Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ہیومن ویلفیئر سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر توصیف فتحپوری کی یاد میں یادگار مشاعرہ* *شعرا نے پیش کیا منظوم خراجِ عقیدت*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*ہیومن ویلفیئر سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ڈاکٹر توصیف فتحپوری کی یاد میں یادگار مشاعرہ*

*شعرا نے پیش کیا منظوم خراجِ عقیدت*

بارہ بنکی:(ابوشحمہ انصاری) گزشتہ شب قصبہ فتحپور میں ہیومن ویلفیئر سوسائٹی کے زیرِ اہتمام مرحوم ڈاکٹر توصیف فتحپوری کی یاد میں ایک یادگار اور کامیاب مشاعرہ منعقد ہوا۔ مشاعرے کی سرپرستی راہی صدیقی نے کی جبکہ صدارت معروف شاعر، ادیب اور افسانہ نگار رحمان عباسی نے فرمائی۔ نظامت کے فرائض امیر فیصل لکھنوی نے انجام دیے۔
مشاعرے کا آغاز حافظ سلمان راعین کی نعتِ پاک سے ہوا۔ اس موقع پر صحافی رضوان منیر اور محمد کفیل خان بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔
اپنے صدارتی خطاب میں رحمان عباسی نے کہا کہ مرحوم ڈاکٹر توصیف فتحپوری سے ان کے دیرینہ تعلقات تھے۔ وہ خوش اخلاق، مخیر، ملنسار اور نہایت نفیس طبیعت کے مالک تھے۔ ہر ایک سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملتے تھے اور اپنے حسنِ اخلاق سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتے تھے۔ ان کی اچانک رحلت سے اردو ادب میں جو خلا پیدا ہوا ہے، اس کا پُر ہونا آسان نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی ادبی محفلیں نوآموز شعرا کی حوصلہ افزائی اور ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اس لیے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اردو ادب کی ترویج و ترقی کے لیے ایسی محفلوں کے انعقاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
مشاعرے میں شعرائے کرام نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔ نذرِ قارئین چند منتخب اشعار:
کسی نے بھی تو مری خیریت نہیں پوچھی
کسی کے شانے کو کچھ دیر میں بھگوتا کیا
رحمان عباسی
ایک انگلی کی حقیقت میں نہیں کوئی بساط
ہاں مگر پانچ کو آپس میں ملا کر دیکھو
راہی صدیقی
کب تلک دوستی نبھاتے ہم
اتنے آنسو کہاں سے لاتے ہم
وقار کاشف
کوئی انگشت نمائی نہیں کر سکتا ہے
جب تلک آبرو محفوظِ مکاں ہوتی ہے
نسیم اختر قریشی
ہیں مسلماں باوفا، خود بولے گا دل آپ کا
آنکھ سے چشمۂ تعصب کو ہٹا کر دیکھیے
حسان ساحر
کس بلا کی تھی پیاس کی شدت
دیکھ کر مجھ کو ڈر گیا پانی
حسن نعیم
شاہی محل ہو دلی کا یا آگرہ کا تاج
یہ ساری ملکیت ہے مرے خاندان کی
زبیر سیتاپوری
امیرِ شہر اگر بدخصال ہوتا ہے
تو پھر عوام کا جینا محال ہوتا ہے
رضوان جمالی
سوچتا ہوں کہ سارے ستم توڑ دوں
گھٹ کے جینے سے بہتر ہے دم توڑ دوں
ظہور فیضی
نامۂ اعمال تو اپنا کسی قابل نہیں
ہاں مگر یہ فخر ہے امت میں ہوں سرکارؐ کی
مطیع اللہ حسینی
دو ناؤ کا سوار کبھی ہو سکا ہے پار
یا نیک نام بن کے رہو اور یا خراب
نشاط منصوری
یوں تو کہنے کو ہیں رفیق بہت
ہر کوئی بے وفا نہیں ہوتا
ندیم بلہروی
سازش رچی کسی نے جو ہم تم جدا ہوئے
تم بے وفا نہیں ہو، ہمیں اعتبار ہے
وثیق الرحمن شفق
لہو آنکھوں میں آ جانا تھا لازم
کوئی اس دل سے ہجرت کر رہا تھا
امیر فیصل
ہاتھی جیسا جسم لے کر بیٹھی جب وہ سیٹ پر
چمچماتی میری گاڑی کو کھٹارا کر دیا
جاوید کنوارا
مشاعرے میں شفیق خان، غوث خان، امتیاز ملک، سید شہنواز، سید ارسلان سمیت کثیر تعداد میں ادب دوست حضرات اور سامعین موجود رہے۔ مشاعرے کے اختتام پر مرحوم ڈاکٹر توصیف فتحپوری کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ آخر میں ہیومن ویلفیئر سوسائٹی کے چیئرمین محمد فہیم صدیقی نے تمام شعرائے کرام، مہمانانِ گرامی اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