*پٹن چیرو اور سنگاریڈی میں مختلف سیاسی جماعتوں کی میچ فکسنگ سیاست*
*عوامی نمائندوں کے مالی وسائل میں اضافہ، عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا*
*مفت علاج اور مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح کے پانچ اہم نکات پر ٹی آر ایس عمل پیرا*
*سنگاریڈی اور پٹن چیرو میں پارٹی پرچم کشائی تقریب سے کویتا کا جذباتی خطاب*

سنگاریڈی/پٹن چیرو: سربراہ تلنگانہ رکشنا سینا کلواکنٹلہ کویتا نے آج ضلع سنگاریڈی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور عوامی مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ کویتا نے موجودہ سیاسی حالات پر شدید تنقید کی۔سربراہ ٹی آر ایس نے اپنے دورہ کا آغاز پٹن چیرو سے کیا۔ کویتا نے پولیس اسٹیشن کے قریب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمہ پر پھول مالا چڑھائی اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا بعد ازاں انہوں نے تلنگانہ رکشنا سینا پارٹی کا پرچم لہرایا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ پٹن چیرو میں “میچ فکسنگ” کی سیاست فروغ پاچکی ہے اور پورا علاقہ آلودگی کا شکار ہو کر رہ گیا ہے جبکہ حکومت اس اہم مسئلہ کو مسلسل نظرانداز کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں سے پٹن چیرو شدید آلودگی کا شکار ہے لیکن حکومت کی جانب سے اس کے تدارک کے لئے کوئی موثر اقدامات نہیں کئے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صنعتوں کی منتقلی کی بات تو کی جا رہی ہے مگر عوام کے روزگار کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ انہوں نےنکا واگو میں شامل ہونے والے صنعتی فضلے کے باعث منجیرا ندی کے آلودہ ہونے اور زیر زمین پانی کے متاثر ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ کویتا نے مقامی عوامی نمائندوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے مالی وسائل میں اضافہ ہوا ہے لیکن عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان “میچ فکسنگ” کی سیاست جاری ہے اور عوامی مفادات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔بعد ازاں سنگاریڈی پہنچنے پر کویتا کا پارٹی قائدین اور کارکنان نے شاندار استقبال کیا۔ سنگاریڈی چوراہے سے تلنگانہ تلی کے مجسمہ تک ایک بڑی ریالی نکالی گئی جبکہ خواتین نے بتکماں اور بونالو کے ذریعہ روایتی انداز میں ان کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر کویتا نے تلنگانہ تلی کے مجسمہ پر پھول نچھاور کئے اور پارٹی پرچم لہرایا۔سنگاریڈی میں خطاب کرتے ہوئے کویتانے کہا کہ اگر اقتدار میں آنے کے بعد عوام کو مفت تعلیم اور مفت علاج فراہم نہ کیا جائے تو انہیں تلاپور کے تاریخی کتبے سے باندھ کر سنگسار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سنگاریڈی میں بھی “میچ فکسنگ” کی سیاست جاری ہے اور تمام بڑی سیاسی جماعتیں عوام کو دھوکہ دے رہی ہیں اس لئے ایک نئی سیاسی طاقت کے ابھرنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے سنگاریڈی کی تاریخی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سداسیوپیٹ سے تلنگانہ تحریک نے شدت اختیار کی اور اس خطے کی تاریخ نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت ابتر ہے جبکہ خانگی ادارے عوام پر مالی بوجھ ڈال رہے ہیں۔کویتا نے سنگور پروجیکٹ کی خستہ حالی پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 15 برسوں سے اس منصوبے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے حالانکہ اس سے ہزاروں ایکڑ اراضی سیراب ہو سکتی ہے اور حیدرآباد کو پانی فراہم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے مختلف سیاسی رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل پر کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی ہے اور تمام جماعتیں “میچ فکسنگ” کی سیاست میں مصروف ہیں۔ انہوں نے ظہیرآباد کے لئے بلٹ ٹرین کے وعدے اور ایم ایم ٹی ایس ٹرین منصوبے پر بھی سوال کیا اور کہا کہ عوام کو دھوکہ دیا گیا ہے اور متاثرین کو انصاف نہیں ملا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تلنگانہ رکشنا سینا “پنچاجنیم” کے تحت عوامی فلاح کے پانچ اہم نکات پر کام کرے گی جن میں مفت تعلیم اور مفت علاج سرفہرست ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اقتدار میں آنے کے پہلے سال میں چار لاکھ ملازمتیں فراہم کی جائیں گی اور نوجوانوں کو کاروبار کے لئے بڑے پیمانے پر قرضے دیئے جائیں گے جبکہ کسانوں کے حقوق کے تحفظ اور سماجی انصاف کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔








