Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*اردو کا مستقبل کس کے ہاتھ میں؟*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*اردو کا مستقبل کس کے ہاتھ میں؟*

تحریر۔ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج،بارہ بنکی

زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ قوموں کی تہذیب، تاریخ، شناخت اور فکری شعور کی امین ہوتی ہے۔ جب کوئی زبان کمزور پڑتی ہے تو درحقیقت ایک تہذیب دم توڑنے لگتی ہے۔ آج اگر ہم اردو زبان کی حالت پر سنجیدگی سے غور کریں تو دل بے اختیار یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آخر اردو کا مستقبل کس کے ہاتھ میں ہے؟ کیا یہ زبان صرف سیمیناروں، مشاعروں اور یومِ اردو کی تقریبات تک محدود ہوکر رہ جائے گی؟ یا پھر کوئی ایسی نسل بھی موجود ہے جو اس کے درد کو اپنا درد سمجھتی ہو؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اردو برصغیر کی سب سے شیریں، مہذب اور ادبی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس زبان نے محبت کو بھی وقار دیا اور اختلاف کو بھی شائستگی سکھائی۔ میرؔ کی سادگی، غالبؔ کی فکر، اقبالؔ کی خودی اور فیضؔ کی انقلابی روح اسی اردو کی دین ہے۔ یہی زبان تھی جس نے غلامی کے دور میں حریت کا پیغام دیا اور یہی زبان تھی جس نے قوم کے دلوں کو جوڑنے کا فریضہ انجام دیا۔ مگر افسوس! آج وہی اردو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اردو کے زوال کا سبب کوئی بیرونی طاقت نہیں بلکہ خود اردو بولنے والے ہیں۔ جن گھروں میں کبھی بچوں کی پہلی آواز اردو ہوا کرتی تھی، آج وہاں ٹوٹی پھوٹی انگریزی کو فخر اور اردو کو احساسِ کمتری سمجھا جاتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو انگریزی تو سکھانا چاہتے ہیں مگر اردو لکھنا اور پڑھنا ضروری نہیں سمجھتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نئی نسل اردو بول تو لیتی ہے مگر اردو لکھنے سے قاصر ہے۔ یہ صورتحال کسی زبان کے لیے خاموش موت سے کم نہیں۔
تعلیمی اداروں کی حالت اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ اردو کو ثانوی حیثیت دے دی گئی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں اردو اساتذہ کی کمی، نصاب کی بے روحی اور جدید تقاضوں سے دوری نے نوجوانوں کو اردو سے بے زار کردیا ہے۔ زبان وہی زندہ رہتی ہے جو وقت کے ساتھ چلتی ہے، مگر ہم نے اردو کو صرف ماضی کی یادگار بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہم نے اسے ٹیکنالوجی، سائنس، تحقیق اور جدید میڈیا سے جوڑنے میں غفلت برتی۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان اردو کو ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ صرف جذباتی وابستگی سمجھنے لگے ہیں۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ہر زبان اپنی شناخت مضبوط کررہی ہے، اردو وہاں بھی مشکلات کا شکار ہے۔ نوجوان رومن اردو میں لکھنے کو آسانی سمجھتے ہیں۔ آہستہ آہستہ اردو رسم الخط ان کے ذہنوں سے محو ہوتا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک نسل اردو پڑھنے کے قابل ہی نہ رہے تو ادب، تاریخ اور تہذیب کا یہ عظیم سرمایہ کس طرح محفوظ رہے گا؟
لیکن تصویر کا دوسرا رخ مکمل مایوس کن بھی نہیں۔ آج بھی لاکھوں لوگ اردو سے محبت کرتے ہیں۔ آج بھی اردو شاعری کے اشعار دلوں میں اترتے ہیں۔ آج بھی سوشل میڈیا پر اردو مواد کو پسند کیا جاتا ہے۔ مسئلہ محبت کی کمی نہیں بلکہ عملی جدوجہد کی کمی ہے۔ ہم اردو سے محبت تو کرتے ہیں مگر اس کے لیے قربانی دینے کو تیار نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اردو زندہ رہے مگر اپنے گھروں، اداروں اور عملی زندگی میں اسے جگہ دینے سے گریز کرتے ہیں۔
