Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*مسٹر ڈی جی پی! مجھ پر نازیبا تبصرہ کرنے والے پولیس اہلکار کو گرفتار کریں: کلواکنٹلہ کویتا*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*مسٹر ڈی جی پی! مجھ پر نازیبا تبصرہ کرنے والے پولیس اہلکار کو گرفتار کریں: کلواکنٹلہ کویتا*

*پولیس اہلکار کی صرف معطلی کافی نہیں، ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی کی جائے*

*ریونت ریڈی کی تلنگانہ جہد کاروں کیساتھ دھوکہ دہی۔ صدر ٹی آر ایس کی پریس کانفرنس*

تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے خواتین کے خلاف سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے نازیبا اور توہین آمیز تبصروں پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ڈی جی پی سے مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف فحش تبصرے کرنے والے پولیس اہلکار کو فوری طور پر گرفتار کرکے ایف آئی آر درج کی جائے اور قانونی کارروائی کی جائے۔ بنجارہ ہلز میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ حالیہ عرصے میں خواتین کو ہراساں کرنے اور ان کی توہین کرنے کے لئے انتہائی گھٹیا انداز میں ٹرولنگ کی جارہی ہے لیکن پولیس کی جانب سے مناسب کارروائی نہ کرنا تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف فحش گفتگو کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے ملک میں متعدد قوانین موجود ہیں۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا اور انسٹاگرام پر کھلے عام نازیبا تبصرے کئے جارہے ہیں اور پولیس کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے، تو پھر قوانین کا کیا فائدہ ہے؟
کویتا نے کہا کہ قوانین پر عمل درآمد کرانا آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کی ذمہ داری ہے جبکہ امن و امان کا تحفظ کرنا بنیادی طور پر پولیس کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک مرتبہ رکن پارلیمنٹ اور ایم ایل سی رہ چکی ہیں۔ گزشتہ 20 سال سے عوامی زندگی میں ہیں اور اب اپنی ایک سیاسی جماعت بھی قائم کرچکی ہیں۔ میرے خلاف بھی سوشل میڈیا پر انتہائی فحش اور توہین آمیز زبان استعمال کی جارہی ہے اور پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ان جیسی عوامی زندگی سے وابستہ خاتون کو ہی تحفظ فراہم نہیں کیا جاسکتا تو عام خواتین کو پیش آنے والی مشکلات پر وہ کس سے فریاد کریں گی؟
کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ ان پر سوشیل میڈیا کے ذریعہ انتہائی فحش تبصرے کرنے والے ایک پولیس اہلکار کو ڈی جی پی نے صرف معطل کرکے بری الذمہ ہوگئےلیکن اسے محکمہ سے کیوں نہیں ہٹایا گیا؟ اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے مقدمہ کیوں درج نہیں کیا گیا؟ کیا ڈی جی پی کو معلوم نہیں کہ خواتین کے خلاف ایک لفظ بھی فحش انداز میں استعمال کرنے پر مقدمہ درج کرنے کے لئے قوانین موجود ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ نیائے سنہیتا کی مختلف دفعات موجود ہیں، اگر ڈی جی پی کو ان قوانین کا علم نہیں تو انہیں ان قوانین کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ کویتا نے کہا کہ خواتین کے خلاف فحش تبصرے کرنے پر تین سال تک کی قید کی سزا کا بھی آئی ٹی قانون میں ذکر ہے جبکہ محکمہ پولیس میں بھی رول آف 3 اور رول آف 2 کے تحت تادیبی قوانین موجود ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈی جی پی کو یہ معلوم نہیں کہ محکمہ میں کسی کے خلاف کارروائی کی جائے تو وہ کارروائی نامکمل نہیں رہنی چاہئے؟کویتا نے ڈی جی پی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دو بہوئیں ہیں، اگر ان کے خلاف بھی اسی طرح فحش تبصرے کئے جائیں تو کیا وہ خاموش رہیں گے؟ انہوں نے سوال کیا، ’’مسٹر ڈی جی پی! آپ کی ذمہ داری کیا ہے؟ آپ میں حساسیت کہاں ہے؟ اگر آپ مجھ جیسی خاتون کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتے تو عام خواتین کو کیسے تحفظ فراہم کریں گے؟‘‘ کویتا نے الزام عائد کیا کہ موجودہ ڈی جی پی کے آنے کے بعد ریاست میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے ڈی جی پی کے اس بیان پر بھی تنقید کی کہ نکسل ازم کے خاتمہ کے بعد گانجہ بڑھ گیا ہے۔ کویتا نے کہا کہ گانجہ اسمگلنگ روکنا پولیس کی ذمہ داری ہے، پھر اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے بجائے اگر ڈی جی پی کرکٹ کھیلتے ہیں تو وہی بڑی خبر بن جاتی ہے۔
کلواکنٹلہ کویتا نے مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف فحش تبصرے کرنے والے شخص کے خلاف فوری کارروائی کی جائے بصورت دیگر وہ اس حکومت کی بدنامی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف فحش تبصرے کرنے والوں کو سزا دینے سے متعلق عدالتوں کے فیصلے وہ ڈی جی پی کو بھیجیں گی اور انہیں ان فیصلوں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔کویتا نے کہا کہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی ہَیٹ اسپیچ کے خلاف بل لانے کی بات کرتے ہیں، لہٰذا اسی اسمبلی اجلاس میں یہ بل پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے جہد کاروں کو اپنے ساتھ جوڑنے کے لئے ان کے سامنے جھکنے تک کا کام کیا اور اقتدار میں آنے کے بعد انہیں انصاف فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ کویتا نے کہا کہ ریونت ریڈی خود جہد کار نہیں تھے، اسی لئے جہد کاروں نے ان پر اعتماد نہیں کیا، لیکن ان کے ساتھ پروفیسر کودنڈارام کی موجودگی کی وجہ سے جہدکاروں نے ریونت ریڈی پر بھروسہ کیا۔ تاہم تین سال گزرنے کے باوجود جہد کاروں کے لئے کچھ بھی کام بھی نہیں ہوا۔
تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف نے کہا کہ جب وہ تحریک کاروں کے حق میں بھومی حقوق کی جدوجہد کررہی تھیں تو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جہدکاروں پر لاٹھیاں برسانے سے حکومت کو کیا حاصل ہوگا؟ ان کے پورے خاندان مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جہد کاروں سے کئےگئے وعدوں کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ کویتا نے کہا کہ کے کے کمیٹی کے سامنے بھی تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے خیالات پیش کئے تھے، لیکن اس کمیٹی کی رپورٹ بھی آگے نہیں بڑھ سکی۔
کویتا نے کہا کہ تلنگانہ جنا سمیتی کی جانب سے پروفیسر کودنڈارام نے جہد کاروں کو شناختی کارڈ دیئے تھے، لیکن اب وہ یہ بات بھول گئے ہیں کیونکہ وہ اس حکومت کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کودنڈارام سے سوال کیا کہ آپ نے جہد کاروں کو جو شناختی کارڈ دیئے تھے، وہ حکومت کو فراہم کرکے کارروائی شروع کیوں نہیں کراتے؟ کیا اس حکومت میں وزیراعلیٰ کے وعدہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ کیا جہد کاروں کو کچلتے ہوئے ان کے ساتھ ناانصافی کی جائے گی؟
کویتا نے کہا کہ جہد کار پہلے ہی مسلسل جدوجہد کرتے کرتے تھک چکے ہیں اور اب ان کے پاس صرف مرن برت کا راستہ باقی رہ گیا ہے۔ حکومت کے پاس تحریک کاروں کا مکمل ڈیٹا موجود ہے، لہٰذا کم از کم کچھ لوگوں کو شناختی کارڈ جاری کرکے اس عمل کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تحریک کاروں کو انشورنس کی سہولت کے ساتھ پنشن بھی فراہم کی جائے اور ان سے کئے گئے تمام وعدوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے ایسا نہیں کیا تو تلنگانہ کے کسی بھی گاؤں میں اس حکومت کے نمائندوں کو گھومنے نہیں دیا جائے گا۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو مقررہ مدت کے ساتھ واضح تحریری یا واضح ضمانت دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں بحث کے لئے بہت سے اہم مسائل موجود ہیں، لیکن ان پر بحث کرنے کے بجائے حکمراں اور اپوزیشن جماعتیں ڈرامہ بازی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فیس ریگولیشن اور جہد کاروں سے کئے گئے وعدوں سے متعلق قوانین اسمبلی میں منظور کئے جائیں۔
بی سی طبقے کے مسائل پر بھی کلواکنٹلہ کویتا نے کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے بی سی طبقہ کے لئے 100 دن کا ایکشن پلان چلانے کی بات سن کر ہنسی آتی ہے۔ جس پارٹی نے بی سی کو 42 فیصد ریزرویشن کے معاملے میں غلط اعداد و شمار پیش کئے، وہی اب بی سی کے لئے احتجاج کرنے کی بات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی ریزرویشن سے متعلق قوانین کے معاملے پر کانگریس مرکز سے بات نہیں کررہی ہے اور نہ ہی آل پارٹی وفد کو دہلی لے جایا جارہا ہے۔ بی سی طبقہ کے ساتھ ناانصافی کرنے والی پارٹی کا ہی ان کے لئے دھرنے دینے کا اعلان کرنا مضحکہ خیز ہے۔

کویتا نے آخر میں مطالبہ کیا کہ مرکز کی جانب سے کی جانے والی ذات پر مبنی مردم شماری میں مخصوص طور پر ذات (کاسٹ) کے لئے الگ خانہ رکھا جائے، تاکہ ذات سے متعلق درست اور واضح اعداد و شمار دستیاب ہوسکیں۔

Latest News

Related News