*گلزار عالم کی بہاروں سے قنوطیت کے نشیمن تک*
*(عمل کا فقدان محبت ایثار و یقین سے محرومی و تقدیر کا رونا )*
ازقلم: اسماء جبین (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو یشونت راؤ چوان آرٹس و سائنس مہاودیالیہ منگرول پیر ضلع واشم مہاراشٹر
آج دنیا کے ہر خطہ میں مسلم قوم تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہی ہے پوری دنیا میں مسلمانوں کا خون سب سے آسان اور ارزاں ہو گیا ہے امت مسلمہ کی جان و مال عزت و آبرو سب داؤ پر لگی ہے اور ان کے اقتصادی ذرائع بھی نشانہ پر ہے۔ دین و مذہب تو پہلے ہی اغیار کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے تمام اقوام عالم نے یک زبان ہو کر دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑ دیا ہے۔جس کے سبب مسلمان ہر جگہ شک کی نگاہ سے دیکھے جا رہے ہیں۔ امت مسلمہ پوری دنیا میں بدترین حالت میں ہے ۔ اس وقت سب سے زیادہ پریشان، مصیبت زدہ اور پیچھے (Backward ) مسلمانوں کے علاوہ کوئی دوسری قوم نہیں۔ وہ قوم جو کبھی گلزار عالم کی بہار بن کر ترقی کے آسمانوں پر پرواز کرتی تھی آج اس نے خود کو قنوطیت کے نشیمن میں قید کر رکھا ہے وہ قوم جس نے کبھی ویرانوں کو آبادی بخشی تھی آج ان کی شاندار آبادیاں ویران جنگل میں تبدیل ہوکہ رہ گئی ہے ۔کیا وجہ ہے کہ آج ہم پر سنگ حوادث کی بارش ہو رہی ہے نہ ہم میں وہ حوصلہ ہے نہ وہ وقار جو کبھی اس قوم کا وطیرا ہوا کرتا تھا کیوں قوم پستیوں کی طرف جارہی ہے وہ کیا اسباب ہیں جو امت مسلمہ کی اس حالت کی وجہ بنے ہوئےہیں ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو ہے “اللہ سے دوری” آج یہ امت دنیاوی مسائل میں اور مال و دولت کی ہوس میں اسقدر ملوث ہوگئی ہے کہ کب اللہ سے دور ہوگی۔ اس کا پتہ ہی نہیں چلا۔ اپنے معاملات اللہ کے سامنے رکھنا ہی بھول گئے ہیں ۔ دوسرا سبب “وفا محمدؐ سے محرومی” یعنی زبانی تو محمدؐ سے محبت کا دعوی کرتے ہیں لیکن ان کے اخلاق اور سنتوں پر عمل پیرا نہیں ۔ امت اللہ پاک کے بار بار کے اعلان اور نصیحت کو بھول گئی ہیں اے مسلمان!
کی محمدؐسے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرےہیں
اس پر غضب یہ کہ اس قوم نے صرف ” پدرم سلطان بود”( میرا باپ سلطان تھا)کہہ کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے کو شیوه زندگی بنا دیا ہے ہم اپنے اسلاف پر فخر تو کرتے ہیں لیکن وہ علم اسلاف کا جو سینوں میں نور پیدا کرتا تھا اسے بھول گئے ہیں ۔ یوروپ کے کتب خانوں میں ہمارے اسلاف کی بیش بہا علمی تصانیف ہے جسکو دیگر اقوام نے تو اپنے سینوں سے لگا رکھا ہے اور ہم نے انھیں نہ دیکھا نہ سمجھا اس پر ایک خامی یہ بھی کہ علوم جدید سے غفلت اور غلط راہ روی اور ہر وقت تقدیر کا رونا رونا – بے حیائی اور گنا ہوں پر فخر ، تن آسانی و عیش و عشرت ، جہاد سے گریز متاع کردار کا فقدان اور فرقہ آرائی تعصب ، احساسات کی موت
ایک جانب تو امت مسلمہ پوری دنیا میں بدترین حالت میں ہے دوسری جانب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے حوالے سے ارشاد فرماتا ہے “تم بہترین امت ہو” یعنی دنیا کی سب سے اچھی امت اللہ تعالیٰ کا یہ دعوی محض نہیں بلکہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے “خیر امت “کی علت اور اس کا سبب شرط اور وصف بھی بیان کیا ہے۔ قرآن پاک میں اس امت کے بہترین ہونے کا یہ بیان ہے کہ ” اخرجت للناس” یعنی یہ دوسرے لوگوں کے فائدے کے لئے پیدا کی گئی ہے۔اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس امت کو دنیا میں اس لئے بھیجا گیا کہ وہ تمام انسانیت کی مدد کرے۔ یہ امت صرف اپنے آپ سے مطلب رکھنے کے لئے پیدا نہیں کی گئی بلکہ ایک بڑی ذمہ داری دے کر اسے بھیجا گیا ہے اور وہ ہے زندگی کے تمام شعبوں میں دیگر لوگوں کی فلاح و بہبود کرنا ۔ اس سے مراد صرف عبادت کی فکر ہی نہیں بلکہ زندگی کے تمام مراحل کی فکر ہے۔ لوگوں کو صحیح راستے کی رہنمائی کرنا اور انھیں خسارے سے بچانا بھی اس امت کی ذمہ داری ہے لیکن آج یہ امت خود کو ہی خسارے سے نہیں بچا
پا رہی ہے۔ وہ کیا رہبری اور قیادت کافریضہ انجام دے گی۔ مسلمان کوئی عام نہیں بلکہ ایک ذمہ دار امت ہےاور اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اندروں اور ظاہری وضع قطع سے اسلامی تعلیمات سے آراستہ ہو اور ہر دیکھنے والے کو ایک مسلمان ہر اعتبار سے معزز و ممتاز لگے۔خلاصہ یہ کہ موجودہ پر یشان حالی کے اسباب یہ ہیں کہ امت لاشعوری اور غفلت کی زندگی گزار رہی ہے ۔ اللہ تعالٰی کی دی ہوئی ذمہ داری کو بھول گۓ ہیں اور تعلیمی میدان میں بھی بہت پیچھے ہیں ۔ دین سے امت کا رشتہ بہت کمزور ہو چکا ہے اور یہ دیگر قوموں کی لا دینی تہذیبوں میں غرق ہو رہے ہیں ۔
لہذا امت کو ان تمام اسباب پر غور و فکر کرنا چاہیے اور سنجیدہ اقدام اٹھانے چاہیے ۔ ان شاء اللہ کامیابی پھر سے امت کا مقدر بن جائے گی اور دیگر اقوام کی قیادت و سیاوت بھی انھیں حاصل ہوگی اور پوری دنیا میں پھر سے عزت و احترام کے قابل سمجھی جاۓ گی
” نہ آئندہ کے لئے ہمت ہارو اور نہ غم کرو تم ہی سر بلند رہوگے شرط یہ ہے کہ تم ایمان پر قائم رہو۔”












