Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*اے پی سے ریونت ریڈی کی ملی بھگت۔پولاورم -بناکچرلا لنک پروجیکٹ کو خفیہ تعاون*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

*اے پی سے ریونت ریڈی کی ملی بھگت۔پولاورم -بناکچرلا لنک پروجیکٹ کو خفیہ تعاون*

*سپریم کورٹ میں مضبوط عرضی تک داخل نہیں کی گئی۔*

*چیف منسٹر کی غداری کو تلنگانہ سماج معاف نہیں کرے گا: کے کویتا*

حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی گوداوری میں تلنگانہ کے آبی حقوق کو پامال کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی خفیہ طور پر آندھرا پردیش کو پولاورم-بناکچرلا لنک پروجیکٹ کے لئے تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے تلنگانہ حکومت کی داخل کردہ عرضی میں خامیوں کی نشاندہی کے پس منظر میں کویتا نے ایکس (سوشل میڈیا) پر اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی کی اس غداری کو تلنگانہ کا سماج ہرگز معاف نہیں کرے گا۔کویتا نے کہا کہ گوداوری میں تلنگانہ کے آبی حقوق کو داؤ پر لگا کر ریونت ریڈی خفیہ طور پر اے پی کی مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولاورم-بناکچرلا لنک پروجیکٹ تلنگانہ کے پانی کے حقوق کے لئے نقصان دہ ہے، اس کے باوجود وزیر اعلیٰ اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ تلنگانہ کی جانب سے دائر عرضی میں خامیوں کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے آندھرا پردیش حکومت کو نوٹس تک جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ کویتا نے الزام عائد کیاکہ ریونت ریڈی ریاست کے مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے اے پی کے وزیر اعلیٰ چندرابابو کو گویا “گرو دکشنا” کے طور پر گوداوری کا پانی سونپ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے داخل کردہ عرضی سے ہی واضح ہوتا ہے کہ بناکچرلا معاملے میں ریونت ریڈی کس حد تک اے پی کی مدد کر رہے ہیں۔کویتا نے کہا کہ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے ریونت ریڈی کا فرض تھا کہ وہ ریاست کے حقوق کا تحفظ کرتےمگر وہ اس کے برعکس عمل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اس طرزِ عمل کو تلنگانہ کا سماج کبھی معاف نہیں کرے گا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ وزیر اعلیٰ کو پانی کے معاملات کی سنجیدگی کا ادراک نہیں جو تلنگانہ کے لئے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ کویتا نے مشورہ دیا کہ اے پی کے ساتھ سیاسی ملی بھگت چھوڑ کر ریونت ریڈی کو تلنگانہ کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولاورم-بناکچرلا لنک پروجیکٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں مضبوط عرضی داخل کی جائے بصورت دیگر اسے نہ روکنے کی صورت میں تلنگانہ کے ساتھ مستقل ناانصافی ہوگی۔

Latest News