*جنگِ آزادی میں علمائے دیوبند کے شاندار کارنامے۔*
* محمد ہاشم القاسمی (خادم دارالعلوم پاڑا، ضلع پرولیا، مغربی بنگال)
رابطہ نمبر: 9933598528*
تمہید: تاریخ کے آئینے میں علماء دیوبند کی قربانیاں
ہندوستان کی جنگِ آزادی کی تاریخ جب بھی دیانت داری، غیر جانب داری اور حق گوئی کے قلم سے لکھی جائے گی، وہ علماءِ دیوبند اور مسلمانوں کے خونِ جگر کی سرخی کے بغیر ہمیشہ ادھوری رہے گی۔ ہندوستان کی مٹی کا کوئی ایسا حصہ نہیں ہے جہاں برطانوی استعمار کے خلاف مسلمانوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش نہ کیا ہو۔ مشہور مصنف، مایہ ناز مؤرخ اور نقاد خوشونت سنگھ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب “ٹرین ٹو پاکستان” کے پس منظر میں سچائی کا اعتراف کرتے ہوئے ایک بار لکھا تھا: “ہندوستانی آزادی مسلمانوں کے خون میں لکھی گئی ہے، کیونکہ ان کی آبادی کے تناسب کے مطابق، آزادی کی جدوجہد میں ان کی شرکت بہت زیادہ تھی… لیکن افسوس کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے لیے مسلمانوں کی قربانیاں جان بوجھ کر تاریخ کے صفحات میں چُھپائی گئیں اور انہیں وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ حقدار تھے۔”
آج جب پورا ملک یومِ آزادی (15 اگست) کی تقریبات منانے کی تیاری کر رہا ہے، تو یہ ہر ہندوستانی، بالخصوص مسلم نوجوان کا اخلاقی اور تاریخی فریضہ ہے کہ وہ تاریخ کے بند جھروکوں کو کھولے، حقائق کا جائزہ لے اور اپنے اسلاف کے ان کارناموں سے واقف ہو جنہوں نے اس ملک کی آزادی کی بنیاد رکھی۔ 1. برطانوی استعمار کا عروج اور ملک گیر سازشیں
سولہویں صدی عیسوی کے اختتام پر، یعنی 1601ء میں ملکہ ایلزبیتھ کی اجازت سے ایک سو انگریز تاجروں نے تیس ہزار پونڈ کی خطیر رقم لگا کر ایسٹ انڈیا کمپنی (East India Company) کی بنیاد رکھی۔ یہ تاجر تجارت کے لبادے میں ہندوستان پہنچے اور انہوں نے مغربی بنگال کو اپنا پہلا تجارتی مرکز بنایا۔ تقریباً ڈیڑھ سو سال تک کمپنی نے اپنی تمام تر توجہ صرف تجارت اور دولت سمیٹنے پر مرکوز رکھی۔
لیکن جب حضرت اورنگ زیب عالمگیرؒ اور معظم شاہ کے بعد مغلیہ سلطنت کی بنیادیں کمزور پڑ گئیں، اور ملک داخلی انتشار، انارکی اور طوائف الملوکی کا شکار ہوا، تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارت کا مکھوٹا اتار پھینکا اور ملک کے سیاسی و انتظامی نظام میں کھلی مداخلت شروع کر دی۔1757ء (جنگِ پلاسی): انگریزوں نے نواب سراج الدولہ کے خلاف کھلم کھلا جنگ کا اعلان کیا۔ افسوس کہ وطن فروش اور ننگِ ملت میر جعفر کی غداری کے سبب نواب سراج الدولہ کو شکست ہوئی اور پورے بنگال پر انگریزوں کا غاصبانہ قبضہ ہو گیا۔ 1764ء (جنگِ بکسر): نواب شجاع الدولہ کو بکسر کے میدان میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں بہار، بنگال اور اڑیسہ کی دیوانی (ٹیکس وصولی کے حقوق) انگریزوں کے ہاتھ چلی گئی۔ 1792ء و 1799ء (میسور کی جنگیں): بطلِ حریت، مجاہدِ اعظم سلطان ٹیپو کی شہادت کے بعد انگریزوں نے پورے جنوبی ہندوستان (میسور) پر قبضہ جما لیا۔ 1849ء تک: پنجاب، سندھ، آسام، برما، اودھ، روہیل کھنڈ، علی گڑھ، مدراس اور پانڈی چری جیسے وسیع علاقے کمپنی کے زیرِ تسلط آ چکے تھے اور دہلی کا مغل بادشاہ محض ایک کٹھ پتلی بن کر رہ گیا تھا۔
