*موجودہ وقت کے چیلنجز اور رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند کا تاریخی اقدام*
*محمد ہاشم القاسمی* (خام دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا و رکن رابطہ مدارس مغربی بنگال) موبائل 9933598528
رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ، دارالعلوم دیوبند ہندوستان کے دینی مدارس کا ایک ایسا مرکزی اور فعال وفاق (بورڈ) ہے جو دارالعلوم دیوبند کے زیرِ اہتمام قائم کیا گیا ہے ۔ اس کا بنیادی مقصد دینی و عربی مدارس کے درمیان تعلیمی، انتظامی اور فکری ہم آہنگی پیدا کرنا اور دینی تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ دارالعلوم دیوبند سے وابستہ ہزاروں مدارس ملک کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے تھے۔ ایک عرصے تک یہ محسوس کیا گیا کہ ان مدارس کے نصاب، نظامِ تعلیم اور انتظامی اموار میں اتحاد و یکسانیت لانے اور ابھرتے ہوئے جدید چیلنجوں کا یکسوئی سے مقابلہ کرنے کے لیے ایک مرکزی پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کے پیشِ نظر 1994ء میں دارالعلوم دیوبند میں ایک عظیم الشان کل ہند اجلاس کے موقع پر “رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ” کا قیام عمل میں آیا۔
رابطہ مدارس کا مرکزی دفتر دارالعلوم دیوبند میں واقع ہے اور اس کے موجودہ صدر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی مدظلہ اور ناظم اعلیٰ حضرت مولانا شوکت بستوی سینیئر استاذ دارالعلوم دیوبند ہیں۔ملک کی مختلف ریاستوں (مثلاً اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، جھارکھنڈ، مہاراشٹر، گجرات، آسام وغیرہ) میں اس کی صوبائی اور ضلعی شاخیں قائم ہیں جو مقامی سطح پر رابطہ کا کام کرتی ہیں۔ رابطہ مدارس کے اہم مقاصد میں تمام مربوط مدارس میں ایک معیار اور متعین نصاب (درسِ نظامی) کا نفاذ۔ دینی تعلیم کی کیفیت (Quality of Education) کو بہتر بنانا اور عصری ضرورتوں کے مطابق تدریسی طریقوں کو اپنانا۔ دینی مدارس کی آزادی، خود مختاری اور دینی حیثیت کا تحفظ کرنا۔ مختلف خطوں کے مدارس کے انتظامی امور اور ذمہ داران کے درمیان باہمی تعارف، مشورے اور تعاون کی فضا قائم کرنا شامل ہے۔ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ نے اپنے قیام سے لے کر اب تک تعلیمی اور انتظامی میدان میں درج ذیل اہم کارنامے انجام دیے ہیں۔ رابطہ نے مدارس کے لیے ایک بنیادی و معاہدی نصابِ تعلیم تیار کیا ہے اور ابتدائی و متوسط درجات کے سالانہ امتحانات کے لیے معیار مقرر کیا ہے۔ مدرسین کی تدریسی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے وقتاً فوقتاً تربیتی ورکشاپس، سیمینارز اور سیشنز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ دینی تعلیم کی بنیادوں کو برقرار رکھتے ہوئے رابطہ نے ابتدائی درجات میں ضروری عصری علوم (ریاضی، سائنس، انگریزی، ہندی،کمپیوٹر اور علاقائی زبانوں) کو شامل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ تعلیمی پالیسیوں (مثلًا NEP) حکومتی سروے اور دیگر قانونی چیلنجوں کے وقت مدارس کے ذمہ داران کو درست دینی اور قانونی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ صوبائی اور ضلعی سطح پر رابطہ کے باقاعدہ اجلاس منعقد ہوتے ہیں، جن میں تعلیمی سیشن کے آغاز، چھٹیوں کی ترتیب، اور امتحان کے ضوابط پر مشتمل متفقہ فیصلے طے کیے جاتے ہیں۔ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ نے پورے ہندوستان میں دینی تعلیم کے تحفظ، تعلیمی پختگی اور مدارس کی منظم و یکجہتی پر مبنی کارکردگی میں ایک کلیدی اور تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے۔31 مئی 2008ء کو دارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی کل ہند انسدادِ دہشت گردی کانفرنس (Anti-Terrorism Conference) ہندوستان اور عالمِ اسلام کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہونے والا واقعہ ہے۔اس وقت جب دینی مدارس کے اساتذہ، طلباء اور مسلمان نوجوانوں کو بے بنیاد الزامات اور ہدف بنا کر میڈیا و دیگر حلقوں کی جانب سے ہراسانی کا شکار بنایا جا رہا تھا، رابطہ مدارس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند نے جرات مندانہ اور واضح موقف اختیار کرتے ہوئے دنیا کے سامنے سچائی رکھی۔اس کانفرنس میں پورے ملک سے ہزاروں علماء، دانشور، ممتاز شخصیات اور مدارس کے نمائندگان نے شرکت کی اور ایک متفقہ “دیوبند اعلامیہ” (Deoband Declaration) منظور کیا گیا، جس میں درج ذیل اہم پیغامات دیے گئے ۔اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ اسلام امن، سلامتی، بھائی چارہ اور انسانیت کا مذہب ہے۔ کسی بھی بے گناہ کا قتل اسلام کی تعلیمات کے سخت خلاف ہے اور دہشت گردی کا اسلام یا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ دنیا کو باور کرایا گیا کہ دینی مدارس امن اور اخلاق کے مراکز ہیں۔ ان کا مقصد ملک میں بااخلاق، پرامن اور حبِ وطنی سے شرشار شہری پیدا کرنا ہے۔ کانفرنس میں ٹھوس تاریخی حقائق کے ساتھ یہ بات اجاگر کی گئی کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں بالخصوص 1857ء اور بعد کی تحریکوں (مثلاً تحریکِ ریشمی رومال) میں علماءِ دیوبند اور مدارس کے فضلاء نے سب سے بڑھ چڑھ کر قربانیاں دیں۔ جن کے اسلاف نے ملک کی آزادی کے لیے دار و رسن کی صعوبتیں برداشت کیں، ان کی نسلیں کبھی ملک دشمن نہیں ہو سکتیں۔ اور واضح لفظوں میں میڈیا اور انتظامیہ کو پیغام دیا کہ شک و شبہات کی بنیاد پر مدارس اور مسلم نوجوانوں کو بدنام کرنے کی کوششوں کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے شفافیت و انصاف کی اپیل کرتے ہیں۔
اس کانفرنس کے بعد ملکی اور بین الاقوامی میڈیا، حکومتی ایوانوں اور عوام کے سامنے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ مدارس کا دامن ہر قسم کی انتہا پسندی سے پاک ہے۔ہندوستان کی سیاسی و سماجی قیادت نے بھی اس تاریخی اقدام کی سراہنا کی اور تسلیم کیا کہ دارالعلوم دیوبند اور رابطہ مدارس نے ہمیشہ ملک کی یکجہتی اور امن و امان کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس اقدام نے ملک بھر کے ہزاروں مدارس اور ملحقہ اداروں کے اندر ایک نیا حوصلہ اور انتظامی اعتماد پیدا کیا۔ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کا یہ تاریخی اقدام اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ جب بھی ملت اور مدارسِ اسلامیہ پر کوئی نازک وقت آیا، اس پلیٹ فارم نے نہ صرف مسکت جواب دیا بلکہ حقائق کی روشنی میں امت کی صحیح اور باوقار رہنمائی بھی کی۔ دارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کے کل ہند اجلاسِ عام اور مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاسوں میں رابطہ مدارس مغربی بنگال کی صوبائی شاخ کو ہمیشہ اس کی بہترین کارکردگی، نظم و ضبط اور وسیع تعلیمی نیٹ ورک کی بنیاد پر خصوصیت کے ساتھ سراہا گیا ہے۔ اور اس بات کا علانیہ اعتراف کیا گیا ہے کہ پورے ملک کی صوبائی شاخوں میں مغربی بنگال کی اکائی سب سے زیادہ فعال اور متحرک ہے۔کل ہند رابطہ مدارس کے اجلاسوں میں دارالعلوم دیوبند کی مرکزی قیادت کا اس بات کو تسلیم کرنا حقیقت میں رابطہ مدارس (شاخ) مغربی بنگال کے صدر و رکن مرکزی رابطہ مدارس دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا صدق اللہ چودھری صاحب کی قیادت، مغربی بنگال کے علماء، مدارس کے مدرسین اور منتظمین کی تعلیمی و تنظیمی جہدِ مسلسل کا اعتراف ہے۔ حضرت مولانا صدق اللہ چودھری صاحب صدر کی بصیرت افروز اور متحرک قیادت نے صوبے میں دینی، تعلیمی اور ملی خدمات کے شعبے میں ایک نیا اور تاریخی باب رقم کیا ہے۔ مولانا صدیق اللہ چودھری کی قیادت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے مذہبی، تعلیمی اور سماجی کاموں کو نہ صرف منظم کیا بلکہ ریاست کے دور دراز علاقوں اور دیہاتوں تک پہنچایا۔ مولانا صدق اللہ چودھری صاحب کی قیادت میں اہم صوبائی کارناموں کی لمبی فہرست ہے۔ مثلاً حضرت مولانا کی ہدایت اور مسلسل دوروں کے نتیجے میں مغربی بنگال کے کونے کونے میں ہزاروں بنیادی مکاتب اور مدرسے رابطہ مدارس سے منسلک ہوئے۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند کے متعین کردہ نصاب کو تمام مربوط مدارس میں سختی سے نافذ کرایا، جس سے تعلیمی معیار میں غیر معمولی بہتری آئی۔اساتذہ کی تدریسی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر مسلسل تربیتی ورکسشاپس کا انعقاد ممکن بنایا۔مولانا صدق اللہ چودھری صاحب نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ مسلم بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید عصری علوم سے بھی آراستہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے مدارس اور مکاتب کے ابتدائی نصاب میں بنگلہ زبان، انگریزی، ریاضی، کمپیوٹر اور سائنس کی شمولیت کو یقینی بنایا، تاکہ طلباء ملک و معاشرے کے دھارے میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ان کی قیادت میں کولکاتا کے ساتھ ساتھ مختلف اضلاع میں باقاعدگی سے رابطہ کے عظیم الشان اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے دارالعلوم دیوبند کے مؤقر اساتذہ کے علاوہ ملک کے نامور اور مشہور مدارس کے علیا درجہ کے اساتذہ کرام کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ان اجلاسوں کا مقصد نہ صرف تعلیمی جائزہ لینا ہوتا ہے بلکہ عوام میں بیداری، اتحاد اور دینی احکام پر عمل پیرا ہونے کا جذبہ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ جب بھی انتظامی یا سیاسی سطح پر دینی مدارس پر کوئی حرف آیا یا ہراسانی کی کوشش کی گئی، مولانا صدق اللہ چودھری نے فرنٹ لائن پر آ کر بے باکی اور حکمت عملی کے ساتھ مدارس کا دفاع کیا۔ مسلمانوں کے سیاسی، تعلیمی اور معاشی حقوق کے لیے حکومت کے ایوانوں تک مؤثر آواز پہنچائی، جس کی وجہ سے ریاست میں علماء اور دینی اداروں کا باوقار مقام قائم ہوا۔ کسی بھی قدرتی آفت (مثلاً طوفان، سیلاب يا وبائی امراض) کے وقت مولانا صدق اللہ چودھری کی قیادت میں رابطہ کے کارکنان نے بلاتفریقِ مذہب و ملت بلا تاخیر امدادی کاموں میں حصہ لیا، جس نے دینی اداروں کے حوالے سے عوام میں بے پناہ محبت اور اعتماد پیدا کیا۔ ان کی انتھک محنت، تحریکی روح اور مقبولِ عام قیادت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج مغربی بنگال کی رابطہ شاخ پورے ہندوستان میں ایک “نمونہ عمل” (Model Unit) کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ مغربی بنگال میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کی پیش رفت اور مولانا صدق اللہ چودھری صاحب اور اراکینِ رابطہ کی سرپرستی میں جاری اہم صوبائی اجلاسوں اور تعلیمی منصوبوں کا سرسری جائزہ درج ذیل ہے۔ مغربی بنگال رابطہ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے اجلاس صرف کاغذات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ عوامی بیداری اور تعلیمی تحرک کا ذریعہ بنتے ہیں۔ہر سال یا تعلیمی سیشن کے آغاز پر کولکاتا سمیت مختلف اضلاع (مثلاً مرشد آباد، مالدہ، اتر اور دکھن دیناج پور، بردوان، اور نارتھ/ساؤتھ 24 پرگنہ) میں بڑے پیمانے پر ناظمین و اربابِ مدارس کا اجلاس ہوتا ہے۔ان اجلاسوں میں تعلیمی معیار، حاضری کی پابندی، اور مدرسین و طلباء کی اخلاقی و فکری تربیت پر تفصیلی غور و خوض ہوتا ہے۔
ملک اور ریاست کے موجودہ حالت، تعلیمی پالیسیوں (NEP) اور حکومتی قوانین کے پیشِ نظر مدارس کے انتظامی تحفظ کے لیے صوبائی سطح پر ناظمینِ مدارس کا ہنگامی اور مشاورتی اجلاس بلایا جاتا ہے۔ان میں تمام مربوط مدارس کو قانونی، انتظامی اور تکنیکی دستاویزات (Paperwork) درست رکھنے کی واضح رہنمائی دی جاتی ہے۔ جب بھی صوبائی یا قومی سطح پر مدارس کی حیثیت پر سوال اٹھائے گئے، رابطہ مدارس مغربی بنگال نے فوری طور پر پریس کانفرنسوں اور ضلعی اجلاسوں کے ذریعے حقائق عوام اور حکومت کے سامنے رکھے، جس سے مدارس کے تئیں پیدا کی جانے والی غلط فہمیاں دور ہوئیں۔
