*یومِ آزادی کے پُر مسرت موقع پر قصبہ علی آباد میں آل انڈیا مشاعرہ منعقد*
بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری)
یومِ آزادی کے پُرمسرت موقع پر نوجوانانِ قصبہ علی آباد، محلہ تکیہ کی جانب سے مشاعرہ بعنوان ’’ایک شام مجاہدینِ آزادی کے نام‘‘ کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ مشاعرے کی صدارت معروف ادیب و محقق ڈاکٹر انور حسین خان (نیورا)، ایودھیا نے فرمائی، جبکہ شان محمد شانو (سماجی کارکن) نے بطور مہمانِ خصوصی اور سرفراز قریشی (چیئرمین، دریاباد) نے بطور مہمانِ اعزازی شرکت فرمائی۔
مشاعرے میں مہمانانِ ذی وقار کی حیثیت سے ڈاکٹر ریحان علوی، صحافی روزنامہ قومی خبریں، روزنامہ قومی تنظیم، ہندی روزنامہ اُجالا پتریکا، ساندھیہ ہلچل، بارہ بنکی، ارون کمار سنگھ، چوکی انچارج علی آباد، راہل جائسوال، صحافی روزنامہ دینک جاگرن، دریاباد،راگھویندر مشرا، صحافی روزنامہ دینک بھاسکر، علی آباد،عمار راشد، صحافی روزنامہ انقلاب، لکھنؤ، اور کاشی ناتھ دیکشت، صحافی امر اُجالا، دریاباد نے شرکت کی۔
اس ادبی و ملی مشاعرے کو احتشام الحق پردھان، علی آباد، حامد انصاری، صحافی و پردھان، گلچپہ کلاں، علی آباد؛ بابو حفظ الرحمٰن (بابو محل)، سابق پردھان، علی آباد،اور محمد علیم قریشی، علیم ٹریڈرس، گلچپہ کلاں کیبھرپور حمایت حاصل رہی۔
مشاعرے کی سرپرستی بشیر احمد (بشیر بھیا) نے فرمائی، جبکہ جنید علی آبادی، کنوینرِ مشاعرہ نے مشاعرے کے انتظام و انصرام میں اپنے رفقاء شکیل احمد، محمد اسلام، ابوذر ،محمد وقاص امجد قریشی ماسٹر نفیس،اشرف علی،ولی محمد،عبد الرشید بیکری،وسّے،ننکو وغیرہ کے ساتھ اہم کردار ادا کیا۔ معاونین میں ناصر حلیم،محمد یوسف جنتا ٹریڈرس،عاصم جیولرس،حافظ خالد،وسیم قریشی کاجو،یحییٰ شیخ،علیم شاہ،مولانا طیب،عباد الرحمٰن،ابصار قریشی،طارق فرنیچر رضوان ٹینٹ،نفیس ساؤنڈ،ماسٹر عارف عزیز راعین،مرسلین جیولرس،محمد طالب دلہن کلاتھ ہاؤس، سر فہرست رہے نظامت کے فرائض معروف شاعر عاصم کاکوروی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
مشاعرے کا باقاعدہ آغاز دبستانِ لکھنؤ کے نمائندہ شاعر سلیم تابش لکھنوی کی نعتِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد شعرائے کرام نے مجاہدینِ آزادی کی عظیم قربانیوں، وطن سے محبت اور جذبۂ حریت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنا کلام پیش کیا۔
اس موقع پر صدرِ مشاعرہ ڈاکٹر انور حسین خان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان و ادب نے جنگِ آزادی میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ ناقابلِ فراموش ہے اور اس کی جتنی ستائش گی کی جائے کم ہے۔ ایک جانب جہاں مجاہدینِ آزادی میدانِ جنگ میں برسرِ پیکار تھے، وہیں شعرا اپنے اشعار اور ادیب اپنی تحریروں کے ذریعے عوام کے دلوں میں حب الوطنی اور آزادی کا جذبہ بیدار کر رہے تھے۔ اردو شاعری اور نثر نے آزادی کی تحریک کو فکری و جذباتی توانائی فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا، جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔
