Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*سنگارینی میں ہراسانی کے باعث ورکرس شدیدذہنی دباؤ کا شکار* *جان خطرے میں ڈال کر کام کرنے پر مجبور ۔ حکومت اور انتظامیہ کا رویہ قابل مذمت* *مزدوروں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کا عزم۔ راما گنڈم میں کے کویتا کا خطاب*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*سنگارینی میں ہراسانی کے باعث ورکرس شدیدذہنی دباؤ کا شکار*

*جان خطرے میں ڈال کر کام کرنے پر مجبور ۔ حکومت اور انتظامیہ کا رویہ قابل مذمت*

*مزدوروں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کا عزم۔ راما گنڈم میں کے کویتا کا خطاب*

راماگنڈم: سربراہ تلنگانہ رکشنا سیناکلواکنٹلہ کویتا نے سنگارینی “بائی باٹا” پروگرام کے تحت راماگنڈم او سی پی3 اور بیس ورکشاپ میں مزدوروں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل کی تفصیل سے سماعت کی۔ کویتا نے ریاستی حکومت اور سنگارینی انتظامیہ پر شدید تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ سنگارینی میں آج بھی برطانوی دور جیسا نظام چل رہا ہے جہاں مزدوروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ اگر کوئی مزدور افسران کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اسے چارج شیٹ دے دی جاتی ہے جبکہ افسران کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے دباؤ کے باعث مزدور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ افسران احتجاج کریں تو انہیں اجازت دی جاتی ہے لیکن مزدوروں کو معمولی باتوں پر میمو دے کر دبایا جاتا ہےجو ناقابل قبول ہے۔کویتا نے اعتراف کیا کہ ماضی میں بعض پالیسیوں کے باعث مزدوروں کو مالی نقصان ہوا۔ اس پر انہوں نے معذرت خواہی کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئندہ ایسی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہوئے مزدوروں کے حقوق کے لئے مؤثر جدوجہد کی جائے گی اور انہیں ان کا مکمل حق دلایا جائے گا۔انہوں نے میڈیکل اسکیم میں شفافیت لانے، تمام مزدوروں کے لئے یکساں سہولیات فراہم کرنے اور ریفرل اسپتالوں میں فیس وصولی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سنگارینی مزدوروں کے بچوں کے لئے تعلیمی سہولیات بھی ناکافی ہیں اور حکومت کو اس جانب فوری توجہ دینی چاہئے۔کویتا نے ڈپینڈنٹ ملازمتوں میں تاخیر،  عرفیت ناموں پر ویجلنس کیسس اور غیر ضروری تعلیمی شرائط عائد کرنے پر بھی شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں ملازمتیں ابھی تک زیر التوا ہیں اور مزدوروں کو مسلسل پریشان کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کانکنی کے شعبہ میں حفاظتی اقدامات کی کمی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ناقص مشینری اور سہولیات کی کمی کے باعث مزدور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر اوپن کاسٹ مائننگ میں دھول، پانی کی قلت اور حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی کو سنگین مسئلہ قرار دیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوپن کاسٹ اور انڈر گراؤنڈ مائننگ دونوں کو متوازن انداز میں چلایا جائے اور نجی کمپنیوں کے بجائے سنگارینی ادارہ خود ان کانوں کو چلائے تاکہ مستقل ملازمتوں میں اضافہ ہو۔کویتا نے مزدوروں کی رہائش گاہوں کی خستہ حالی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ہزاروں خالی کوارٹرس کو بہتر بنا کر مزدوروں کو فراہم کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ وہ بی آر ایس سے علیحدگی کے بعد عوام کی خدمت کے لئے نئی پارٹی قائم کر چکی ہیں اور مزدوروں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے “بائی باٹا” پروگرام کے تحت ان کے درمیان آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 20 برسوں سے مزدوروں کے ساتھ کھڑی ہیں اور آئندہ بھی ان کے حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گی۔کویتا نے کہا کہ ان کی جماعت “پانچ جنیم” کے تحت مفت تعلیم، مفت علاج، سماجی انصاف، کسانوں کے احترام اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مزدوروں سے اپیل کی کہ وہ یونین انتخابات میں ایچ ایم ایس اور عام انتخابات میں ان کی جماعت کی حمایت کریں تاکہ حقیقی تبدیلی لائی جا سکے۔