*تلنگانہ جہد کاروں کاخون بہانے والی کانگریس حکومت کو ضرو رخمیازہ بھگتنا پڑے گا*
*رہائی کے بعد ٹی آرایس سربراہ کلواکنٹلہ کویتا کی میڈیا سے بات چیت*
سربراہ تلنگانہ رکشنا سینا کلواکنٹلہ کویتا بولارم پولیس اسٹیشن سے رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کی اور انتباہ دیاکہ جہد کاروں کے ساتھ ناروا سلوک کا خمیازہ کانگریس حکومت کو ضرور بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ جہد کاروں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے مطالبہ پر بھوپوراٹم پروگرام منظم کیاگیا۔جس کی تائید وحمایت میں وہ بھی شریک ہوئیں۔انہوں نے کہاکہ ماقبل انتخابات کانگریس پارٹی نے تلنگانہ جہد کاروں کو ماہانہ وظیفہ‘ شناختی کارڈس ‘250گز اراضی اور شہداءکے خاندانوں کو مالی امداد کی فراہمی کا وعدہ کیاتھا۔مگر تیس ماہ گزرجانے کے باوجود ایک بھی وعدے کوپورا نہیں کیاگیا۔کویتا نے الزام عائد کیاکہ جہد کاروں نے اپنے حقوق کا تقاضہ کیا تب ان پر تشدد برپا کیاگیا۔جہد کاروں کاخون بہایاگیا۔انہوںنے کہاکہ تلنگانہ جہد کاروں کا خون بہانے والی کانگریس حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔انہوں نے خواتین کے ساتھ ناروا سلوک پر شدید برہمی کااظہار کیا اور کہاکہ پولیس مینول میں ےہ کہاں درج ہے کہ خواتین کو گھسیٹتے ہوئے گرفتار کیاجائے۔کویتا نے چیف منسٹر ‘خاتون وزراءاور ڈی جی پی سے اس معاملہ میں جواب طلب کیا۔کویتا نے کہاکہ ان کے ساتھ جو برتاﺅ کیاگیا اس کی ویڈیوز بہت حقائق کی غماز ہےں۔انہوںنے سوال کیاکہ جہد کاروں کےلئے حقوق کا مطالبہ کرنا کیا غلط ہے ۔انہوںنے کانگریس حکومت کو شدید ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ اگر وعدے پورے کرنے کی صلاحیت نہیں تھی تو عوام سے وعدے کیوں کئے گئے ۔انہوںنے کہاکہ پولیس میں بھرتی کے خصوص میں کانسٹبل امیدوار بھی صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں۔ان کے مسائل پر بھی حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔کویتا نے پرزور انداز میں کہاکہ تلنگانہ جہد کاروں کو حصول انصاف تک ان کی تحریک جاری رہے گی۔انہوں نے کہاکہ کانگریس حکومت کو ظلم وستم کی قیمت ضرور چکانی پڑے گی۔*تلنگانہ جہد کاروں کاخون بہانے والی کانگریس حکومت کو ضرو رخمیازہ بھگتنا پڑے گا*
*رہائی کے بعد ٹی آرایس سربراہ کلواکنٹلہ کویتا کی میڈیا سے بات چیت*
سربراہ تلنگانہ رکشنا سینا کلواکنٹلہ کویتا بولارم پولیس اسٹیشن سے رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کی اور انتباہ دیاکہ جہد کاروں کے ساتھ ناروا سلوک کا خمیازہ کانگریس حکومت کو ضرور بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ جہد کاروں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے مطالبہ پر بھوپوراٹم پروگرام منظم کیاگیا۔جس کی تائید وحمایت میں وہ بھی شریک ہوئیں۔انہوں نے کہاکہ ماقبل انتخابات کانگریس پارٹی نے تلنگانہ جہد کاروں کو ماہانہ وظیفہ‘ شناختی کارڈس ‘250گز اراضی اور شہداءکے خاندانوں کو مالی امداد کی فراہمی کا وعدہ کیاتھا۔مگر تیس ماہ گزرجانے کے باوجود ایک بھی وعدے کوپورا نہیں کیاگیا۔کویتا نے الزام عائد کیاکہ جہد کاروں نے اپنے حقوق کا تقاضہ کیا تب ان پر تشدد برپا کیاگیا۔جہد کاروں کاخون بہایاگیا۔انہوںنے کہاکہ تلنگانہ جہد کاروں کا خون بہانے والی کانگریس حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔انہوں نے خواتین کے ساتھ ناروا سلوک پر شدید برہمی کااظہار کیا اور کہاکہ پولیس مینول میں ےہ کہاں درج ہے کہ خواتین کو گھسیٹتے ہوئے گرفتار کیاجائے۔کویتا نے چیف منسٹر ‘خاتون وزراءاور ڈی جی پی سے اس معاملہ میں جواب طلب کیا۔کویتا نے کہاکہ ان کے ساتھ جو برتاﺅ کیاگیا اس کی ویڈیوز بہت حقائق کی غماز ہےں۔انہوںنے سوال کیاکہ جہد کاروں کےلئے حقوق کا مطالبہ کرنا کیا غلط ہے ۔انہوںنے کانگریس حکومت کو شدید ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ اگر وعدے پورے کرنے کی صلاحیت نہیں تھی تو عوام سے وعدے کیوں کئے گئے ۔انہوںنے کہاکہ پولیس میں بھرتی کے خصوص میں کانسٹبل امیدوار بھی صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں۔ان کے مسائل پر بھی حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔کویتا نے پرزور انداز میں کہاکہ تلنگانہ جہد کاروں کو حصول انصاف تک ان کی تحریک جاری رہے گی۔انہوں نے کہاکہ کانگریس حکومت کو ظلم وستم کی قیمت ضرور چکانی پڑے گی۔










