Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ابھی زندہ ہوں میں!* 🥺

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*ابھی زندہ ہوں میں!* 🥺

*بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین*

ہمارے ہاں اب خبریں واقعات کی غلام نہیں، بلکہ مالک ہو گئی ہیں۔ پہلے حادثہ ہوتا تھا تو خبر بنتی تھی، اب خبر بنتی ہے تو حادثہ ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا زمانہ ہے جہاں میڈیا نے تقدیر کا قلم چھین لیا ہے اور اب وہی لکھتا ہے کہ کون مرے گا اور کب۔ اب کوئی چیز ‘واقع’ نہیں ہوتی، بلکہ پہلے ‘نشر’ ہوتی ہے، پھر حقیقت بنتی ہے؛ گویا خبر حادثے کی ماں ہو گئی ہے اور اسکرین اس کا باپ۔

پچھلے دنوں ہم پر بھی ایک ایسی ہی قیامتِ صغریٰ وارد ہوئی جو سراسر ذاتی تھی، مگر اس کا اہتمام غیر معروف اخباروں اور نو آموز سوشل میڈیا  چینلز نے سرکاری سالنامہ کی سنجیدگی اور شادی بیاہ کے بینڈ باجے کے شور کے ساتھ فرمایا۔ قصہ مختصر، علی الصبح جب ہم چائے کی پیالی تھامے رات کے بچے ہوئے خوابوں کی نہارت منہ میں گھول رہے تھے، فون ایسا بجا جیسے پردۂ غیب پر کسی نے ہنگامی دستک دی ہو۔ دوسری طرف بریلی والی پھوپھی جان تھیں؛ آواز میں ہمالیہ کی برف کی ٹھہری ہوئی سردی اور سمندر کی لہر جیسا بہاؤ، اور پہلا جملہ یہ کہ: “بیٹا، تم زندہ ہو نا؟”

ہم نے سہم کر پہلے نبض دیکھی،الحمدللہ رواں،پھر آئینے میں صورت،حسبِ معمول پریشان؛ اور آخرکار عرض کیا: “پھوپھی جان، جہاں تک ذاتی مشاہدے کا تعلق ہے، سانس آ جا رہی ہے، باقی اللہ اللہ خیر سلا!” ادھر فرمانے لگیں: “خیالات پر خاک! شہر بھر میں تمہارے ایصالِ ثواب کے ختم کی قرأتیں بندھ چکیں؛ مقامی اخبار نے جلی حروف میں لکھ مارا کہ اکولہ کا مایہ ناز سپوت رخصت ہوا؛نام تمہارا، تصویر کسی اور کی، اور والد کا خانہ تمہارے دادا مرحوم سے پُر۔ کم بختوں نے ایک خبر میں تین پشتیں نمٹا دیں!”

اس انکشاف پر ہم نے فون بند کیا اور اپنی ذاتی قیامت کا سوگ منانے بیٹھ گئے۔ مگر ہمارا یہ معمولی سا جی اٹھنا، اس قومی سطح کی دھماکہ خیز خبر کے سامنے کیا حیثیت رکھتا تھا جو اسی روز برپا ہونے والی تھی۔ ہم نے ٹیلی ویژن کھولا تو دیکھا کہ ایک قوی ہیکل، لحیم شحیم اداکار، جن کی پوری زندگی لوہے کے بھاری بھرکم ڈمبل اٹھانے، خطرناک قسم کے خونخوار ولنوں کو اٹھا کر پھینکتے، اور انہیں “کتے کمینے” جیسے مایہ ناز القابات سے نوازنے میں گزری تھی، بھارت کی میڈیا نے ایک پھونک سے اڑا کر عالمِ ارواح میں پہنچا دیا تھا۔ ہر چینل پر دھرمیندر جی کی تصویر پر پھولوں کے ہار یوں لہرا رہے تھے گویا وہ انتخابی مہم میں کامیاب ہوئے ہوں۔ پس منظر میں کوئی بے سرا گلوکار ان کے گیتوں کا گلدستہ نہیں، مرثیہ گا رہا تھا۔ ایک اینکر رانی، جن کے چہرے پر میک اپ کی اتنی تہیں جمی تھیں کہ اگر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کھدائی کرتے تو شاید موئن جو دڑو سے بھی کوئی پرانی تہذیب برآمد ہو جاتی، وہ نہایت سنجیدگی سے مرحوم کی فلمی زندگی کے نشیب و فراز پر یوں تبصرہ فرما رہی تھیں، گویا فلمی ناقد نہیں، بلکہ لحد پر کھڑے منکر نکیر ہوں۔

