*سیتاپور میں سیلاب اور کٹان کی سنگین صورتِ حال، عمار رضوی کا وزیر اعلیٰ کو خط*
*رام پور متھرا، ریوسہ اور بہٹا کے متاثرہ علاقوں کے لیے جامع منصوبہ، فوری راحت اور مستقل تحفظ کا مطالبہ*

لکھنٶ(پریس یلیز) اترپردیش کے سابق کارگزار وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عمار رضوی نے وزیر اعلیٰ اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ کو خط لکھ کر ضلع سیتاپور کے سیلاب اور ندی کے شدید کٹان سے متاثرہ علاقوں کی سنگین صورتِ حال کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے رام پور متھرا، ریوسہ اور بہٹا بلاکس کے متاثرہ علاقوں کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنے، فوری راحت رسانی فراہم کرنے اور کٹان کے مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈاکٹر رضوی نے اپنے خط میں کہا کہ ضلع سیتاپور کی تحصیل محمودآباد کا بلاک رام پور متھرا اس وقت سیلاب سے انتہائی متاثر ہے۔ اس علاقے سے گھاگھرا ندی گزرتی ہے، جو ضلع بارہ بنکی میں ایلگن برج کے قریب پہنچ کر دریائے سرجو کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ہر سال آنے والے سیلاب اور ندی کے مسلسل کٹان کے باعث رام پور متھرا کے علاوہ ریوسہ، بہٹا اور آس پاس کے متعدد علاقوں کے دیہات بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران سینکڑوں مکانات زیرِ آب آ جاتے ہیں، جبکہ ندی کے مسلسل کٹان سے لوگوں کے گھر، کھیت اور زمینیں تباہ ہو رہی ہیں۔ اس قدرتی آفت کے باعث ہزاروں خاندانوں کے سامنے زندگی، روزگار اور بنیادی ضروریات کا سنگین بحران پیدا ہو جاتا ہے۔ مویشیوں کے لیے چارہ تک دستیاب نہیں ہو پاتا اور متاثرہ خاندانوں کو روزمرہ زندگی گزارنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ندی کے کٹان کو روکنے کے لیے سال 1980 میں اترپردیش حکومت کی جانب سے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں بعض دیہات کو کٹان سے تحفظ بھی حاصل ہوا، تاہم موجودہ حالات میں کئی علاقے دوبارہ شدید کٹان کی زد میں آ گئے ہیں۔
ڈاکٹر رضوی نے بتایا کہ انگروڑا، ننکاری، شُکلن پوروا، سونارکھی، سورجن پور اور کیداری پور سمیت کئی علاقوں میں شدید کٹان جاری ہے، جبکہ ریوسہ بلاک میں ملّاپور، کاشی پور اور اس کے آس پاس کا علاقہ پہلے ہی ندی کی زد میں آ کر تباہ ہو چکا ہے۔ ندی کے آس پاس واقع دیگر دیہات بھی اس وقت سیلاب سے بری طرح متاثر ہیں اور وہاں کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال اس بات کی متقاضی ہے کہ محض وقتی راحت رسانی کے بجائے سیلاب اور کٹان کے مستقل حل کے لیے حکومت کی جانب سے ایک جامع اور سائنسی منصوبہ تیار کیا جائے۔ اس منصوبے میں حساس مقامات پر مضبوط حفاظتی بند، کٹان روکنے کے مستقل انتظامات اور متاثرہ دیہات کے تحفظ کو ترجیح دی جائے، تاکہ ہر سال آنے والی سیلابی تباہی سے عوام کو مستقل نجات مل سکے۔
ڈاکٹر رضوی نے وزیر اعلیٰ سے پُرزور مطالبہ کیا کہ ضلع سیتاپور کے سیلاب سے متاثرہ بلاکس بہٹا، ریوسہ اور رام پور متھرا میں ندی کے کٹان کو روکنے کے لیے اترپردیش حکومت کی جانب سے ایک جامع منصوبہ تیار کروا کر اس پر ترجیحی بنیادوں پر عمل درآمد کے احکامات صادر کیے جائیں۔ ساتھ ہی متاثرہ خاندانوں کو ان کی ضرورت کے مطابق خوراک، پینے کا پانی، طبی سہولیات، مویشیوں کے لیے چارہ اور دیگر ضروری امداد فوری طور پر فراہم کرنے کے لیے متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو ہر سال سیلاب اور کٹان کی تباہی سے بچانے کے لیے مستقل اور مؤثر اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ صرف ہنگامی امداد سے مسئلے کا مکمل حل ممکن نہیں، بلکہ ندی کے کٹان کو روکنے اور متاثرہ آبادیوں کو مستقل تحفظ فراہم کرنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔
ڈاکٹر رضوی نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اس سنگین انسانی مسئلے کا ترجیحی بنیادوں پر نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ محکموں اور افسران کو ضروری ہدایات جاری کریں گے اور سیلاب متاثرین کو فوری راحت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سیتاپور کے مذکورہ علاقوں کو مستقبل میں سیلاب اور کٹان کی تباہی سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کیے جائیں گے۔یہ اطلاع آل انڈیا ماٸنا ریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبہ نشرو اشاعت کے سیکرٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔










