*غزل*
کبھی زمین کبھی آسماں کا خوف رہا
سلگتے شہر میں جلتے مکاں کا خوف رہا
گلوں کا عکس نہ رنگ بہار کی خوشیاں
چمن کے حسن کو خود باغباں کا خوف رہا
ہوا نہ سہل کبھی حق کی راہ پر چلنا
وجود خاک کو رسم جہاں کا خوف رہا
جنون عشق نے بخشا ہے فرض کا احساس
تمام وقت ترے آستاں کا خوف رہا
کہاں سکون میسر ہوا کبھی نازاں
تغیرات کے سود و زیاں کا خوف رہا
*ڈاکٹر شمع ناسمین نازاں*
پٹنہ
Post Views: 63