یہ تماشا دیکھ کر ہم نے اپنے دیرینہ دوست، ڈاکٹر فیروز خان کو فون ملایا۔ ڈاکٹر صاحب اردو ادب میں افسانچہ نگاری میں تو سند کا مقام رکھتے ہی ہیں، مگر کرم خوردہ کیرم بورڈ کے بھی نیشنل چیمپیئن ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کو بھی کیرم کی گوٹیوں کی طرح مختلف زاویوں سے دیکھنا اور ’کٹ‘ لگانا آنا چاہیے۔ ہم نے ان سے میڈیا کی اس حرکت کا ذکر کیا تو وہ حسبِ عادت بھڑک اٹھے۔ فرمانے لگے، “میاں! تم اسے حرکت کہتے ہو؟ یہ تو باقاعدہ ایک طبیعاتی عمل ہے۔ تم نے کبھی غور کیا کہ اس مخلوق کو ’گودی میڈیا‘ کیوں کہتے ہیں؟”

ہم نے عرض کیا، “شاید اس لیے کہ یہ حکومت کی گود میں بیٹھا رہتا ہے۔” قہقہہ لگا کر بولے، “سطحی بات! ارے بھئی، اصل نکتہ ’گود‘ کی حیاتیات میں پوشیدہ ہے۔ طب کہتی ہے کہ جو شخص مستقل کسی کی گود میں بیٹھے، اس کی ریڑھ کی ہڈی بتدریج اپنی فطری سیدھ کھو دیتی ہے۔ وہ جھک کر رہنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ جب ریڑھ کی ہڈی، جو پورے جسمانی وقار کی علامت ہے، ٹیڑھی ہو جائے تو نظر بھی ٹیڑھی ہو جاتی ہے اور سوچ بھی۔ یہ صحافی نہیں، بلکہ ’قَعدی‘ ہیں، جن کا کام خبر دینا نہیں، بلکہ جس کی گود میں بیٹھے ہیں، اس کی مرضی کے مطابق گردن ہلانا ہے۔ ان کی صحافت ’فعلِ مجہول‘ ہے، جس کا فاعل ہمیشہ پردے کے پیچھے اور مفعول ہمیشہ عوام ہوتے ہیں۔”

ڈاکٹر صاحب رکے بغیر بولتے چلے گئے، “اور رہی بات موت کی خبر کی، تو یہ بھی ایک نفسیاتی حربہ ہے۔ آج کل تعزیت بھی ایک نمائش کاری بن گئی ہے۔ پہلے دکھ دل میں ہوتا تھا، اب ’ٹائم لائن‘ پر ہوتا ہے۔ پہلے آنکھوں سے آنسو بہتے تھے، اب کی بورڈ سے ’غمگین تاثراتی نشان‘ بہتے ہیں۔ سیاستدانوں نے تو باقاعدہ تعزیتی پیغامات کے مسودات تیار کروا رکھے ہیں۔ فلاں مرے تو مسودہ ’الف‘ بھیج دینا، فلاں مرے تو مسودہ ’ب‘۔ انہیں اس سے غرض نہیں کہ بندہ زندہ ہے یا مر گیا، انہیں تو ’سب سے پہلے تعزیت‘ کا اعزاز حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ان کی جلد بازی دیکھ کر تو یوں لگتا ہے جیسے اگر میت کو دفنانے میں ذرا دیر ہو جائے تو یہ ٹویٹ کر کے پوچھیں گے، ’بھائی! اور کتنا وقت لگے گا؟ ہمیں ایک اور تعزیتی اجلاس میں بھی پہنچنا ہے‘۔”

ہم نے ڈاکٹر صاحب کی عالمانہ گفتگو کے بیچ لقمہ دیا، “مگر ڈاکٹر صاحب! یہ تو ایک زندہ انسان کو مار رہے تھے۔” فرمایا، “تم پھر غلط سمجھے۔ انہوں نے صرف ایک انسان کو نہیں مارا۔ ان کی ’سپاری‘ تو کئی اور قتلوں کی بھی تھی۔ انہوں نے سچائی کو مارا، جس کی لاش پر یہ روز ٹی آر پی کا مجرا کرتے ہیں۔ انہوں نے صحافتی اقدار کو قتل کیا، جن کی قبر پر اب اشتہاروں کے کتبے نصب ہیں۔ انہوں نے اس بھائی چارے کو مارا جو کبھی ہمارے محلے کے عبداللہ بیگ اور پنڈت رام بھروسے کے درمیان حقے کے کش کے ساتھ زندہ تھا۔ اب دونوں ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کیونکہ شام کو نیوز چینل نے بتایا تھا کہ ’ایک خاص طبقے‘ سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زبان کا جنازہ تو ایسے دھوم سے نکالا ہے کہ اب اردو کے شیریں الفاظ کی جگہ نفرت، اشتعال اور جہالت پر مبنی اصطلاحیں رائج ہو گئی ہیں جو کانوں میں نہیں، سیدھا روح میں زہر گھولتی ہیں۔”

ڈاکٹر صاحب کی باتیں سن کر ہمیں وہ زمانہ یاد آ گیا جب موت ایک ٹھہراؤ اور وقار کا نام تھی۔ محلے میں کسی کا انتقال ہوتا تو گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ جاتے۔ لوگ مرنے والے کے اوصاف نہیں، بلکہ اس سے جڑی اپنی یادیں دہرا کر روتے تھے۔ اب تو لگتا ہے جیسے میڈیا نے موت کو بھی ایک ’حقیقی تماشا‘ بنا دیا ہے، جس میں سب سے زیادہ رونے والے کو ’بہترین سانحاتی اداکار‘ کا ایوارڈ ملتا ہے۔

خیر، یہ تو بھلا ہو خود دھرمیندر جی کا، کہ انہوں نے اپنی موت کی افواہ کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔ چند روز بعد جب وہ ہسپتال سے ہنستے مسکراتے باہر آئے تو ان چینلوں کے چہروں پر ویسی ہی مایوسی اور مردنی چھا گئی تھی جیسی اسکول کے اس نالائق بچے کے چہرے پر چھاتی ہے جسے امتحان منسوخ ہونے کی پوری امید ہو مگر ہیڈماسٹر آ کر پرچے تقسیم کرنا شروع کر دے۔ ان کا زندہ سلامت باہر آنا ان تمام چینلوں، ان تمام اینکروں، اور ان تمام سیاستدانوں کے منہ پر ایک ایسا خاموش طمانچہ تھا جس کی گونج تو نہیں تھی، مگر تذلیل صدیوں تک یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے کوئی بیان نہیں دیا، کوئی پریس کانفرنس نہیں کی، بس اپنی کار میں بیٹھے اور گھر چلے گئے۔ ان کا یہ عمل گویا کہہ رہا تھا:

*مِٹا نہیں مرا نام و نشاں، میں زندہ ہوں*
*ابھی تو ہیں مری سانسیں رواں، میں زندہ ہوں*
*ابھی تلک مرے جینے کی آس ہے باقی*
*ابھی تلک ہے جگر خوں فشاں، میں زندہ ہوں*

وہ زندہ رہ کر ان سب کو رسوا تو کر گئے، مگر ان کی یہ انفرادی بقا، ہماری اجتماعی موت کا اعلان بھی تھی۔ دھرمیندر تو اپنے گھر لوٹ آئے، مگر وہ اعتماد جو اس روز ہمارے دلوں کے گھر سے نکلا تھا، پھر کبھی نہ لوٹا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس روز صرف ایک شخص کی موت کی جھوٹی خبر نہیں اڑی تھی، بلکہ سچائی کا جنازہ اٹھا تھا، اور ہم سب، جو خود کو زندہ سمجھتے ہیں، اس جنازے کے وہ بے بس اور خاموش شرکاء تھے جو کندھا دینے کی ہمت بھی نہ کر سکے۔ میڈیا نے تو کب کی اپنی سلامتی کر لی تھی، مگر اس سانحے نے ہمیں باور کرایا کہ ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں کسی زندہ شخص کے مرنے کی خبر پر افسوس نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کے زندہ بچ جانے پر ماتم کیا جاتا ہے۔ ماتم، اس خبر کا جو سچی نہ ہو سکی۔ ماتم، اس ٹی آر پی کا جو ہاتھ نہ آ سکی۔ اور سب سے بڑھ کر، ماتم اس ضمیر کا، جس کی موت کا اعلان کرنے کے لیے اب کوئی ’بریکنگ نیوز‘ نہیں آتی۔