Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*عادل آباد ریمس ہاسپٹل سانحہ پر کویتا کا سرکاری اسپتالوں کے مکمل آڈٹ کا دوٹوک مطالبہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*عادل آباد ریمس ہاسپٹل سانحہ پر کویتا کا  سرکاری اسپتالوں کے مکمل آڈٹ کا دوٹوک مطالبہ*

*بچوں کی موت کے معاملے میں ڈاکٹروں اور عملے کی غفلت سے زیادہ وزیر صحت کی لاپرواہی نے دکھ پہنچایا*

*وزیر صحت صرف تصاویر بنوانے کے لیے جائے حادثہ پر پہنچے*

*غفلت کے باعث معصوم جانوں کا ضیاع ناقابل قبول*

*تلنگانہ رکشنا سینا کی جانب سے ہر متاثرہ خاندان کو 50 ہزار روپے کی امداد فراہم کی جائے گی: کلواکنٹلہ کویتا*

*متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کے لیے کویتا کا آج عادل آباد کا دورہ*

تلنگانہ رکشنا سینا چیف کلواکنٹلہ کویتا نے عادل آباد سرکاری اسپتال میں پیش آنے والے المناک واقعہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی موت کے معاملے میں ڈاکٹروں اور اسپتال کے عملے کی غفلت سے زیادہ وزیر صحت کی لاپرواہی نے انہیں دکھ پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عادل آباد کے سرکاری اسپتال کے انکیوبیٹر میں حادثہ پیش آنے کے وقت والدین نے خود اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے اس واقعہ میں تین بچوں کی موت ہوگئی۔کویتا نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ یہ واقعہ اسپتال کے عملے کی لاپرواہی کے باعث پیش آیا اور ایئر کنڈیشننگ سسٹم کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اے سی کی دیکھ بھال درست طریقے سے کی جاتی تو ایسا واقعہ پیش نہ آتا اس لیے یہ انسانی غلطی کے باعث پیش آنے والا واقعہ ہے۔
کویتا نے کہا کہ ایسے المناک واقعات کے وقت عوام حکومت سے کم از کم بنیادی امداد کی توقع رکھتے ہیں لیکن اس حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو  ایک روپیہ بھی امداد فراہم نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں سے زیادہ تر غریب عوام ہی رجوع کرتے ہیں اور جاں بحق ہونے والے بچوں میں دو کا تعلق اقلیتی طبقے سے جبکہ ایک بچہ قبائلی طبقے سے تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کم از کم ان غریب خاندانوں کو بچوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے بھی کوئی مدد فراہم نہیں کی۔ کویتا نے کہا کہ ریونت ریڈی کی ایک ہزار دن کی حکومت میں قبائلی ضلع عادل آباد کے لیے صحت کے شعبے میں کچھ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہزار دن بعد عادل آباد پہنچنے والے وزیر صحت بھی وہاں صرف آدھے گھنٹے تک موجود رہے اور اسپتال کے عملے سے بھی زیادہ لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ کویتا نے کہا کہ وزیر صحت کے دورے سے متاثرہ خاندانوں کو امید تھی کہ حکومت کی جانب سے کوئی امداد فراہم کی جائے گی لیکن وزیر صحت نے انہیں مدد فراہم کرنے کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔
انہوں نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ وزیر کی آمد کے نام پر بچوں کی آخری رسومات کی تیاری بھی روک دی گئی۔ کویتا نے سوال کیا کہ کیا حکومت اتنی بے حسی کے ساتھ بھی برتاؤ کرسکتی ہے؟ کیا اس المناک واقعہ کو صرف تصاویر بنوانے کے لیے استعمال کیا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان اتنے غریب ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی آخری رسومات بھی مناسب طریقے سے ادا کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ اسی لیے تلنگانہ رکشنا سینا کی جانب سے ہر متاثرہ خاندان کو 50 ہزار روپے کی امداد فراہم کی جائے گی۔ کویتا نے کہا کہ وزیر صحت ایسے اسپتال پہنچے جیسے کسی سیاحتی مقام کا دورہ کرنے آئے ہوں لیکن انہوں نے اس واقعہ پر کم از کم جائزہ اجلاس تک منعقد نہیں کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست کے سرکاری اسپتالوں میں کیا ہو رہا ہے، اس کا چیف منسٹر فوری طور پر مکمل آڈٹ کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم جی ایم اسپتال میں چھت کا حصہ گر چکا ہے اور ریاست کے کئی سرکاری اسپتالوں میں آلات بھی مناسب حالت میں نہیں ہیں۔ اگر چیف منسٹر ان تمام معاملات کا آڈٹ کرائیں گے تو ہی عوام میں حکومت کے اسپتالوں اور طبی سہولتوں کے حوالے سے اعتماد پیدا ہوگا۔ کویتا نے کہا کہ تلنگانہ رکشنا سینا اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور صحت کا شعبہ پارٹی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ کل عادل آباد جائیں گی اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کرکے ان کے دکھ میں شریک ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے تلنگانہ رکشنا سینا عوام کے ساتھ مل کر جدوجہد کرے گی۔