انگریزوں کی اس عیارانہ پالیسی کی حقیقت کو مسز اینی بیسنٹ نے ان الفاظ میں بے نقاب کیا: “ایسٹ انڈیا کمپنی والوں کی جنگ سپاہیوں کی جنگ نہ تھی بلکہ تاجروں کی جنگ تھی، ہندوستان کو انگلستان نے اپنی تلوار سے فتح نہیں کیا بلکہ خود ہندوستانیوں کی تلوار سے اور رشوت، سازش، نفاق اور حد درجہ کی دو رخی پالیسی پہ عمل کر کے، ایک جماعت کو دوسری جماعت سے لڑا کر اس نے یہ ملک حاصل کیا۔” (ہندوستان کی کوشش آزادی کے لیے، ص: 56) 2. شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا فکری انقلاب اور شاہ عبدالعزیز کا تاریخی فتویٰ
ملک میں انگریزوں کے اس پھیلتے ہوئے جال اور بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کو سب سے پہلے جس عبقری شخصیت نے محسوس کیا، وہ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ تھے۔ آپ نے پوری دور اندیشی کے ساتھ قوم کی اصلاح کے اصول بیان کیے اور برطانوی نظامِ حکومت کو درہم برہم کرنے کی تلقین کی۔
ان کے متعین کردہ نقشۂ راہ کے مطابق، ان کے فرزندِ اکبر حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے برطانوی استعمار کے خلاف منظم فکری و عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ انہوں نے انگریزوں کے خلاف ایک تاریخ ساز فتویٰ صادر فرمایا، جس میں ہندوستان کو “دارالحرب” (جنگ کا گھر) قرار دیا گیا۔ یہ فتویٰ دراصل انگریزوں کے خلاف اعلانِ جہاد تھا، جو جنگل کی آگ کی طرح ملک کے کونے کونے میں پھیل گیا اور عوام کے دلوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کر دی۔ 3. تحریکِ بالاکوٹ اور گوریلا جنگ کا تسلسل
عوام کی ذہن سازی اور عملی تیاری کے لیے 1811ء میں ایک مقتدر جماعت تشکیل دی گئی، جس میں مولانا سید احمد شہید رائے بریلویؒ، مولانا اسماعیل دہلویؒ اور مولانا عبدالحئی بڈھانویؒ شامل تھے۔ اس جماعت نے ملک گیر دورے کر کے دینی اور سیاسی بیداری پیدا کی۔ 1820ء میں مجاہدین کا کاروان سید احمد شہیدؒ کی قیادت میں روانہ ہوا۔ انہوں نے تزویراتی (Strategic) اہمیت کے پیشِ نظر صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کو اپنا مرکز بنایا۔ مقصد صرف انگریزوں سے ملک کو آزاد کرانا تھا، لیکن پنجاب کے سکھ راجہ انگریزوں کے وفادار تھے اور مجاہدین کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ حضرت سید احمد شہیدؒ نے انہیں پیغام بھیجا: “تم ہمارا ساتھ دو، انگریزوں کے خلاف جنگ کر کے ہم ملک تمہارے حوالے کر دیں گے، ہم مال و ملک کے طالب نہیں”۔ لیکن جب راجہ نے انگریز کی وفاداری نہ چھوڑی، تو ان سے بھی معرکہ آرائی ہوئی۔ بالآخر 1831ء میں بالاکوٹ کے میدان میں حضرت سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل دہلویؒ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی شہادت کے بعد بھی ان کے متوسلین نے ہمت نہیں ہاری اور ملک کے مختلف حصوں میں گوریلا جنگ جاری رکھی، جس نے 1857ء کے انقلاب کے لیے فضا ہموار کی۔ 4. 1857ء کی جنگِ آزادی اور علماء کا عملی میدان 1857ء کی پہلی باقاعدہ جنگِ آزادی میں علماءِ دیوبند نے صفِ اول میں رہ کر حصہ لیا۔ یہ علماء حضرت شاہ ولی اللہؒ کے سلسلے کی سنہری کڑی تھے۔ انہوں نے ملک کے طول و عرض میں وعظ و تقریر کے ذریعے عوام میں جہاد کا جذبہ پھونکا اور ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا جس نے جلتے پر تیل کا کام کیا۔