اردو کا مستقبل حکومتوں سے زیادہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔ زبانیں سرکاری اعلانات سے نہیں بلکہ لوگوں کے رویّوں سے زندہ رہتی ہیں۔ اگر والدین اپنے بچوں سے اردو میں گفتگو کریں، اگر اساتذہ اردو کو صرف مضمون نہیں بلکہ تہذیبی امانت سمجھ کر پڑھائیں، اگر نوجوان اردو کتابوں سے رشتہ جوڑیں، اگر لکھنے والے جدید تقاضوں کے مطابق اردو ادب تخلیق کریں، تو کوئی طاقت اردو کو مٹا نہیں سکتی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کو صرف جذباتی مسئلہ نہ بنایا جائے بلکہ اسے عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ ہمیں اردو کو سائنس، ٹیکنالوجی، صحافت، ڈیجیٹل میڈیا اور تحقیق کی زبان بنانا ہوگا۔ نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ اردو کمزور زبان نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب کا نام ہے۔ دنیا کی کوئی زبان اس وقت تک زندہ نہیں رہ سکتی جب تک نئی نسل اسے اپنے مستقبل سے نہ جوڑے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے اردو کو اکثر مذہب، سیاست یا مخصوص طبقے تک محدود کردیا۔ حالانکہ اردو کسی ایک فرقے، علاقے یا قوم کی زبان نہیں بلکہ مشترکہ تہذیب کی علامت ہے۔ جب زبانوں کو تقسیم کیا جاتا ہے تو ان کا دائرہ سکڑ جاتا ہے۔ اردو کو زندہ رکھنا ہے تو اسے ہر طبقے، ہر نسل اور ہر میدان تک پہنچانا ہوگا۔
میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ آج کے بیشتر چینل اور پلیٹ فارم ایسی زبان استعمال کررہے ہیں جس میں نہ اردو کی مٹھاس باقی ہے اور نہ شائستگی۔ زبان کا حسن اس کی تہذیب میں ہوتا ہے۔ اگر میڈیا چاہے تو اردو کو نئی زندگی دے سکتا ہے، مگر بدقسمتی سے ریٹنگ کی دوڑ میں زبان کی روح قربان کی جارہی ہے۔
ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ جب کوئی قوم اپنی زبان کھو دیتی ہے تو وہ اپنی شناخت بھی کھو بیٹھتی ہے۔ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ قوم کی روح ہوتی ہے۔ اگر اردو کمزور ہوئی تو صرف ایک زبان ختم نہیں ہوگی بلکہ ایک تہذیب، ایک تاریخ اور ایک فکری روایت بھی بکھر جائے گی۔
آج سوال صرف یہ نہیں کہ اردو کا مستقبل کیا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اردو کے تعلق سے ہمارا کردار کیا ہے؟ کیا ہم محض تقریریں کریں گے؟ کیا ہم صرف یومِ اردو مناکر اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیں گے؟ یا واقعی اس زبان کے تحفظ کے لیے عملی قدم اٹھائیں گے؟
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اردو کو احساسِ محرومی سے نکال کر اعتماد کی زبان بنائیں۔ گھروں میں اردو بولی جائے، بچوں کو اردو کتابیں تحفے میں دی جائیں، تعلیمی اداروں میں اردو تحقیق کو فروغ دیا جائے، اور نوجوانوں کو جدید انداز میں اردو سے جوڑا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اردو کو نئی زندگی دے سکتا ہے۔
اردو کا مستقبل کسی ایک ادارے، حکومت یا تنظیم کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہم سب کے ہاتھ میں ہے۔ اگر ہم نے آج بھی غفلت برتی تو آنے والی نسلیں شاید اردو کو صرف تاریخ کی کتابوں میں تلاش کریں گی۔ مگر اگر ہم نے شعور، محبت اور عمل کے ساتھ اس زبان کا ساتھ دیا تو اردو نہ صرف زندہ رہے گی بلکہ دنیا کی بڑی زبانوں میں اپنا مقام مزید مضبوط کرے گی۔فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے؛ہم اردو کو صرف یادوں کی زبان بنانا چاہتے ہیں، یا آنے والے زمانوں کی آواز؟
مضمونگار،آل انڈیا ماٸنا ریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبہ نشرواشاعت کے سیکرٹری ہیں۔