Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*عدالت، اقتدار اور زبان: جمہوریت کے آئینے میں ایک غیر متوازن عکس*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*عدالت، اقتدار اور زبان: جمہوریت کے آئینے میں ایک غیر متوازن عکس*

از قلم : *اسماء جبین فلک*

ہندوستانی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت اس کا آئینی ڈھانچہ اور عدالتی نظام ہے، مگر کبھی کبھی یہی نظام اپنے اندر ایسے تضادات بھی سمو لیتا ہے جو نہ صرف قانونی بحث کو جنم دیتے ہیں بلکہ اخلاقی سوالات کو بھی شدت سے ابھارتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پون کھیڑا کو سپریم کورٹ کی جانب سے ملی عبوری ضمانت ایک عام عدالتی کارروائی معلوم ہو سکتی تھی، اگر اس کے ساتھ عدالت نے ہیمنتا بسوا شرما کی زبان اور طرزِ بیان پر غیر معمولی تبصرہ نہ کیا ہوتا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے یہ معاملہ ایک سادہ قانونی خبر سے نکل کر جمہوری اقدار، سیاسی تہذیب اور آئینی توازن کی ایک بڑی بحث میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
یہ پہلا موقع شاید نہ ہو، مگر کم از کم حالیہ عدالتی تاریخ میں یہ کم ہی دیکھا گیا ہے کہ کسی وزیر اعلیٰ کے بیانات کو اس شدت اور تفصیل کے ساتھ عدالتی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ہو۔ عدالت نے نہ صرف ان بیانات کو نوٹ کیا بلکہ انہیں غیر پارلیمانی اور قابلِ اعتراض بھی قرار دیا۔ اس کے برعکس، اسی عدالت کی ایک دوسری بینچ، جس میں جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا شامل تھے، نے انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما کے متنازعہ نعروں کو مجرمانہ دائرے سے باہر قرار دیتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ مسترد کر دی۔
یہ تضاد محض قانونی تشریح کا فرق نہیں لگتا، بلکہ اس سے ایک گہرا سوال جنم لیتا ہے۔ کیا قانون کی نظر میں زبان کی اہمیت موقع اور شخصیت کے حساب سے بدل جاتی ہے؟ یا پھر یہ عدالتی حساسیت کا معاملہ ہے جو ہر کیس کے تناظر میں نئی شکل اختیار کر لیتی ہے؟
پون کھیڑا کے مقدمے میں عدالت نے واضح کیا کہ ان کے بیانات سیاسی رقابت کا حصہ تھے اور اس بنیاد پر انہیں حراست میں لے کر تفتیش کرنا ضروری نہیں تھا۔ یہ ایک اہم اصول کی یاد دہانی ہے کہ گرفتاری سزا نہیں بلکہ ایک غیر معمولی اقدام ہونا چاہیے، جسے صرف ناگزیر حالات میں استعمال کیا جائے۔ لیکن اسی کے ساتھ عدالت نے جس طرح وزیر اعلیٰ کے بیانات کو ریکارڈ کیا، وہ ایک الگ ہی کہانی سناتے ہیں۔ایک ایسی کہانی جس میں اقتدار کی زبان، آئینی حدود سے ٹکراتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت میں جس انداز سے اس معاملے کو پیش کیا، وہ بھی کم دلچسپ نہیں تھا۔ انہوں نے ہیمنتا بسوا شرما کو “Constitutional Cowboy” اور “Constitutional Rambo” جیسے استعاروں سے تعبیر کیا۔ یہ محض الفاظ نہیں تھے، بلکہ ایک گہری تشویش کا اظہار تھے۔یہ تشویش کہ کہیں اقتدار کا نشہ آئینی ذمہ داریوں کو پسِ پشت نہ ڈال دے۔
یہاں سوال صرف زبان کا نہیں بلکہ اس زبان کے اثرات کا ہے۔ جب ایک ریاست کا وزیر اعلیٰ کسی ملزم کے بارے میں یہ کہے کہ وہ اسے “جہنم تک نہیں چھوڑے گا”، تو کیا اس کے بعد غیر جانبدارانہ تفتیش کی امید باقی رہتی ہے؟ کیا پولیس، جو اسی حکومت کے ماتحت ہے، واقعی آزادانہ طور پر کام کر سکتی ہے؟ عدالت نے شاید انہی خدشات کو محسوس کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں ان بیانات کو شامل کیا۔
اس پورے منظرنامے میں ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ریاستی طاقت کا استعمال۔ پون کھیڑا کے خلاف جس انداز میں کارروائی کی گئی، وہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا ہمارے نظام میں گرفتاری ایک قانونی ضرورت ہے یا بعض اوقات سیاسی دباؤ کا آلہ بھی بن جاتی ہے؟ جب ایک معروف عوامی شخصیت، جس کا مستقل پتہ اور شناخت موجود ہو، اسے اس طرح گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے جیسے وہ کوئی مفرور مجرم ہو، تو یہ عمل خود اپنے اندر کئی سوالات سمیٹے ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں اگر ہم عمر خالد کے معاملے کو دیکھیں، تو یہ بحث مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ ایک طرف عدالت زبان کے استعمال پر سخت تبصرہ کرتی ہے اور گرفتاری کو غیر ضروری قرار دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف کچھ معاملات میں طویل حراست ایک معمول بن جاتی ہے۔ یہ تضاد صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں جمہوریت کا آئینہ دھندلا سا محسوس ہونے لگتا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے کے ذریعے تین بنیادی اصولوں کی طرف اشارہ کیا ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ آزادی سب سے قیمتی حق ہے، اور اس کی حفاظت عدالت کی اولین ذمہ داری ہے۔ دوسرا یہ کہ قانون سب سے بالا ہے، چاہے کوئی کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ اور تیسرا یہ کہ جب آپ قانون کی حفاظت کرتے ہیں، تو قانون آپ کی حفاظت کرتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اصول یکساں طور پر نافذ ہو رہے ہیں؟ یا پھر ان کی تعبیر حالات اور شخصیات کے مطابق بدل رہی ہے؟
یہ معاملہ صرف پون کھیڑا یا ہیمنتا بسوا شرما کا نہیں، بلکہ اس پورے نظام کا ہے جس میں ہم سب سانس لے رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہمارا نظام واقعی اتنا مضبوط ہے کہ وہ طاقت اور انصاف کے درمیان توازن برقرار رکھ سکے؟
اگر عدالتیں اس توازن کو قائم رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں، تو جمہوریت زندہ رہتی ہے۔ اور اگر نہیں، تو پھر سوال صرف ایک فرد کا نہیں رہتا۔وہ پورے نظام پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