*حکومت، آٹو ڈرائیورس کی مشکلات میں مزید اضافہ کررہی ہے*
*نئی پالیسی کے باعث روزگار سے محرومی کے امکانات۔ مسائل کی عدم یکسوئی پر احتجاج کا انتباہ: کے کویتا*
تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے کہا ہے کہ حکومت “لاسٹ مائل کنیکٹیویٹی” کے نام پر آٹو ڈرائیوروں کے روزگار پر ضرب لگا رہی ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آٹو سروس کو بھی سرکاری تحویل میں لینے کی کوشش قابل مذمت ہے اور اس سے ہزاروں ڈرائیوروں کا ذریعہ معاش متاثر ہوگا۔تلنگانہ رکشنا سینا کے دفتر میں آٹو ڈرائیوروں کے ساتھ اجلاس کے دوران کویتا نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کے ساتھ کھڑی ہیں اور ان کے حقوق کے لئے جدوجہد کریں گی۔ اس موقع پر آٹو ڈرائیوروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئی پالیسی کے باعث وہ روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں۔ا انہوں نے کہا کہ مفت بس سروس کے باعث پہلے ہی آٹو ڈرائیوروں کی آمدنی متاثر ہوئی ہے اور کئی افراد قسطیں (EMI) ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت ای وی آٹوز کے نام پر بڑی تعداد میں گاڑیاں لا کر خود چلا رہی ہے، جس سے مقامی ڈرائیوروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ “ون اسٹیٹ، ون پرمٹ” پالیسی اور سالانہ 12 ہزار روپئے امداد کے وعدے بھی پورے نہیں کئے گئے جبکہ معمولی خلاف ورزیوں پر بھاری چالانات عائد کئے جا رہے ہیں۔کویتا نے مطالبہ کیا کہ موجودہ آٹو ڈرائیوروں کو ہی لاسٹ مائل کنیکٹیویٹی میں شامل کیا جائے اور حکومت آٹو یونینس کے ساتھ بات چیت کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ڈرائیوروں کے حق میں فیصلے نہ کئے گئے تو تلنگانہ رکشنا سینا، آٹو ڈرائیوروں کے ساتھ مل کر اندرا پارک پردھرنا دے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ کریم نگر، ورنگل اور نظام آباد میں بھی ای وی آٹوز متعارف کرانے کی بات ہو رہی ہے، جس کی مخالفت کی جائے گی۔ “ہم ان ای وی آٹوز کو سڑکوں پر آنے نہیں دیں گے جو آٹو ڈرائیوروں کے روزگار کے لئے خطرہ بنیں۔کویتا نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ کچرا جمع کرنے والے ای وی آٹو ڈرائیوروں سمیت تقریباً 30 ہزار افراد بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریاست بھر کے تمام آٹو ڈرائیوروں کے مفاد میں اقدامات کئے جائیں بصورت دیگر شدید احتجاج کیا جائے گا۔










