*سرکاری ملازمت: معاشی تحفظ یا ٹیکسوں کا جال؟*
*میڈیکل بلز پر ٹیکس: بیماری کی تلافی یا اضافی بوجھ؟*
*شہر بنام گاؤں: طبی سہولیات پر ٹیکس کا جغرافیائی فرق*
بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
دسمبر 2025 کا سورج اپنے اختتامی سفر پر ہے، اور جہاں ایک طرف یہ وقت مالی سال کی منصوبہ بندی کا متقاضی ہے، وہیں دوسری جانب بھارت کی بیوروکریسی اور سرکاری ملازمت کا ڈھانچہ ایک ایسے سنگین “معاشی تضاد” (Fiscal Paradox) سے نبردآزما ہے جو نہ صرف ملازمین کی انفرادی معیشت بلکہ ریاستی مشینری کی مستقبل کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔ 24 دسمبر 2025 کو مہاراشٹر سے مرکزی براہِ راست ٹیکس بورڈ (CBDT) اور وزارت خزانہ کو ارسال کی گئی ایک تکنیکی یادداشت محض ایک انتظامی شکایت نہیں، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح “نئے ٹیکس ریجیم” کی سادگی کے پردے میں چھپی پیچیدگیاں اب ایک انتظامی بحران کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ محض چند روپوں کے ٹیکس بچانے کا نہیں، بلکہ ریاست اور ملازم کے درمیان اس “عمرانی معاہدے” (Social Contract) کی ازسرنو تشریح کا ہے جس کی بنیاد اس یقین پر تھی کہ ریاست اپنے خادموں کے بڑھاپے اور بیماری کے دنوں میں سہارا بنے گی، نہ کہ انہیں ریونیو کا ایک آسان ذریعہ سمجھے گی۔
یونیفائیڈ پنشن اسکیم (UPS)، جسے نیشنل پنشن سسٹم (NPS) اور پرانی پنشن اسکیم (OPS) کے درمیان ایک “سنہری راستہ” قرار دے کر نافذ کیا گیا تھا، اب انکم ٹیکس قوانین کے عملی نفاذ کی کسوٹی پر پورا اترنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ معاشی اصطلاح میں اگر اس صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ “منظم اثاثہ جاتی منتقلی” (Systematic Wealth Extraction) کا ایک ایسا ماڈل ہے جہاں ریاست ملازم کی جیب سے دو بار ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ آئیے جذباتی بحث سے ہٹ کر خالصتاً ریاضی اور منطق کی زبان میں اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے ایک فرضی “کیس اسٹڈی” کا سہارا لیتے ہیں۔
فرض کیجئے کہ “مسٹر ورما” ایک سرکاری افسر ہیں جن کی ماہانہ مجموعی تنخواہ (Gross Salary) ایک لاکھ روپے ہے۔ UPS کے تحت، ان کی تنخواہ کا 10 فیصد یعنی 10 ہزار روپے ماہانہ پنشن فنڈ کے لیے منہا کر لیا جاتا ہے۔ بظاہر مسٹر ورما کے ہاتھ میں 90 ہزار روپے آتے ہیں، لیکن انکم ٹیکس کا نیا نظام ان کی قابلِ ٹیکس آمدنی کو بدستور ایک لاکھ روپے ہی مانتا ہے۔ یعنی مسٹر ورما ان 10 ہزار روپوں پر بھی انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں جو انہوں نے کبھی خرچ ہی نہیں کیے، بلکہ جو حکومت نے ان کے مستقبل کے نام پر اپنی تحویل میں لے لیے ہیں۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ تیس سال بعد، جب مسٹر ورما ریٹائر ہوں گے اور یہی 10 ہزار روپے (حکومتی حصے کے ساتھ) انہیں “پنشن” کی صورت میں واپس ملنا شروع ہوں گے، تو انکم ٹیکس قانون اسے دوبارہ “آمدنی” قرار دے کر اس پر پھر سے ٹیکس طلب کرے گا۔ یہ دنیا کے مروجہ اصولوں کے برعکس ہے۔ عالمی سطح پر سوشل سیکیورٹی کا اصول عام طور پر “EET” (Exempt-Exempt-Taxed) ماڈل پر کام کرتا ہے، یعنی یا تو سرمایہ کاری کے وقت چھوٹ دی جاتی ہے یا منافع کے وقت۔ لیکن بھارت کا موجودہ UPS ڈھانچہ اور نیا ٹیکس نظام مل کر ایک ایسا انوکھا “T-T” (Taxed-Taxed) ماڈل تشکیل دے رہے ہیں جہاں بیج بونے پر بھی لگان ہے اور فصل کاٹنے پر بھی۔ یہ محض ناانصافی نہیں، بلکہ ایک حسابی مغالطہ ہے جو بچت کے تصور کو ہی منہدم کر دیتا ہے۔
اس تضاد کا دوسرا اور زیادہ سنگین پہلو صحت عامہ اور طبی اخراجات کی واپسی (Medical Reimbursement) سے متعلق ہے۔ یہاں قانون ایک عجیب و غریب جغرافیائی اور تکنیکی تقسیم کا شکار ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا کے دور میں، انکم ٹیکس قوانین نے شہریوں کو دو غیر اعلانیہ درجات میں تقسیم کر دیا ہے: ایک وہ جو بڑے شہروں میں “کیش لیس” نیٹ ورک ہسپتالوں تک رسائی رکھتے ہیں، اور دوسرے وہ جو دیہی یا دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں جہاں نقد ادائیگی ہی علاج کا واحد راستہ ہے۔ قانون کی رو سے، اگر محکمہ براہ راست ہسپتال کو ادائیگی کرے، تو یہ ٹیکس فری ہے۔ لیکن اگر وہی ملازم اپنی جیب سے ادائیگی کر کے بل کلیم کرے، تو یہ رقم اس کی تنخواہ میں شامل ہو کر ٹیکس کی زد میں آ جاتی ہے۔
