Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*تعلیمی بحران ،ڈیجیٹل مزاحمت اور سوال پوچھتی ہوئی نئی نسل کی داستان*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*تعلیمی بحران ،ڈیجیٹل مزاحمت اور سوال پوچھتی ہوئی نئی نسل کی داستان*

از قلم: *اسماء جبین فلک*

جمہوریتوں کی اصل طاقت صرف پارلیمان، عدالت یا ذرائع ابلاغ (Media) نہیں ہوتے۔ ان کی اصل قوت وہ شہری ہوتے ہیں جو سوال پوچھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ بعض اوقات یہ سوال تجربہ کار صحافی اٹھاتے ہیں، کبھی اپوزیشن جماعتیں اور کبھی عدلیہ۔ لیکن تاریخ کے کچھ غیر معمولی موڑ ایسے بھی آتے ہیں جب احتساب (Accountability) کی مشعل ان ہاتھوں میں آ جاتی ہے جنہیں معاشرہ ابھی مکمل بالغ بھی نہیں سمجھتا۔ بھارت میں حالیہ تعلیمی تنازعات نے ایسا ہی ایک منظر پیش کیا ہے، جہاں اسکول کی وردی پہنے چند نوجوانوں نے پورے نظامِ تعلیم اور اس کے نگہبان اداروں کو آئینہ دکھا دیا۔
یہ کہانی رانچی کے اٹھارہ سالہ طالب علم سارتھک سدھانت، ویدانت شریواستو اور انیس سالہ اخلاقی ہیکر (Ethical Hacker) نسارگ ادھیکاری کی ہے، لیکن درحقیقت یہ کروڑوں بھارتی طلبہ کی کہانی بھی ہے جو برسوں سے ایک ایسے امتحانی نظام کے رحم و کرم پر ہیں جس کی ساکھ مسلسل سوالوں کی زد میں ہے۔
حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ریڈیو پروگرام “من کی بات” میں موسمِ گرما، بیل کے شربت اور روزمرہ زندگی کے دیگر موضوعات پر گفتگو کی، مگر لاکھوں طلبہ کے ذہنوں میں گردش کرنے والے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا کہ آخر ملک کے امتحانی نظام کو کیا ہو گیا ہے؟ نیٹ یو جی (NEET-UG) کے تنازعات، سی یو ای ٹی (CUET) کے تکنیکی مسائل، مختلف ریاستی کمیشنوں کے نتائج میں تاخیر اور سی بی ایس ای (CBSE) کے امتحانی عمل پر اٹھنے والے سوالات اب انفرادی واقعات نہیں رہے، بلکہ ایک وسیع تر بحران کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
ویدانت شریواستو کی کہانی اس بحران کی ایک علامت بن کر سامنے آئی۔ اس نے فزکس کا امتحان اعتماد کے ساتھ دیا تھا، مگر نتیجہ توقعات سے کہیں کم نکلا۔ جب اس نے اپنی جوابی کاپی (Answer Sheet) کی نقل حاصل کی تو حیران رہ گیا۔ کاپی کے کچھ حصے اس کی اپنی تحریر پر مشتمل تھے جبکہ بعض صفحات کسی دوسرے طالب علم کے معلوم ہوتے تھے۔ یہ محض ایک انتظامی غلطی نہیں تھی؛ یہ ایک ایسے نظام کی نشاندہی تھی جس میں ایک طالب علم کی برسوں کی محنت ایک فائل یا اسکیننگ کی غلطی کی نذر ہو سکتی ہے۔ ویدانت نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اپنی آواز سوشل میڈیا کے ذریعے بلند کی، اور بالآخر بورڈ کو وضاحت اور اصلاح پر مجبور ہونا پڑا۔
اگر ویدانت نے نظام کی کمزوری کو بے نقاب کیا تو سارتھک سدھانت نے اس کے پس پردہ موجود انتظامی ڈھانچے پر سوال اٹھایا۔ اس نوجوان نے سرکاری ٹینڈر (Tender) دستاویزات کا مطالعہ شروع کیا اور ان میں ایسی تبدیلیوں کی نشاندہی کی جنہوں نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ اس کے مطابق ابتدائی شرائط میں مخصوص مالی اہلیت (Financial Eligibility) درکار تھی، مگر بعد میں ان شرائط میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن سے ایک مخصوص کمپنی “کوئیمپٹ ایڈوٹیک” کے لیے راستہ نسبتاً آسان ہو گیا۔ سارتھک نے پوچھا کہ اگر معیار پہلے درست تھا تو اسے بدلا کیوں گیا؟ اور اگر بدلا گیا تو کس بنیاد پر؟
یہ سوال محض ایک کمپنی یا ایک معاہدے کا نہیں تھا بلکہ شفافیت (Transparency) اور عوامی اعتماد کا تھا۔ جمہوری اداروں کی طاقت اسی وقت قائم رہتی ہے جب ان کے فیصلے نہ صرف منصفانہ ہوں بلکہ منصفانہ دکھائی بھی دیں۔
نسارگ ادھیکاری کی کہانی اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والی ہے۔ اس نوجوان نے سائبر سکیورٹی (Cyber Security) کے شعبے میں اپنی مہارت استعمال کرتے ہوئے امتحانی نظام کے ڈیجیٹل ڈھانچے کا جائزہ لیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ متعدد پورٹلز میں ایسی خامیاں موجود ہیں جن کے ذریعے حساس تعلیمی معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس نے متعلقہ اداروں کو ان خامیوں سے آگاہ بھی کیا، مگر اس کے بقول بروقت توجہ نہیں دی گئی۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ کے تعلیمی ریکارڈ کے تحفظ کا سوال ہے۔
