Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*فقیر موہن کالج میں پیش آیا دردناک واقعہ،انٹیگریٹڈ بی ایڈ کی طالبہ نے خود پے لگائی آگ۔90 فیصد آگ میں جل کر ایمس پے چل رہا ہے علاج*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

بالاسور 12 جولائی:بالاسور کے فقیر موہن آٹونومس کالج میں آج ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔جہاں کالج کی انٹیگریٹڈ بی ایڈ کی ایک چھاترا نے لیکچرر کی جانب سے دیئے گئے ذہنی اذیت سے تنگ آکر خود پر پیٹرول ڈال کر آگ لگا دی۔ کچھ دن قبل چھاترا کی جانب سے ایک پروفیسر پر بدسلوکی کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس کی تحقیقات جاری تھی۔ اسی دوران آج اُس چھاترا نے خود پر پیٹرول ڈال کر خودکشی کی کوشش کی۔ اُسے نازک حالت میں بالاسور میڈیکل لایا گیا، جہاں سے حالت بگڑنے پر اسے بھونیشور ایمس ریفر کر دیا گیا۔چھاترا کو بچانے کے دوران ایک اور طالبعلم بھی زخمی ہوا ہے۔ واقعہ کی تفتیش شروع ہو گئی ہے اور بالاسور کے ایم ایل اے مانس داتا ہسپتال پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا اور دکھ کا اظہار کیا۔فقیری موہن کالج کے پرنسپل دلیپ گھوش اور شعبہ کے ہیڈ سمیر ساہو کو سسپنڈ کر دیا گیا ہے۔ تعلیم کی اعلیٰ سطحی محکمہ نے چھاترا کی خودکشی کی کوشش کو سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کی ہے۔وزیر تعلیم سوریہ بنشی سورج نے کہا کہ طالبہ کی خودکشی کی کوشش ایک افسوسناک واقعہ ہے حکومت نے اسے سنجیدگی سے لیا ہے۔ پرنسپل اور شعبہ کے سربراہ کو معطل کر کے پولیس حراست میں لیا گیا ہے۔ ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو واقعے کی مکمل چھان بین کرے گی اور رپورٹ کی بنیاد پر سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں۔

“پرنسپل کے دفتر سے ملنے والے سی سی ٹی وی فوٹیچ کے مطابق چھاترا نے خود سے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیر تعلیم خود علاج کی نگرانی کرنے کی بات بھی کہی ہے۔کچھ دن قبل جب چھاترا نے پروفیسر پر بدسلوکی کا الزام عائد کیا تھا تو اس کے بعد ایف ایم کالج کے گیٹ کے سامنے مظاہرہ بھی ہوا تھا، مگر کالج انتظامیہ خاموش رہی۔ایک اور چھاترا جیوتی ریکھا بھوئیاں نے الزام لگایا ہے کہ وہی استاد چھاتراوں سے “فیور” مانگتے تھے اور انکار پر فیل کرنے کی دھمکی دیتے تھے (ABVP) کے رکن شبھرسُمبت نایک نے کہا کہ:”ہم نے پہلے ہی میڈیا کو سب بتا دیا تھا، پھر بھی پرنسپل اور انتظامیہ خاموش رہی۔ مظاہرے کے بعد بھی کارروائی نہیں ہوئی۔ پانچ دن کا وقت دیا گیا تھا، مگر کچھ نہ ہوا۔”ایم پی پرتاپ شڑنگی نے کہاچھاترا مجھ سے مل کر سب کچھ بتا چکی تھی۔ میں نے پرنسپل اور ایس پی کو بھی آگاہ کیا تھا۔اور اس بچی کو یقین دلایا تھا کہ انصاف ملے گا، مگر آج یہ سب کچھ ہو گیا۔ ہم ہر زاویے سے تفتیش کر رہے ہیں۔ جو بھی قصوروار ہو، سخت کارروائی کی جائے گی۔”بالاسور ایس پی راج پرساد نے بتایا کہ ایک کیس درج کر دو اساتذہ کو گرفتار کیا گیا ہے اور جائے وقوعہ پر فورینشیک ٹیم تحقیقات کر رہی ہے۔ڈی آئی جی ستیہ جیت نایک نے کہا کہ معاملہ حساس ہے اور تمام احتیاطی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیر تعلیم سوریہ بنشی سورج نے بھونیشور ایمس پہنچ کر طالبہ کی صحت کے بارے میں جانکاری لی۔ فی الحال طالبہ کو ٹراما یونٹ سے برن وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
بالاسور سے عظیم بالیسری کی رپورٹ۔