Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*آسنسول اردواکاڈمی کےیراہتمام ایک اور کامیاب پروگرام* *مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ کی تقسیم اور کتاب کا اجراء*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

آسنسول میونسپل کارپوریشن کےماتحت قائم آسنسول اردو اکاڈمی کے جنرل سکریٹری اور آسنسول کارپوریشن کے ڈپٹی مئیر سید وسیم الحق کی اردو نوازی اور اردو دوستی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اردو کی ترویج واشاعت کے مقصد سے وقفے وقفے سے مختلف النوع اردو پروگرام کاانعقاد اس اکاڈمی کی روایت بن چکی ہے۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے یوم اساتذہ کے موقعے پر سنیچر کے آسنسول کارپوریشن کے الوچنا ہال میں ایک پروقار تقریب کااہتمام کیا گیا۔اس تقریب کے پہلے مرحلے میں آسنسول کارپوریشن علاقہ کے ایسے تمام سرکاری اردوپرائمری وہائی اسکولوں کے 19 اساتذہ کرام جو اپنی تدریسی خدمات انجام دے کر اسی سال ملازمت سے سبکدوش ہوئے انہیں مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ 2025 پیش کیا گیا۔ پروگرام میں موجود مہمان خصوصی آسنسول کارپوریشن کے مئیر اور آسنسول اردو اکاڈمی کے چیئرمین بدھان اپادھیائے کے علاؤہ اکاڈمی کے جنرل سکریٹری سید وسیم الحق ،وائس چیئرمین ڈاکٹر مشکور معینی ،مہمان خاص مغربی بنگال اردو اکاڈمی کا سہ ماہی رسالہ “روح ادب” کے مدیر،قلمکار وناقد ابوذر ہاشمی، شاعرو افسانہ نگار اور ڈبلیو بی سی ایس آفیسر سید انجم رومان،بی سی کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جمشید احمد،رانی گنج ٹی ڈی بی کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا ، صحافی اور مغربی بنگال اردو اکاڈمی کے گورننگ باڈی ممبر شکیل انور کے دست مبارک سے مذکورہ تمام اساتذہ کو ایوارڈ پیش کیا گیا۔بعدازاں ان تمام مہمانوں اور سامعین کی موجودگی میں معتبر قلمکار اور مستند شاعر سہیل ارشد کی ترجمہ وتفہیم پر مشتمل معرکتہ الآرا کتاب “چریہ پد” کا اجراء بھی مئیر صاحب کے ہاتھوں ہوا۔افتتاحی کلمات پروگرام کے روح رواں و ڈپٹی مئیر سید وسیم الحق نے ادا کرتے ہوئےاردو کی ترویج واشاعت کے لئے ریاست کی وزیراعلی ممتا بنرجی کے ساتھ آسنسول کارپوریشن کے مئیر بدھان اپادھیائے کی کوششوں اور تعاون کا شکریہ ادا کیا ساتھ ہی ساتھ آسنسول اردو اکاڈمی کے ذریعہ ماضی میں لئے گئے پروگراموں کی روداد پیش کی تو مستقبل میں لئے جانے والے پروگراموں کی جانکاری بھی دی۔ مئیر بدھان اپادھیائے نے سید وسیم الحق کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے اردو کے اس طرح کے بامقصد پروگرام کے انعقاد پر اپنی بھرپور خوشی کا اظہار کیااور آنے والے دنوں میں اس سے بہتر اور اس سے بڑے پیمانے پر پروگرام منعقد کرنے اور ہرطرح سے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔بعدازاں تمام مقررین نے سہیل ارشد کی اس نایاب کتاب پر بھرپور روشنی ڈالتے ہوئے اس کتاب کے محاسن گنوائے۔ واضح ہوکہ چریہ پد آٹھویں صدی سے بارہویں کے درمیان بودھ مذہب کے پیروکاروں اور شاعروں کی صوفیانہ شاعری ہے جس کاترجمہ بنگلہ، اڑیہ،اسامی اور میتھلی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔سہیل ارشد کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے ان کا نہ صرف اردو میں ترجمہ کیا بلکہ اسکے مفاہیم بھی پیش کیا ہے۔ان کی اس کتاب کو مقررین نے اردو ادب میں ایک قیمتی اضافہ قرار دیا۔ابوذر ہاشمی نے سہیل ارشد کو ایک ایسا تخلیق کار کہا جن کے یہاں ویژن بھی ہے اور مشن بھی۔صدارت کی ذمہ داری اور صدارتی خطبہ برصغیر کے معمر افسانہ نگار الحاج نذیر احمد یوسفی نے ادا کیا۔پروگرام کا آغاز صاحب کتاب شاعر خورشید ادیب کے نعت پاک سے ہوا۔نظامت کے فرائض امتیاز احمد انصاری اور خورشید عالم مشترکہ طور پر انجام دئیے۔