درگاپور کے ایک قبائلی تارکِ وطن مزدور کی مشتبہ حالات میں موت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ چھتیس گڑھ کے کانکیر ضلع کے ایک جنگل سے سوتا ڈانگا کے رہنے والے 33 سالہ سُکومار کِیسکو کی سڑی گلی لاش برآمد ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق سُکومار 24 جولائی کو درگاپور-فریدپور علاقے کے ایک ٹھیکیدار کے ذریعے بورنگ کے کام کے لیے چھتیس گڑھ کے کانکیر ضلع گیا تھا۔ وہاں وہ دیگر ساتھی مزدوروں کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ تاہم چند روز بعد 26 جولائی کو اس کے ساتھی مزدور گھر واپس آئے اور اہلِ خانہ کو بتایا کہ سُکومار کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔
سُکومار کے لاپتہ ہونے کے بعد اہلِ خانہ شدید تشویش میں مبتلا ہوگئے۔ کافی تلاش کے باوجود کوئی اطلاع نہ ملنے پر خاندان کے افراد چھتیس گڑھ پہنچے اور مقامی تھانے میں گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر تفتیش شروع کی اور مختلف مقامات پر تلاش کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسی دوران کانکیر ضلع کے ایک جنگل سے سُکومار کی سڑی گلی لاش برآمد ہوئی۔ اطلاع ملنے پر اہلِ خانہ موقع پر پہنچے اور لاش کی شناخت سُکومار کیسکو کے طور پر کی۔ تاہم سُکومار کی موت کیسے ہوئی، وہ جنگل تک کیسے پہنچا اور اس کی موت کے پیچھے کوئی اور وجہ تو نہیں۔ان سوالات نے معاملے کو مزید پراسرار بنا دیا ہے۔ اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ لاش پر چوٹ کے نشانات بھی موجود تھے۔ تاہم موت کی اصل وجہ کا حتمی طور پر تعین تفتیش مکمل ہونے اور دیگر قانونی کارروائی کے بعد ہی ہو سکے گا۔ سُکومار کے بھائی سُکھ دیو کیسکو نے بتایا، “میرے بھائی کو درگاپور-فریدپور کے ایک ٹھیکیدار 24 جولائی کو کام کے لیے لے گیا تھا۔ اس کے ساتھی گھر واپس آئے اور بتایا کہ بھائی کا کوئی پتہ نہیں چل رہا ہے۔ ہم نے اس کے بعد گمشدگی کی شکایت درج کرائی۔ اب اسی علاقے سے بھائی کی زخمی اور سڑی گلی لاش برآمد ہوئی ہے۔” خاندانی ذرائع کے مطابق سُکومار چند ماہ قبل بھی کام کے سلسلے میں چھتیس گڑھ گیا تھا اور کام مکمل کرنے کے بعد بالکل خیریت سے گھر واپس آیا تھا۔ لیکن 24 جولائی کو دوبارہ کام کے لیے جانے کے بعد اس کی اس طرح موت ہونے سے اہلِ خانہ کے ذہن میں کئی سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ اہلِ خانہ نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تفتیش کی جائے اور سُکومار کیسکو کی موت کی اصل وجہ سامنے لائی جائے۔









