Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*تنظیم آواز نے عظیم افسانہ نگار اور ،مصنف پریم چند کو یاد کیا ۔*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*تنظیم آواز نے عظیم افسانہ نگار اور ،مصنف پریم چند کو یاد کیا ۔*
—————————————–
مذہبی اور لسانی اقلیتوں کی تنظیم آواز نے  دوسرے ہم خیال تنظیموں کے ساتھ مل کر آسنسول کے جموڑیا بازار میں سیدھو کانو مجسمہ کے پاس عظیم افسانہ نگار اور مصنف منشی پریم چند کو ان کی ایک سو پینتالیس ویں یومِ پیدائش کے موقع پر خراج عقیدت پیش کیا ۔واضح ہو کی منشی پریم چند جن کا اصلی نام دھنپت رائے تھا کی پیدائش بنارس کے قریب لمہی گاؤں میں اکتیس جولائی 1880 کو ہوئ تھی ۔آپ نے کچھ دنوں تک نواب رائے کے نام سے لکھنا شروع کیا۔1907 میں سوز وطن پر انگریزی حکومت کی پابندی کے بعد آپ کے دوست دیا نارائین نے آپ کو منشی پریم چند کے نام سے لکھنے کا مشورہ دیا اور اس کے بعد سے دھنپت رائے منشی پریم چند کے نام سے مشہور زمانہ مصنف ہوگئے ۔آج تک دنیا اسی نام سے جانتی ہے ۔آپ کی سینکڑوں تصانیف ہیں جو سماج کے ٹھیکہ داروں کو آئینہ دکھاتی ہیں ۔1921 میں نوکری سے استعفیٰ دے کر آپ مہاتما گاندھی کے عدم تعاون تحریک میں شامل ہو گئے ۔اس موقع پر موجود لوگوں نے منشی پریم چند کو گلہاے عقیدت پیش کیا ۔ پروگرام کے کنوینر جناب بکاش یادو نے نقابت اور صدارت کے فرائض انجام دے کر محفل کو کامیاب بنایا۔اس موقع پر جموڑیا میونسپلٹی کے سابق کاؤنسلر جناب بھرت پاسوان،آواز جموڑیا ٹاؤن کمیٹی کے سکریٹری جناب محمد ظہیر ،پروگرام کنوینر جناب بکاش یادو اور آواز پسچھم بردوان ضلع کمیٹی کے سکریٹری جناب نعمان اسفر خان نے سامعین کو خطاب کیا ۔مقررین نے منشی پریم کی تصانیف میں سے کئ ایک تصانیف خصوصاً حج اکبر کا تذکرہ کیا ۔بعد میں بکاش یادو نے حاضرین کا شکریہ ادا کر پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا ۔