزرگاہوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرتا ہے، یعنی روس اور وسطی ایشیا سے براہِ راست زمینی پائپ لائنیں جو کسی بھی سمندری چوک پوائنٹ (Chokepoint) سے آزاد ہیں۔ یہ محض انفراسٹرکچر نہیں بلکہ کئی دہائیوں کی قومی بقا کی حکمتِ عملی کا ثمر ہے۔

 

مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے عروج میں جب 150 بحری جہاز لنگر انداز تھے اور تیل کی ترسیل تاریخی طور پر متاثر تھی، چین اپنے وسیع ذخائر اور زمینی سپلائی لائنوں کے سہارے محفوظ کھڑا رہا۔ بھارت نے اس مدت میں جو فوری اقدامات کیے وہ قابلِ دید تھے، مگر بھارت کے پیٹرولیم سیکریٹری پنکج جین نے خود اعتراف کیا کہ بھارت کو اپنے ایس پی آر کو جارحانہ انداز میں بڑھانا چاہیے۔ یہ اعتراف خود 1 تاریخی دستاویز ہے، ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کا اقرار کہ اس کی سب سے بڑی کمزوری ابھی دور نہیں ہوئی۔

 

اپریل 2026 میں جب روسی تیل کی 30 روزہ پابندی معافی ختم ہوئی تو بھارت نے 1 بار پھر محسوس کیا کہ کسی اور کی چھت تلے کھڑے ہو کر خود کو محفوظ سمجھنا 1 مہنگی غلطی ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار کا فرق نہیں بلکہ 2 مختلف قومی سوچوں کا، 2 مختلف عزائم کا اور 2 مختلف قومی ترجیحوں کا فرق ہے۔ بھارت کا 74 دن کا احاطہ (IEA) کے 90 دن کے معیار سے 16 دن کم ہے، سمندری راستوں کا تنوع زمینی پائپ لائنوں کا متبادل نہیں، اور امریکی اجازت پر منحصر توانائی پالیسی خودمختار توانائی حکمتِ عملی نہیں۔ تیل کے اس عالمی کھیل میں چین نے وہ مرمت برسوں پہلے مکمل کر لی، ذخائر، پائپ لائنیں، متنوع سپلائی اور سستے روسی تیل کی بھرپور خریداری۔ بھارت ابھی طوفان کے درمیان کھڑا، نقشہ ہاتھ میں لیے، راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ طوفان کسی کا انتظار نہیں کرتا۔