*“ملک کے اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کی ذمہ داری اکثریت کی ہے. *”آواز ” کے سیمینار میں پروفیسر ڈاکٹر سرفرازکا آئینی حوالے سے خطاب ،24 یونٹ خون کیا گیا جمع*
رپورٹ : امتیاز احمد انصاری
گزشتہ چند برسوں میں اقلیتوں کی زبان ومذہب میں ہونے والی کسی بھی طرح کی حق تلفی کے خلاف پرزور طریقے سے آواز اٹھانے والی تنظیم ” آواز” کے بینر تلے جمعرات کے دن آواز کی پچھم بردوان ضلع کمیٹی اور آسنسول ٹاؤن کمیٹی کے ذریعہ شمالی آسنسول کےسفینہ پیلیس میں چوتھا خون عطیہ کیمپ اور سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔


اس خون عطیہ کیمپ میں ایک خاتون سمیت مقامی نوجوانوں اور سیکولر سوچ رکھنے والے برادران وطن نے انسانیت کی خدمت کے مقصد سےکل24 یونٹ خون جمع کرکے آسنسول ضلع اسپتال کے بلڈ بینک میں جمع کرایا۔ اسی موقعے پر موجودہ وقت اور حالات کے مدنظرایک بہت ہی سنجیدہ موضوع یعنی لسانی اور مذہبی اقلیتوں کو درپیش چیلنجز کے عنوان سےایک سیمینار بھی ہوا۔اس سیمینار میں اس سنجیدہ موضوع پر ویسٹ بنگال نیشنل یونیورسٹی آف جوڈیشل سائنس، کولکاتہ کے پروفیسر ڈاکٹر سرفراز احمد خان نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے دستور ہند میں اقلیتوں کودئیے گئے حقوق پر تفصیلی روشنی ڈالی۔موصوف نے صاف لفظوں میں بتایا کہ دنیا کے کسی بھی ملک کے اقلیتوں کے تمام تر حقوق کی حفاظت کی ذمہ داری اس ملک کی حکومت اور اکثریت کی ہوتی ہے اور اسی بنیاد پر ان ممالک کی نیک نامی وبدنامی کا دارومدار ہوتا ہے۔ڈاکٹر سرفراز نے دستور ہند کے دفعات 29 اور 30 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح یہ دفعات ملک کے شہریوں اور خاص کر مذہبی و لسانی اقلیتوں کو تعلیمی اور ثقافتی حقوق کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے ۔ ٹھیک اسی طرح آرٹیکل 25 اور 26 شہریوں کو اپنی خواہش اور پسند کے مذہب کو ماننے ، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کی آزادی دیتا ہے۔علاوہ ازیں تعلیمی،مذہبی و فلاحی اداروں کے قیام اور اس کی دیکھ بھال کی آزادی دیتا ہے۔ موصوف نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ اقلیت بالخصوص مسلمان اپنے تعلیمی اداروں کے قیام کی طرف نہ تو اتنی توجہ دی اور نہ ہی اس سلسلے میں مناسب عملی قدم اٹھایا ورنہ کوئی بعید نہیں تھا کہ آج ہماری اپنی کئی یونیورسٹیاں،درجنوں کالج ودیگر تعلیمی ادارے عالم وجود میں آگئے ہوتے ۔ اس موقعے پر ویسٹ بنگال بلڈ ڈونرس سوسائٹی کے سکریٹری کوی گھوش، اسی تنظیم کےضلعی صدر ایڈوکیٹ محمد ایوب انصاری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ بی سی کالج کے ریاضیات کےسابق پروفیسراور تقریباً 26 کتابوں کے مصنف شمش الضحی نےپروفیسر ڈاکٹر سرفراز احمد خان کو اپنی کتاب تحفتاً پیش کیا۔ آسنسول کے جواں سال شاعر عمار ناصر نے حالات حاضرہ کے پیش نظر “جنتر منتر بلارہا ہے” نظم پیش کرکے داد و تحسین حاصل کیا۔اس خون عطیہ کیمپ اور سیمینار کو کامیاب بنانے میں آواز کے ضلعی کمیٹی کے سکریٹری نعمان اسفر خان،صدر ایڈوکیٹ پرشانتو گھوش اور کارگذار صدر محمد صلاح الدین سمیت آواز آسنسول ٹاؤن کمیٹی کے سکریٹری مرغوب راہی،صدر خلیل خان،کارگذار صدر محمد نوشاد اور جوائنٹ سیکرٹری محمد آفتاب عالم و الیاس راعین ودیگر ممبران کا بھرپور تعاون رہا۔