مہمان خصوصی شان محمد شانو نے یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نوجوانوں کو ملک کی تعمیرو ترقی اور تعلیمی میدان میں نمایاں رول ادا کرنے پر زور دیا۔
مشاعرے میں موجود سامعین نے شعرائے کرام کو بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔ یوں یہ ادبی و قومی محفل حب الوطنی، جذبۂ حریت اور مجاہدینِ آزادی کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہوئی ایک یادگار شام بن گئی۔
مشاعرے کےمنتخب اشعار نذرِ قارئین ہیں۔
انگریز بھی لڑاتے تھے یہ بھی لڑائے ہیں
اولاد اپنے باپ کے نقشِ قدم پہ ہے
عثمان مینائی
جو دیکھا حشر تکبّر بھرے امیروں کا
بہت سنبھال کے رکھی ہے مفلسی میں نے
ڈاکٹر ریحان علوی
وہ اپنے خون سے لکھتا ہے اپنی جان کا نمبر
ہمارا خون گرتا ہے تو ہندوستان بنتا ہے
عاصم کاکوروی
ترقّی یافتہ شہروں میں جا کر ہم نے دیکھا ہے
پڑھے لکھے اندھیری رات میں رکشا چلاتے ہیں
سلیم تابش لکھنؤ
سورج کو نگل جائے گا جب آکے اندھیرا
تب ہوش میں آؤ گے اُجالوں کے طلب گار
ارشد سعد ردولوی
جاں نچھاور کریں گے وطن کے لئے
جیتے مرتے رہیں گے وطن کے لیے
علی بارہ بنکوی
مرے دل کے آئینے میں کوئی دوسرا نہیں ہے
بس پیار ہے تمہارا کسی اور کا نہیں ہے
شاداب سرل بہرائچ
ہمکو اپنے ہی مسائل نے دبوچے رکھا
بھیڑیا آگیا حتٰی کہ ہمیں کھانے کو
شہیب کوثر ردولوی
میرے لئے ہیں راستے سارے کھلے ہوئے
تم فیصلہ کرو کہ کدھر جانا چاہیے
جنید علی آبادی
ملتی یہاں ہے صبح بنارس کی تازگی
اور لکھنؤ کی شام ہمارے وطن میں ہے
اسد عثمانی
مُلک سے پیار میری فطرت ہے
اِس پہ مرنا میری سعادت ہے
عظیم علی آبادی
کہیں دلّی کہیں یوپی کہیں آسام ہو جائے
مداری کی تمنّا ہے تماشا عام ہو جائے
توفیق ساگر اڑیسہ
میں بھی تو کب سے بیٹھا ہوں سائل کی شکل میں
اُس سے کہو کہ حسن کا صدقہ عطا کرے
شعیب کامل کنتوری
بیچ بازار میں تکرار کا مطلب کیا ہے
جب قلم بک گئے اخبار کا مطلب کیا ہے
شکیل دریابادی
مانا اِس دور میں کتنے ہیں سُخن ور جامی
میر و غالب کو نہ بھولیں گے زمانے والے
آفتاب جامی
لے کے عزم و یقیں جب بھی گھر سے چلے
بہتے دریا میں بھی راستہ ہو گیا
ماسٹر علیم ردولوی
انکے علاوہ سنیل جھنجھٹی عمران علی آبادی سرور بلہروی نے بھی اپنا کلام پیش کیا
مشاعرے میں خصوصی طور پر مرغوب احمد،فرقان،محمد یوسف، ماسٹر شہاب خالد،زکریا،محمد عاطر،علی احمد،ماسٹر اخلاق،ماسٹر سراج ماسٹر مسرور، حاجی نسیم،ذیشان احمد،ریحان احمد ،عبد الرحیم،محمد شہیر، ایوب،انصار قریشی،عبید الرحمٰن،حسنین،ساجد قریشی، شریک رہے
مشاعرہ دیر رات 3 بجے تک چلا اختتام پر کنوینر مشاعرہ جنید علی آبادی نے مہمان شعرا و سامعین کا شکریہ ادا کیا۔