رابطہ مدارس مغربی بنگال نے روایتی دینی تعلیم کے تحفظ کے ساتھ ساتھ متعدد ایسے جدید و انقلابی منصوبے شروع کیے ہیں جن سے طلباء کی ہمہ جہت شخصیت سازی ہو رہی ہے۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں بچے اور بچیاں دینی تعلیم سے محروم نہ رہیں، اس کے لیے ہزاروں مکاتب قائم کیے گئے۔ ان مکاتب میں قرآن کریم کے ساتھ بنیادی عقائد، مسنون دعائیں، بنگلہ زبان، اور ابتدائی ریاضی کی تعلیم لازمی کی گئی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے اصولی نقطہ نظر کے تحت، ابتدائی و متوسط درجات (تحتانی و فوقانی) کے طلباء کے لیے بنگلہ، انگریزی، ریاضی، سائنس اور جغرافیہ کے لازمی پیریڈز طے کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے سے فائدہ یہ ہوا کہ مدرسے کے طلباء بنیادی عصری علوم میں کسی اسکول کے طالب علم سے پیچھے نہیں رہتے۔ پورے صوبے کے مربوط مدارس کے لیے ایک ہی تعلیمی تقویم (تعطیلات، داخلے کی تاریخیں، تعلیمی دن) نافذ کی گئی ہے۔ مغربی بنگال کے مربوط مدارس کے شعبہ ابتدائی و متوسط کے لیے سالانہ امتحانات کے لئے سیکڑوں سینٹر قائم کئے جاتے ہیں۔ اس کے لئے مشترکہ پرچہ سوالات تیار کیے جاتے ہیں تاکہ تمام مدارس کے تعلیمی معیار کی جانچ ایک ہی پیمانے پر ہو سکے۔ مدرسین کی تدریسی صلاحیتوں کو بہتر بنانے، بچوں کی نفسیات کو سمجھنے اور عصری طریقۂ تدریس سے روشناس کرانے کے لیے ماہرینِ تعلیم کی دیکھ بھال میں ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں۔طلباء کے اندر سے جھجھک ختم کرنے اور ان کے اندر دعوتی و قلمی صلاحیتیں پیدا کرنے کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر تلاوت، نعت، عربی و اردو تقاریر، اور تحریری مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔رابطہ مدارس مغربی بنگال کے یہ اجلاس اور منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر مضبوط اور مخلص قیادت میسر ہو تو دینی علوم کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کے تقاضوں سے نبرد آزما ہونا بالکل ممکن ہے۔رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند نے روزِ اول سے ہی نہ صرف دینی تعلیم کی حفاظت کی ہے بلکہ ہر دور میں ملکی و ملی حالات کے تقاضوں کا مردانہ وار مقابلہ بھی کیا ہے۔ موجودہ پرفتن اور نازک دور میں، جہاں ایک طرف جمہوری اقدار اور آئینی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف مسلمانوں، ان کے قانونی املاک، اوقاف، مساجد اور دینی و تعلیمی اداروں کو ہدف بنانے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ بالخصوص نوجوان نسل کے تعلیمی، معاشی اور شہری حقوق کو نذرِ آتش کرنے اور یکطرفہ بلڈوزر ثقافت کے ذریعے اقلیتوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا جو ماحول قائم کیا گیا ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ ان تشویش ناک حالات میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ دارالعلوم دیوبند نے ایک بار پھر اپنی بیدار مغزی اور ملی قیادت کا ثبوت دیا ہے۔ چنانچہ 5 جمادی الاولى 1448ھ مطابق 27 اکتوبر 2026ء بروز منگل کو دارالعلوم دیوبند میں منعقد ہونے والا کل ہند رابطہ مدارس اسلامیہ کا اجلاسِ عمومی اسی جرات مندانہ اور بصیرت افروز سلسلہ جنبش کی ایک اہم کڑی ہے۔
یہ اجلاس محض ایک روایتی اجتماع نہیں، بلکہ موجودہ دور کے سدِ باب کے لیے ایک جامع لائہ عمل کی تیاری ہے۔ اجلاس کے ایجنڈے سے واضح ہوتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند ایک طرف جہاں مدارسِ اسلامیہ کے خلاف بنائی جانے والی منفی پالیسیوں کے تدارک اور قانونی و اجتماعی دفاع پر غور کر رہا ہے، وہاں دوسری طرف مدارس کے اندرونی نظامِ تعلیم و تربیت کو مزید معیاری، فعال اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فرقِ باطلہ بالخصوص فتہٴ قادیانیت اور فتنہ شکیلیت کے تعاقب اور رابطہ کی صوبائی شاخوں کے استحکام جیسے اہم امور اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ رابطہ مدارس ملتِ اسلامیہ کی ہمہ جہت رہنمائی کے لیے ہمہ وقت متحرک اور فعال ہے۔***










