*ڈاکٹر سشیلا تیواری کے مجسمے کی ازسرِنو تنصیب پر وزیراعلیٰ کا شکریہ، نارائن دت تیواری کے مجسمے کی تنصیب کا بھی مطالبہ*
*ڈاکٹر عمار رضوی نے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو مکتوب ارسال کیا*

لکھنؤ: (پریس ریلیز)آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق کارگزار وزیراعلیٰ ڈاکٹر عمار رضوی نے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک مکتوب ارسال کرتے ہوئے آنجہانی ڈاکٹر سشیلا تیواری کے مجسمے کی ازسرِنو تنصیب پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اتر پردیش کے سابق وزیراعلیٰ آنجہانی نارائن دت تیواری کی گراں قدر عوامی، سیاسی اور انتظامی خدمات کے اعتراف میں لکھنؤ کے کسی مناسب عوامی مقام پر ان کا مجسمہ نصب کرانے کی بھی اپیل کی ہے۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ چند روز قبل انہوں نے وزیراعلیٰ سے درخواست کی تھی کہ نشاط گنج پل کے قریب نصب آنجہانی ڈاکٹر سشیلا تیواری کا مجسمہ، جسے سڑک کی توسیعی منصوبہ بندی کے باعث ہٹا دیا گیا تھا، تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد دوبارہ کسی مناسب اور باوقار مقام پر نصب کرایا جائے۔ اس معاملے پر نارائن دت تیواری ابھیندن سمیتی کے اراکین اور آنجہانی تیواری جی کے چاہنے والوں میں بھی تشویش پائی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ آنجہانی ڈاکٹر سشیلا تیواری نہایت شریف النفس، معروف معالج، ممتاز سماجی خدمت گزار اور انتہائی حساس طبیب تھیں۔ وہ عملی سیاست سے ہمیشہ دور رہیں، لیکن ضرورت مندوں کی مدد، دکھی انسانیت کی خدمت اور سماجی فلاح کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی شخصیت ایثار، خلوص اور انسان دوستی کی علامت تھی۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے کہا کہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے آنجہانی ڈاکٹر سشیلا تیواری کے مجسمے کو پہلے سے زیادہ خوبصورت، موزوں اور باوقار مقام پر نصب کرایا، جس پر وہ اور ان کے تمام چاہنے والے وزیراعلیٰ کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ عوامی جذبات اور عظیم شخصیات کی خدمات کے احترام کا آئینہ دار ہے۔
انہوں نے اپنے مکتوب میں مزید کہا کہ آنجہانی نارائن دت تیواری ملک کی ممتاز سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ اتر پردیش کے تین مرتبہ وزیراعلیٰ رہے، مرکزی حکومت میں وزیرِ خزانہ، وزیرِ خارجہ اور متعدد اہم وزارتوں کی ذمہ داریاں انجام دیں، جبکہ اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے گورنر کی حیثیت سے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ ترقی، صنعت، انتظامیہ اور عوامی فلاح کے میدان میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے کہا کہ اتنی عظیم قومی شخصیت کی یاد میں آج تک لکھنؤ سمیت کسی نمایاں مقام پر ان کا مجسمہ نصب نہ ہونا افسوسناک ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے اپیل کی کہ آنجہانی نارائن دت تیواری کی خدمات کے اعتراف میں لکھنؤ کے کسی مناسب اور باوقار مقام پر ان کا مجسمہ نصب کرانے کے احکامات صادر فرمائے جائیں تاکہ آنے والی نسلیں ان کی خدمات اور قومی کردار سے روشناس ہو سکیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جس طرح آنجہانی ڈاکٹر سشیلا تیواری کے مجسمے کی ازسرِنو تنصیب کے سلسلے میں عوامی جذبات کا احترام کیا، اسی طرح آنجہانی نارائن دت تیواری کی یادگار کے قیام کے مطالبے پر بھی مثبت فیصلہ کریں گے۔یہ اطلاع آل انڈیا ماٸنا ریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبہ نشرواشاعت کے سیکرٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔










