Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*اردو صحافیوں اور اردو زبان کے ساتھ ناروا سلوک پر استفسار* *ویملواڑہ میں مسائل کے انبار۔ کیا حیدرا صرف غریبوں کے مکان گرانے کرنے کے لئے ہے* *چیف منسٹر ریونت ریڈی کا دورہ سرسلہ لاحاصل۔ سماجی انصاف کے لئے جدوجہد کا عزم* *سابق ماؤ نوازوں کو ٹی آرایس میں شامل ہونے کی دعوت۔ کےکویتا کی میڈیا سے بات چیت*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*اردو صحافیوں اور اردو زبان کے ساتھ ناروا سلوک پر استفسار*

*ویملواڑہ میں مسائل کے انبار۔ کیا حیدرا صرف غریبوں کے مکان گرانے کرنے کے لئے ہے*

*چیف منسٹر ریونت ریڈی کا دورہ سرسلہ لاحاصل۔ سماجی انصاف کے لئے جدوجہد کا عزم*

*سابق ماؤ نوازوں کو ٹی آرایس میں شامل ہونے کی دعوت۔ کےکویتا کی میڈیا سے بات چیت*

تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے آج سرسلہ کے دورہ کیا اور ویملواڑہ راجنا مندر میں خصوصی پوجا کی۔  انہوں نے صحافیوں کو مکانات نہ دینے اور اردو صحافیوں کو ہر منڈل میں صرف ایک ایکریڈٹیشن کارڈدینے کی بات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں اور اردو زبان کے ساتھ یہ رویہ کیوں اختیار کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ویملواڑہ راجنا مندر کی عظیم تاریخی اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مندر میں نر بچھڑے کو مناسب چارہ نہ ملنے سے ان کی موت افسوسناک ہے۔ انہوں نے رکن پارلیمنٹ بنڈی سنجے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوتوا کی بات کرتے ہیں لیکن مندر میں نر بچھڑے مررہے ہیں تو توجہ نہیں دے رہے ہیں۔کویتا نے کہا کہ ویملواڑہ مندر کو کنکریٹ سے تعمیر کیا جارہا ہے جو طویل مدت تک قائم نہیں رہے گا۔  انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ مرکزی وزیر رہتے ہوئے بنڈی سنجے نے ’پرساد اسکیم‘ میں جنوبی کاشی کے طور پر مشہور راجنا مندر کو شامل کیوں نہیں کیا اور مندر کے لئے ایک روپیہ بھی لائے یا نہیں، اس کا جواب دیں۔
انہوں نے ویملواڑہ کی خراب سڑکوں، گردو غبار، پانچ کروڑ روپئے سے بنے بے کار مارکیٹ، آدھے تعمیر شدہ دوسرے مارکیٹ، دھول میں سبزی و پھل فروخت کرنے والے تاجروں اور خراب و بدبودار ردرما تالاب کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ حیدرا تالابوں کو بہتر بنانے کے بجائے کیا صرف غریبوں کے مکانات گرانے کے لئے ہے؟ انہوں نے ویملواڑہ میں انڈر ڈرینیج کا مطالبہ کرتے ہوئے مقامی رکن اسمبلی و وہپ آدی سرینواس سے توجہ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والدین کی شادی بھی اسی علاقے میں ہوئی تھی اور اس سے ان کا گہرا تعلق ہے۔کویتا نے کہا کہ سرسلہ اور ویملواڑہ کو کالیشورم سے اب تک ایک ایکڑ کو بھی پانی نہیں ملا اور کئی کام زیر التوا ہیں۔ 2018 میں چار ماہ میں رودرنگی ریزروائر مکمل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن اب تک مکمل نہیں ہوا۔ اسے مکمل کرنے سے تقریباً 63 ہزار ایکڑ کو پانی دیا جاسکتا ہے۔ دوم پیت میں ریزروائر سے کتھلاپور اور میڈی پلی جبکہ یرا کنٹہ اور پٹیلّا چیروو کو ملاکر ریزروائر بنانے سے ویملواڑہ، چندورتی اور کونراؤ پیٹ منڈلوں کو پانی فراہم کیا جاسکتا ہے۔ کانگریس حکومت تین سال سے ان مسائل کو نظرانداز کررہی ہے۔ اپر مانیر،مڈ مانیر لنک مکمل ہونے سے ایک لاکھ 10 ہزار ایکڑ کو پانی مل سکتا ہے۔انہوں نے خشک سالی کے باعث کسانوں کی ابتر حالت کا حوالہ دیتے ہوئے نومبر تک 24 گھنٹے مفت بجلی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت بجلی خریدے یا مانگے، کسانوں کو بجلی بہرصورت دینی ہوگی۔ تمام سیاسی جماعتیں اس مسئلہ پر حکومت کے خلاف جدوجہد کریں۔ انہوں نے سرسلہ میں وزیراعلیٰ کے حالیہ جلسہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گالی گلوچ کے علاوہ کچھ نہیں ہوا۔ اگر سرسلہ سے کانگریس رکن اسمبلی کامیاب ہونے پر وزیر بنانا ہی حل ہے تو وزیراعلیٰ خودسرسلہ کے لئے کام کیوں نہیں کرسکتے؟کویتا نے سرسلہ ریلوے لائن کے دہائیوں پرانے مطالبہ اور زیر التوا نیشنل ہائی وے کا کام مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔ گلف مزدوروں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 112 مزدوروں کی موت ہوچکی ہے، انہیں فوری طور پر پانچ لاکھ روپئے امداد دی جائے۔ جے این ٹی یو کالج میں لیاب اور ہاسٹل کی سہولت نہ ہونے، میڈیکل کالج میں ایک کمرے میں 16 طلبہ کے رہنے اور 140 طلبہ کے لئے صرف ایک واٹر فلٹر ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مزید ہاسٹل کا مطالبہ کیا اور کے ٹی آر، بنڈی سنجے اور آدی سرینواس سے میڈیکوز کے مسائل حل کرنے کی اپیل کی۔ 15 بیڈس کے منظور شدہ ای ایس آئی اسپتال کو مکمل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ سرسلہ سیس بجلی کے شعبے کا تاریخی ادارہ تھا، جسے ختم کرکے این پی ڈی سی ایل میں ضم کردیا گیا، جس سے صارفین مشکلات میں ہیں۔ ان کے مطابق کے ٹی آر کے وزیر رہنے کے دوران سیس میں 32 کروڑ روپئے کی بدعنوانی ہوئی اور انتخابات سے قبل آتشزدگی میں متعلقہ فائلیں جل گئیں۔ انہوں نے اس بدعنوانی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
نریلا متاثرین کے معاملہ میں کویتا نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے انہیں گروپوں میں تقسیم کرکے بعض کو پانچ اور بعض کو 10 لاکھ روپئے کے چیک دیئے،جو کافی نہیں ہیں۔ متاثرین کو ایک کروڑ روپئے معاوضہ، تین ایکڑ زمین اور خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے۔ انہوں نے جیلر اور ڈی آئی جی کی سابقہ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان شواہد کے بغیر انصاف کیسے ہوگا۔ انہوں نے سرسلہ ایس پی سے نریلا واقعہ پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ متاثرین نے وزیراعلیٰ کے جلسے کے بعد ان سے ملاقات کرکے انہیں دھوکے سے جلسے میں لے جانے کی شکایت کی۔ کویتا نے کہا کہ سماجی انصاف کے لئے جدوجہد کرنے والی پارٹی کی حیثیت سے متاثرین کو انصاف ملنے تک ٹی آر ایس کی جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے ریونت ریڈی اور پی سی سی صدر مہیش گوڑ کی جانب سے اپنی جوڑی کو ’وائی ایس۔ڈی ایس‘ قرار دینے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کے متضاد بیانات سے یہ ’اِڈوپو کائیتم‘ جوڑی معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر ہر معاملے میں کمیٹیاں قائم کرکے وقت ضائع کرنے کا الزام عائد کیا۔
کویتا نے کہا کہ سرسلہ ضلع بننے کے باوجود آبپاشی میں متحدہ ریاست کے دور جیسی صورتحال ہے۔ انہوں نے سابق ماؤ نوازوں کو عوامی خدمت کے لئے سیاست میں آنے اور ٹی آر ایس میں شامل ہونے کی دعوت دی اور عوامی تحریکوں کے لئے پارٹی میں الگ ونگ قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق ماؤ نوازوں سے کئے گئے وعدے کسی پارٹی نے پورے نہیں کئے۔کویتا نے کہا کہ ہر فرد کو بہتر مفت تعلیم اور طبی سہولیات فراہم کرنا پارٹی کا مقصد ہے اور پنچا جنیم کے پانچ نکات میں تعلیم و صحت کو ترجیح دی گئی ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد انہیں نافذ کیا جائے گا، جبکہ اس وقت تک موجودہ حکومت پر عمل درآمد کے لئے دباؤ ڈالا جائے گا۔ ’آپریشن بلیو کوڈ‘ کے تحت پارٹی قائدین تمام اسپتالوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ نجی اسپتالوں پر بھی کنٹرول ضروری ہے، کیونکہ بعض مقامات پر پانچ روپئےکی چیز 300 روپئے میں فروخت کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر گاؤں میں اسکول اور ہر جماعت میں استاد ہونا چاہئے۔ چھوٹے نجی اسکولوں سے مسئلہ نہیں، لیکن کارپوریٹ تعلیم کے نام پر عوام کا استحصال قابل قبول نہیں۔ نظام آباد کی رکن پارلیمنٹ رہتے ہوئے انہوں نے نارائنا اور چیتنیہ تعلیمی اداروں کو وہاں آنے نہیں دیا تھا۔ انہوں نے تمل ناڈو کی طرز پر تعلیمی کمیشن اور فیسوں کے ضابطے کا مطالبہ کیا۔ آخر میں کویتا نے کہا کہ موجودہ اپوزیشن جماعتیں عوامی مسائل پر مناسب جدوجہد نہیں کررہی ہیں، اس لئے ہم اپوزیشن سے زیادہ حکومت سے سوال کررہے ہیں۔ عادل آباد ریمس واقعہ کے بعد پارٹی کی جانب سے حکومت سے سوال کئے جانے پر اسی روز 11 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ہر اسمبلی حلقے میں مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کا بھرپور مقابلہ کرتے ہوئے عوامی مسائل پر جدوجہد کی جائے گی۔

Latest News

Related News