شاملی کا معرکہ اور اکابرینِ دیوبند
اکابرِ علماءِ دیوبند نے شاملی کے میدان میں انگریزوں کے خلاف عملاً ہتھیار اٹھائے۔ حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ، بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حافظ ضامن شہیدؒ نے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے ہاتھ پر بیعتِ جہاد کی۔
حضرت حاجی امداد اللہ صاحب کو اس تحریک کا امام مقرر کیا گیا۔
مولانا منیر نانوتویؒ کو فوج کے دائیں بازو اور حافظ ضامن تھانویؒ کو بائیں بازو کا افسر بنایا گیا۔
مجاہدین نے پہلا حملہ شیر علی سڑک پر کر کے انگریزی فوج کا مال و اسباب ضبط کیا۔
دوسرا تاریخی حملہ 14 ستمبر 1857ء کو شاملی پر کیا گیا اور فتح حاصل ہوئی۔
جب سہارنپور سے انگریزی توپ خانہ شاملی بھیجا گیا، تو مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے چند مجاہدین کے ساتھ باغ میں چھپ کر اچانک حملہ کیا، جس سے انگریز فوج توپ خانہ چھوڑ کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ اسی معرکے میں حافظ ضامن صاحبؒ شہید ہوئے، سید حسن عسکری صاحب کو سہارنپور میں گولی مار دی گئی، مولانا گنگوہیؒ کو مظفر نگر جیل میں قید کیا گیا اور مولانا قاسم نانوتویؒ آئندہ کی حکمتِ عملی کے لیے روپوش ہو گئے۔
انگریزی بربریت اور علماء دیوبند کی شہادتیں
مختلف اسباب کی بنا پر 1857ء کا معرکہ ناکام رہا، جس کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں اور خصوصاً علماء کو اپنی مشقِ ستم بنایا۔ چونکہ حکومت مسلمانوں سے چھینی گئی تھی، اس لیے انگریز مسلمانوں کو اپنا اصل دشمن سمجھتے تھے۔
اس جنگ میں تقریباً دو لاکھ مسلمانوں کو شہید کیا گیا، جن میں ساڑھے اکیاون ہزار (51,500) علماءِ کرام تھے۔
ایڈورڈ ٹامسن کی گواہی کے مطابق صرف دہلی میں 500 علماء کو سولی پر لٹکایا گیا۔ انگریز داڑھی اور لمبے کرتے والے ہر شخص کو دیکھتے ہی پھانسی دے دیتے۔
علماءِ کرام کو زندہ خنزیر کی کھالوں میں سی کر نظرِ آتش کیا جاتا اور ان کے بدن پر چربی مل کر جلایا جاتا تھا۔
مرزا غالب نے دہلی کے اس مقتل کا نقشہ یوں کھینچا تھا:
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر نمونہ بنا ہے زنداں کا
شہر دلی کا ذرہ ذرہ خاک
تشنہٴ خوں ہے ہر مسلمان کا۔ 5. دارالعلوم دیوبند کا قیام (1866ء): ایک انقلابی حکمتِ عملی 1857ء کی ناکامی کے بعد علماء نے محسوس کیا کہ اس شکست کی بنیادی وجہ تنظیم، افراد اور وسائل کی قلت تھی۔ چنانچہ برطانوی استعمار کا مقابلہ کرنے اور قوم کی فکری و سیاسی تربیت کے لیے 30 مئی 1866ء کو دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی۔
دارالعلوم کا مقصد صرف تعلیم و تعلم نہیں تھا، بلکہ ملک کی آزادی کے لیے ایسے جانثار تیار کرنا تھا جو قوم کی درست قیادت کر سکیں۔ دارالعلوم کے پہلے طالب علم اور بعد میں صدر المدرسین شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے ایک موقع پر اس مقصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا: “حضرت الاستاذ (حضرت نانوتویؒ) نے اس مدرسے کو کیا صرف درس و تدریس کے لیے قائم کیا تھا؟ مدرسہ میرے سامنے قائم ہوا، جہاں تک میں جانتا ہوں، 1857ء کے ہنگامے کی ناکامی کے بعد یہ ارادہ قائم کیا گیا تاکہ کوئی ایسا مرکز قائم کیا جائے جس کے زیرِ اثر لوگوں کو تیار کیا جائے تاکہ 1857ء کی تلافی کی جا سکے۔” (رسالہ دارالعلوم، شمارہ جمادی الثانی 1372ھ) 6. جمعیۃ علماء ہند کا قیام اور “انگریز ہندوستان چھوڑو” کا نعرہ
ملک گیر سطح پر سیاسی جدوجہد کو منظم کرنے کے لیے اکابرِ دیوبند نے 1919ء میں جمعیۃ علماء ہند قائم کی، جو دارالعلوم کا سیاسی بازو بنی۔ جمعیۃ علماء ہند کے پلیٹ فارم نے کانگریس سے بھی پہلے اپنے اجلاسوں میں “کوئٹ انڈیا” (انگریز ہندوستان چھوڑو) کا مطالبہ تجاویز کی شکل میں پاس کیا تھا۔ اس کاروانِ حریت میں مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، اور مولانا حسرت موہانی جیسے عبقری رہنماؤں نے جو خدمات انجام دیں، وہ تاریخ کا روشن باب ہیں۔7. تحریکِ ریشمی رومال: برطانوی سلطنت کو ہلانے والی سازش
امامِ انقلاب حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر انگریزوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ایک بین الاقوامی تحریک شروع کی، جسے “تحریکِ ریشمی رومال” (Silk Letter Movement) کہا جاتا ہے۔
منصوبہ یہ تھا:
قبائلی علاقوں اور افغانستان کی سرحد پر مجاہدین کو منظم کیا جائے۔
افغانستان اور خلافتِ عثمانیہ (ترکی) کی حکومتوں کو برطانوی حکومت کے خلاف فوجی حملے کے لیے آمادہ کیا جائے۔
اندرونِ ملک بیک وقت بغاوت اور انقلاب کی آگ بھڑکا دی جائے تاکہ انگریز فرار ہونے پر مجبور ہو جائیں۔
اس مقصد کے لیے حضرت شیخ الہندؒ نے دہلی، لاہور، پانی پت، کراچی اور ڈھاکہ میں مراکز قائم کیے۔ وفود کو چین، برما، فرانس اور امریکہ روانہ کیا گیا۔ انہوں نے مولانا عبید اللہ سندھیؒ کو کابل بھیجا اور خود حجازِ مقدس (سعودی عرب) تشریف لے گئے، جہاں انہوں نے ترک گورنر غالب پاشا اور وزیرِ جنگ انور پاشا سے ملاقات کر کے تعاون کا یقین حاصل کیا۔
مولانا عبید اللہ سندھی نے کابل سے ریشمی رومال پر خفیہ خطوط کے ذریعے اس مشن کی تفصیلات ارسال کی تھیں، جس کی وجہ سے اس کا نام ریشمی رومال پڑا۔ اس تحریک میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ، خان عبدالغفار خان، راجہ مہندر پرتاپ سنگھ اور ڈاکٹر متھرا سنگھ جیسے ہندو مسلم رہنما شامل تھے۔ اگرچہ یہ راز فاش ہونے سے تحریک بظاہر ناکام ہو گئی اور اکابرین کو مالٹا کی جیلوں میں قید کر دیا گیا، لیکن اس نے آزادی کی لڑائی کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ 8. تحریکِ ترکِ موالات اور فرنگی عدالت میں شیر کی گرج
حضرت شیخ الہندؒ کا دوسرا بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے مہاتما گاندھی کو خلافت کمیٹی اور جمعیۃ علماء ہند کے فنڈ سے پورے ملک کا دورہ کرایا اور ہندو مسلم اتحاد کے ساتھ جنگِ آزادی لڑنے کا فیصلہ کیا۔
ان کے بعد ان کے جانشین شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ نے اپنی زندگی ملک و ملت کے لیے وقف کر دی۔ 1920ء میں جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس میں انگریز حکومت کے ساتھ “ترکِ موالات” (عدمِ تعاون) کا تاریخی فتویٰ دیا گیا، جس کے اہم نکات درج ذیل تھے:
انگریزی حکومت کے دیے گئے خطابات اور اعزازی عہدے چھوڑ دیے جائیں۔
کونسلوں کی ممبری ترک کر دی جائے۔
انگریزوں کو تجارتی نفع نہ پہنچایا جائے (بائیکاٹ)۔
سرکاری امداد پانے والے اسکولوں اور کالجوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔
برطانوی فوج میں ملازمت کرنا شرعاً حرام ہے۔
سرکاری عدالتوں میں مقدمات نہ لے جائے جائیں۔
جولائی 1921ء میں کراچی کے اجلاس میں مولانا مدنیؒ نے ان تجاویز کا اعلانیہ پاس کرایا، جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ 26 ستمبر 1921ء کو کراچی کی عدالت میں برطانوی جج کے سامنے کھڑے ہو کر حضرت مدنیؒ نے جو تاریخی اور بے باک بیان دیا، وہ سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ آپ نے جج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دہرایا: “برطانوی فوج میں ملازمت حرام ہے، اگر گورنمنٹ ہماری مذہبی آزادی سلب کرے گی تو مسلمان اپنی جان تک قربان کر دیں گے، اور میں پہلا شخص ہوں گا جو اپنی جان پیش کرے گا”۔ اس شجاعت پر رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر نے فرطِ عقیدت سے حضرت مدنیؒ کے قدم چوم لیے تھے۔ 9. کاروانِ حریت کے دیگر درخشندہ ستارے
جمعیۃ علماء ہند اور تحریکِ آزادی کے افق پر چمکنے والے دیگر اکابرین میں:
مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ
مفتی کفایت اللہ دہلویؒ (پہلے صدر جمعیۃ علماء ہند)
مولانا سجاد بہاریؒ
علامہ انور شاہ کشمیریؒ
مولانا شبیر احمد عثمانیؒ
مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ (مؤرخِ اسلام)
مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ
مولانا فخر الدین احمد مراد آبادیؒ
ان سب نے مل کر اس بزمِ جنوں کو سجایا تھا:
اس بزم جنوں کے دیوانے ہر راہ سے پہنچے یزداں تک
ہیں عام ہمارے افسانے دیوار چمن سے زنداں تک
خاتمہ اور لمحۂ فکریہ: ہماری ذمہ داری
یہ علمائے دیوبند اور مدارسِ اسلامیہ کی قربانیوں کی محض ایک ادنیٰ سی جھلک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وطنِ عزیز کے چمن کو علماء دیوبند نے اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔
جب پڑا وقت، گلستاں پہ تو خوں ہم نے دیا
آج بہار آئی تو کہتے ہیں تیر ا کام نہیں
آج کے سیاسی منظر نامے میں جہاں اربابِ اقتدار اور فرقہ پرست عناصر مسلمانوں اور علماء دیوبند کا نام تاریخ سے مٹانے کی ناپاک کوششیں کر رہے ہیں، یہ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ان اسلاف اور قومی ہیروز کی تاریخ کو زندہ رکھیں۔ یومِ آزادی کے اس موقع پر ہمیں نہ صرف انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہیے، بلکہ ان کی زندگی کے نقوش کو مشعلِ راہ بنا کر ملک کی تعمیر و ترقی اور اس کی یکجہتی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اگر ہم اپنے ان مجاہدین کو بھول گئے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ***










