Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*سیاست کے بے تاج بادشاہ: بھارت کے طویل ترین وزرائے اعلیٰ کی دلچسپ داستان*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

آج جب نتیش کمار نے بہار کے تاریخی گاندھی میدان میں اپنی سیاسی زندگی کی دسویں حلف برداری کی، تو منظر صرف ایک اور حکومت کی تشکیل کا نہ تھا بلکہ بھارت کی وفاقی سیاست کے اس غیر معمولی رجحان کی تازہ توثیق تھا جسے طویل المدت وزرائے اعلیٰ کی روایت کہا جا سکتا ہے۔ ایک طرف ریکارڈ ساز دسویں حلف نے نتیش کمار کو روشنی کے مرکز میں لا کھڑا کیا، تو دوسری طرف یاد دلایا کہ مدتِ اقتدار کے حساب سے وہ اب بھی ایسے کئی رہنماؤں سے پیچھے ہیں جنہوں نے اپنی ریاستوں پر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک حکمرانی کی اور جن کی داستانیں بھارتی جمہوریت کے پیچیدہ مگر دل چسپ چہرے کو نمایاں کرتی ہیں۔
اگر مجموعی مدت کو معیار بنایا جائے تو اس فہرست کے سرفہرست نام سکم کے پون کمار چاملنگ کا ہے جو دسمبر 1994 سے مئی 2019 تک لگ بھگ 24 برس اور 165 دن مسلسل وزیر اعلیٰ رہے اور انہوں نے سِکم ڈیموکریٹک فرنٹ کے پلیٹ فارم سے 5 لگاتار میعادوں کے ذریعے اپنی چھوٹی سی ریاست کو استحکام، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور حیاتیاتی کھیتی کے عالمی نمونے کی طرف موڑا۔ چاملنگ کی قیادت میں سکم نے نامیاتی ریاست قرار پانے، سیاحت کے فروغ اور ماحول دوست پالیسیوں کی بدولت ایک ایسی شناخت قائم کی جس نے انہیں صرف مدت کے اعتبار سے نہیں بلکہ طرزِ حکمرانی کے لحاظ سے بھی ممتاز کر دیا اور یوں وہ واقعی ایک علاقائی بے تاج بادشاہ کے طور پر ابھرے۔ اسی طرح اڈیشہ کے نوین پٹنایک مارچ 2000 سے جون 2024 تک 24 برس اور 99 دن کے لیے وزیر اعلیٰ رہے اور بیجو جنتا دل کے سربراہ کے طور پر انہوں نے فلاحی اسکیموں، سائیکلون مینجمنٹ اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے ذریعے ریاست کی سیاست کو علاقائی مرکزیت بخشی، اگرچہ 2024 کے انتخابات میں اچانک شکست نے یہ بھی دکھا دیا کہ جمہوریت میں کوئی طویل حکمران ناقابلِ شکست نہیں رہتا۔ مغربی بنگال کے جیوتی بسو نے 1977 سے 2000 تک تقریباً 23 برس کی کمیونسٹ حکمرانی کے ذریعے بائیں بازو کے مضبوط قلعے کی علامت بن کر ثابت کیا کہ نظریاتی سیاست، منظم کیڈر اور زمینی تنظیم کے امتزاج سے کس طرح طویل المدت اقتدار ممکن بنتا ہے، اگرچہ اقتصادی جمود اور سیاسی تھکن نے بالآخر اس تجربے کو بھی تبدیلی کے لیے راستہ دینا پڑا۔
اس فہرست میں شمال مشرقی اور ہمالیائی خطے کی کئی شخصیات نمایاں ہیں جنہوں نے اپنے نسبتاً چھوٹے مگر پیچیدہ جغرافیوں میں لمبی اننگز کھیلی اور علاقائی قیادت کو ایک مضبوط استعارہ بنا دیا۔ اروناچل پردیش کے گگونگ اپانگ نے دو مختلف ادوار میں مجموعی طور پر 22 برس سے زائد عرصہ وزارتِ اعلیٰ پر گزارا اور شروع کی دہائیوں میں جب یہ ریاست سیاسی عدم استحکام سے دوچار تھی تو انہوں نے مرکز سے تعلقات، قبائلی سیاست اور ترقیاتی اسکیموں کے توازن کے ذریعے ایک مخصوص طرح کا استحکام پیدا کیا جس کا ذکر طویل المدت وزرائے اعلیٰ کی تمام مستند فہرستوں میں آتا ہے۔ میزورم کے لال تھانہ ولا تقریباً 22 برس تک مختلف وقفوں کے ساتھ برسرِ اقتدار رہے اور انہوں نے شورش سے نکلنے والی ریاست میں امن معاہدوں، خود مختاری کے احساس اور فلاحی اقدامات کے ذریعے ایسی طویل سیاسی گنجائش پیدا کی جس کا تسلسل آج بھی وہاں کے سیاسی کلچر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تریپورہ کے مانک سرکار 19 برس اور 363 دن کے لیے وزیر اعلیٰ رہے اور سادگی، پاک دامنی اور بائیں بازو کے نظریاتی عزم کی علامت بن کر انہوں نے ثابت کیا کہ شخصی دیانت اور طبقاتی سیاست کا امتزاج عوامی اعتماد کو طویل عرصے تک زندہ رکھ سکتا ہے، اگرچہ وقت کے ساتھ اقتصادی ترجیحات کے بدلنے اور بی جے پی کے ابھار نے وہاں بھی منظرنامہ تبدیل کر دیا۔
ہماچل پردیش کے ویر بھدر سنگھ، تمل ناڈو کے ایم کرونانیدھی اور پنجاب کے پرکاش سنگھ بادل اس کہانی کے وہ کردار ہیں جنہوں نے وقفہ وقفہ سے اقتدار حاصل کر کے مجموعی مدت کو دو دہائی کے قریب پہنچایا اور یوں علاقائی سیاست میں اپنی شخصیات کو تقریباً نیم شاہانہ حیثیت تک پہنچا دیا۔ ویر بھدر سنگھ کانگریس کے روایتی قلعے ہماچل میں 21 برس سے زائد عرصہ مختلف ادوار میں وزیر اعلیٰ رہے اور مقامی سماجی ڈھانچے، پہاڑی معیشت اور پارٹی تنظیم پر اپنی مضبوط گرفت کے باعث انہیں راجہ صاحب کے لقب سے یاد کیا جاتا رہا جو جمہوری سیاست میں موروثی وقار کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ کرونانیدھی نے تمل ناڈو میں دراوڑی سیاست، لسانی شناخت اور سیکولر بیانیے کے ذریعے تقریباً 18 برس تک حکومت کی اور ان کی ادبی شخصیت، منظرنامے کی تحریر اور پارٹی پر کنٹرول نے انہیں ایسا بے تاج بادشاہ بنایا جس کے بعد بھی ریاستی سیاست بڑی حد تک انہی کے خانوادے کے گرد گردش کرتی رہی، جبکہ پرکاش سنگھ بادل نے پنجاب میں سکھ سیاست، کسان تحریکوں اور اتحادی حکمتِ عملی کے امتزاج سے 18 برس پر محیط مجموعی میعاد حاصل کی جس سے اکالی سیاست کو ایک مستقل حوالہ ملا۔
اسی تناظر میں نتیش کمار کی داستان ایک الگ رنگ لیے ہوئے ہے، کیونکہ وہ مدتِ اقتدار کے بجائے حلف برداریوں کی تعداد کے ریکارڈ کے ساتھ منظر پر ہیں اور دسویں بار وزارتِ اعلیٰ سنبھالنے کے باوجود مجموعی عرصہ ابھی 19 برس کے قریب ہے جو انہیں تازہ ترین فہرستوں میں آٹھویں یا نواں مقام دلاتا ہے۔ نتیش کمار کی سیاسی حکمتِ عملی کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے کسی ایک اتحاد سے مستقل وابستگی کے بجائے حالات کے مطابق بی جے پی، آر جے ڈی اور کانگریس جیسے متضاد قطبوں کے ساتھ اشتراک اور علیحدگی کے ذریعے اقتدار کا تسلسل برقرار رکھا، جسے ناقدین موقع پرستی اور حامیان عملی لچک سے تعبیر کرتے ہیں۔ 2025 کے حالیہ انتخابات میں این ڈی اے کی 243 میں سے 202 نشستوں پر فیصلہ کن کامیابی اور اس کے بعد گاندھی میدان میں شاندار حلف برداری اس بات کا ثبوت ہے کہ بہار کی سیاست میں ابھی تک نتیش کمار کی حکمت، تنظیمی ڈھانچے اور شخصیت کا امتزاج ایسی قوت رکھتا ہے جو انہیں کنگ میکر سے بڑھ کر خود کنگ بنائے رکھے ہوئے ہے، اگرچہ مدت کے اعتبار سے وہ اب بھی چاملنگ، پٹنایک یا جیوتی بسو کے ریکارڈ سے کافی دور ہیں۔