یہاں “آمدنی” کی تعریف پر ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے۔ اکائونٹنگ کا مسلمہ اصول ہے کہ آمدنی کا مطلب “اثاثوں میں اضافہ” ہے۔ جب ایک ملازم بیماری کی مد میں اپنی جمع پونجی خرچ کرتا ہے اور آجر اسے وہی رقم واپس کرتا ہے، تو یہ “منافع” نہیں بلکہ “تلافی” ہے۔ یہ ملازم کو اس کی پرانی مالی حالت پر واپس لانے کا عمل ہے، نہ کہ اسے امیر بنانے کا۔ میڈیکل ری ایمبرسمنٹ پر ٹیکس کا نفاذ درحقیقت “تکلیف پر ٹیکس” (Tax on Misery) ہے۔ یہ پالیسی ایک طرح کا “جغرافیائی جرمانہ” (Geographic Penalty) ہے جو ان ملازمین پر عائد کیا جا رہا ہے جو میٹروپولیٹن شہروں کی آسائشوں سے دور، ان علاقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں جہاں انشورنس کمپنیاں اور پینل ہسپتال موجود نہیں ہیں۔ ایک ہی نوعیت کے علاج اور ایک ہی مقدار کے خرچ پر صرف “طریقہ ادائیگی” (Mode of Payment) کی بنیاد پر ٹیکس کا نفاذ یا استثنیٰ، قانون کی نظر میں مساوات کے آئینی تصور سے متصادم ہے۔
انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ اور وزارت خزانہ کے درمیان پالیسی سازی میں ہم آہنگی کا یہ فقدان (Policy Incoherence) ظاہر کرتا ہے کہ پنشن اسکیمیں اور ٹیکس قوانین الگ الگ جزیروں پر تیار کیے گئے ہیں۔ جب حکومت نے نئے ٹیکس ریجیم میں تمام کٹوتیوں (Deductions) کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا، تو شاید اس کے مضمرات (Implications) کا مکمل ادراک نہیں کیا گیا کہ یہ فیصلہ UPS جیسی لازمی اسکیموں کے ساتھ مل کر کس طرح ملازمین کی حقیقی آمدنی (Real Wage) کو سکڑنے پر مجبور کر دے گا۔ افراطِ زر (Inflation) کے اس دور میں، جہاں سرکاری تنخواہوں میں اضافہ مہنگائی کی شرح سے بمشکل ہم آہنگ ہو پاتا ہے، وہاں ٹیکس کی یہ دوہری مار سرکاری ملازمت کی کشش کو تیزی سے ختم کر رہی ہے۔
اس سارے منظر نامہ کا اگر تنقیدی اور مستقبل بینی کی نگاہ سے جائزہ لیا جائے تو یہ محض ایک عارضی انتظامی الجھن نہیں ہے۔ اگر اس خلیج کو پر نہ کیا گیا، تو ہم مستقبل قریب میں “ذہانت کے فرار” (Brain Drain) کا ایک نیا رجحان دیکھ سکتے ہیں، جہاں باصلاحیت نوجوان سرکاری شعبے (Public Sector) پر نجی شعبے (Private Sector) کو ترجیح دیں گے، کیونکہ وہاں کم از کم “کاسٹ ٹو کمپنی” (CTC) اور ہاتھ میں آنے والی تنخواہ کا حساب کتاب شفاف ہوتا ہے۔ مزید برآں، جب ریاست اپنے ہی ملازمین کے طبی تحفظ کو “تجارتی لین دین” کی نظر سے دیکھنے لگے، تو اس سے ملازمین کے مورال اور وفاداری پر منفی اثرات مرتب ہونا فطری ہے۔
24 دسمبر 2025 کی شکایت دراصل ایک “ابتدائی وارننگ” ہے۔ حکومت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ آئندہ مالیاتی پالیسی میں اس تکنیکی خلا کو پُر کرے۔ حل بہت سادہ اور منطقی ہے: UPS کے تحت ملازم کے لازمی کنٹری بیوشن کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تاکہ دوہرے ٹیکس کا خاتمہ ہو سکے، اور میڈیکل ری ایمبرسمنٹ کو بھی وہی قانونی حیثیت دی جائے جو کیش لیس علاج کو حاصل ہے، کیونکہ ادائیگی کا طریقہ کار بیماری کی نوعیت اور مالی بوجھ کی حقیقت کو تبدیل نہیں کرتا۔ اگر ان اصلاحات کو نظر انداز کیا گیا تو یہ چھوٹی چھوٹی تکنیکی غلطیاں جمع ہو کر ایک بڑے انتظامی عدم اعتماد کو جنم دیں گی، جس کا خمیازہ بالآخر ریاستی ڈھانچے کے معیار اور کارکردگی کو بھگتنا پڑے گا۔ ایک جدید فلاحی ریاست کا کام شہریوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اکاؤنٹنگ کی بھول بھلیوں میں انہیں الجھا کر ان کی معاشی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا۔










