شوبھاپور واقع نجی میڈیکل کالج کی ایم بی بی ایس سیکنڈ ایئر کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے اہم ملزم شفیق ایس کے عرف شیخ شفیقل کو اس کی بہن کی مدد سے گرفتار کر لیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی ملزم کی بڑی بہن روزینہ ایس کے نے اپنے مفرور بھائی کا پتہ لگانے اور اسے پکڑوانے میں پولیس کی معاونت کی۔ روزینہ نے بتایا کہ وہ چاہتی تھی کہ صفیق قانون کا سامنا کرے۔ اسی لیے 13 اکتوبر کو جب اس کا بھائی نڈال پل کے نیچے اس سے ملنے آیا تو روزینہ پولیس کو ساتھ لے کر وہاں پہنچی۔ پولیس نے موقع پر گھیرابندی کرکے اسے گرفتار کرلیا۔ پولیس نے پانچویں اور آخری ملزم ایس کے نصیرالدین کو بھی سوموار کے دن گرفتار کرلیا ہے۔ اس سے پہلے شیخ ریاض الدین، اپو باوری اور فردوس شیخ کو 12 اکتوبر کو ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ ریاض الدین اسی میڈیکل کالج میں گارڈ تھا جہاں متاثرہ طالبہ زیرِ تعلیم ہے، مگر اسے پانچ سال قبل نوکری سے برخاست کر دیا گیا تھا۔
منگل کے روز درگاپور پولیس پانچوں ملزموں اور متاثرہ طالبہ کے ساتھی (دوست) کو لے کر شمشان گھاٹ سے متصل جنگل کے مقامِ واردات پر پہنچی اور وہاں واردات کا منظر دوبارہ تشکیل (سین ری کریئٹ) کروایا۔ ملزموں سے کہا گیا کہ وہ 10 اکتوبر کی رات اجتماعی زیادتی کے دوران ادا کیے گئے اپنے اپنے کردار کو دوبارہ دہرائیں۔