اس پوری بحث کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی رہا کہ بعض حلقوں نے ان نوجوانوں کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے ان کی نیت پر سوال اٹھانا شروع کر دیا۔ سوشل میڈیا کے شور میں انہیں “اینٹی نیشنل” (Anti-National)، “ڈیپ اسٹیٹ ایجنٹ” (Deep State Agent) اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا گیا۔ مگر نوجوانوں کا جواب سادہ تھا: ہم کسی نظریاتی جنگ کا حصہ نہیں، ہم صرف اپنے مستقبل کے بارے میں جواب چاہتے ہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی طالب علم کا اپنی جوابی کاپی دیکھنے کا حق مانگنا، امتحانی شفافیت پر سوال اٹھانا یا سرکاری معاہدوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا واقعی ریاست دشمنی ہے؟ یا پھر یہ وہی جمہوری شعور ہے جسے ہر جمہوری معاشرہ اپنے شہریوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے؟
اس سارے منظرنامے میں سیاسی قیادت کا ردِعمل بھی قابلِ غور رہا۔ ان نوجوانوں کی ملاقات اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی سے ہوئی، جنہوں نے اس مسئلے کو وسیع تر تعلیمی بحران کے تناظر میں دیکھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ کسی بھی مسئلے کا حل اس کے وجود کو تسلیم کرنے سے شروع ہوتا ہے۔ اگر طلبہ مسلسل شکایات کر رہے ہیں تو انہیں سازش قرار دینے کے بجائے ان کے اعتراضات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب ذرائع ابلاغ (Media) کا کردار بھی بحث کا موضوع بنا۔ وہ کوچنگ ادارے جنہیں برسوں تک کامیابی کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا رہا، اچانک “کوچنگ مافیا” کہلانے لگے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ مسئلہ آج موجود ہے تو اس کی جڑیں کل بھی موجود تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوچنگ انڈسٹری (Coaching Industry) کا غیر معمولی پھیلاؤ خود اس امر کی علامت ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں پر اعتماد میں کمی آئی ہے۔
اس بحران کی سب سے دردناک تصویر راجستھان کے طالب علم پردیپ میگھوال کی کہانی میں نظر آتی ہے، جو نیٹ یو جی کے تنازعے کے بعد شدید مایوسی کا شکار ہوا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کروڑوں نوجوان اپنے مستقبل کے لیے مسابقتی امتحانات پر انحصار کرتے ہیں، امتحانی نظام کی ہر لغزش محض انتظامی ناکامی نہیں رہتی بلکہ انسانی زندگیوں کو متاثر کرتی ہے۔
سی بی ایس ای، نیٹ، سی یو ای ٹی اور دیگر امتحانی تنازعات کو الگ الگ واقعات کے طور پر دیکھنا آسان ہے، لیکن ان سب کو ایک ساتھ رکھا جائے تو ایک بڑی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ یہ تصویر اعتماد کے بحران (Crisis of Trust) کی ہے۔ جب طلبہ کو اپنے نتائج پر یقین نہ رہے، والدین کو امتحانی نظام پر اعتماد نہ ہو اور اداروں کی وضاحتیں لوگوں کو مطمئن نہ کر سکیں تو مسئلہ محض تکنیکی نہیں رہتا بلکہ ادارہ جاتی ساکھ کا بن جاتا ہے۔
تاہم اس پوری کہانی میں امید کی ایک کرن بھی موجود ہے۔ سارتھک، ویدانت اور نسارگ دراصل ایک نئی نسل کی علامت ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو سوال پوچھنے سے نہیں ڈرتی، جو دستاویزات پڑھتی ہے، ڈیٹا کا تجزیہ کرتی ہے، معلومات کے حق (Right to Information) کو سمجھتی ہے اور محض نعرے سننے کے بجائے ثبوت مانگتی ہے۔ یہی وہ شہری شعور (Civic Consciousness) ہے جو کسی بھی جمہوریت کی اصل بنیاد ہوتا ہے۔
ممکن ہے آنے والے برسوں میں یہ تنازعات ختم ہو جائیں، سرور بہتر ہو جائیں، امتحانی طریقہ کار تبدیل ہو جائے اور نئی پالیسیاں نافذ کر دی جائیں۔ لیکن تاریخ شاید اس دور کو ایک اور وجہ سے یاد رکھے گی: اس لیے کہ ایک وقت ایسا آیا تھا جب چند وردی پوش بچوں نے پورے نظام سے سوال پوچھنے کی جرأت کی تھی۔ اور کبھی کبھی تاریخ کو بدلنے کے لیے صرف اتنی ہی جرأت کافی ہوتی ہے۔