طویل المدت وزرائے اعلیٰ کی اس پوری فہرست کو محض شخصیات کا شماریاتی جدول سمجھ لینا سطحیت ہوگی، کیونکہ اس کے پیچھے وہ گہرے سماجی، اقتصادی اور ادارہ جاتی عوامل کارفرما ہیں جو بھارتی جمہوریت کو باقی وفاقی نظاموں سے منفرد بناتے ہیں۔ ایک بڑا عامل علاقائی جماعتوں اور مقامی شناختوں کا ابھار ہے، جس نے سکم، اڈیشہ، تمل ناڈو، تریپورہ اور بہار میں ایسے لیڈروں کو جنم دیا جو اپنی زبان، ثقافت اور علاقائی مفادات کے محافظ کی حیثیت سے عوام کے دلوں میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے اور یوں دہائیوں تک ووٹ بینک کو جوڑے رکھا۔ دوسرا عنصر فلاحی سیاست اور براہِ راست فائدہ پہنچانے والی اسکیمیں ہیں، جیسے سستی راشن، اسکالرشپس، صحت و بیمہ پروگرام، کسان سبسڈی اور خواتین کے لیے مخصوص مراعات، جنہوں نے نوین پٹنایک، مانک سرکار اور نتیش کمار جیسے رہنماؤں کو دیہی سماج میں گہری جڑیں فراہم کیں اور انتخابی تھکن کے باوجود انہیں بار بار مینڈیٹ دلوایا۔
اس کے ساتھ ہی طویل حکمرانی کے مضمرات پر تنقیدی نگاہ ڈالنا بھی ضروری ہے، کیونکہ لمبی میعادیں جہاں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کا ذریعہ بنتی ہیں، وہیں شخصیت پرستی، ادارہ جاتی کمزوری اور حزبِ اختلاف کے سکڑ کر محض علامتی قوت بن جانے کا خطرہ بھی بڑھاتی ہیں۔ کئی ماہرین کے مطابق جب ایک ہی لیڈر دہائیوں تک اقتدار میں رہے تو بیوروکریسی، پارٹی تنظیم اور ریاستی وسائل سب اسی کے گرد مرکوز ہو جاتے ہیں جس سے داخلی احتساب کا نظام کمزور ہوتا اور پالیسی پر اختلاف رائے کی گنجائش محدود ہو جاتی ہے، اگرچہ باقاعدہ انتخابات اس پورے عمل کو کسی نہ کسی سطح پر متوازن رکھتے ہیں جیسا کہ نوین پٹنایک کی شکست یا سکم میں چاملنگ کے اقتدار کے خاتمے سے ظاہر ہوا۔ یہی توازن دراصل بھارتی جمہوریت کو ایک ایسا نظام بناتا ہے جہاں سیاست کے بے تاج بادشاہ بھی بالآخر ووٹر کے سامنے جواب دہ ہیں اور اگر کارکردگی، نظم و نسق یا داخلی جمہوریت میں نقائص حد سے بڑھ جائیں تو عوام اقتدار کے تاج کو کسی اور کے سر پر سجا دینے سے گریز نہیں کرتے، چاہے وہ رہنما کتنے ہی برسوں سے ریاست کا بلا شرکتِ غیرے امین کیوں نہ رہا ہو۔
یوں طویل المدت وزرائے اعلیٰ کی یہ داستان محض ریکارڈ بُک کے چند خشک اعداد نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی، سماجی اور نفسیاتی منظومہ ہے جس میں سکم کے پُرسکون پہاڑوں سے لے کر بہار کے سیاسی طور پر ہنگامہ خیز میدانوں تک مختلف ریاستیں اپنے اپنے انداز میں جمہوری تجربہ رقم کر رہی ہیں۔ پون کمار چاملنگ، نوین پٹنایک، جیوتی بسو، گگونگ اپانگ، لال تھانہ ولا، مانک سرکار، ویر بھدر سنگھ، کرونانیدھی، پرکاش سنگھ بادل اور نتیش کمار، سب مل کر اس داستان کے ایسے ابواب ہیں جو بتاتے ہیں کہ طاقت کا اصل سرچشمہ آخرکار عوام ہیں، اور یہی عوام جب کسی پر اعتماد کر لیں تو اسے برسوں تک بے تاج بادشاہ بنا کر رکھتے ہیں، لیکن جب اسی اعتماد کو ٹھیس پہنچے تو برسوں پر محیط حکمرانی بھی پل بھر میں قصۂ پارینہ بن سکتی ہے۔

Latest News

Related News