*ووٹوں کی گنتی کے پیش نظر آسنسول۔درگاپور پولیس کی سخت نگرانی، ہر حال میں امن برقرار رکھنے کی اپیل*
مغربی بردوان ضلع کی نو اسمبلی نشستوں سمیت ریاست کی 293 نشستوں کے ووٹوں کی گنتی سوموار کے روز ہوگی۔ ضلع میں نو اسمبلی حلقوں کی ووٹوں کی گنتی کے لیے دو مضبوط اسٹرانگ روم بنائے گئے ہیں، جہاں سوموار کو ووٹوں کی گنتی کا عمل انجام دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں اور کارکنان میں کافی جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔
ووٹوں کی گنتی کے پیش نظر اتوار کو آسنسول۔درگاپور پولیس کمشنریٹ کے ہیراپور تھانے میں ایک کل جماعتی میٹنگ منعقد ہوئی۔ یہ میٹنگ اے سی پی (ہیراپور) میہیر کمار دے کی موجودگی میں ہوئی، جس میں ترنمول کانگریس، بی جے پی، کانگریس سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ پولیس انتظامیہ کی جانب سے واضح انتباہ دیا گیا کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران یا اس کے بعد کسی بھی قسم کی بدامنی یا ہنگامہ آرائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ پولیس افسران نے کہا کہ انتظامیہ نے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ ساتھ ہی تمام جماعتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے کارکنان کو امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایت دیں۔
میٹنگ کے بعد آسنسول جنوبی اسمبلی (ٹاؤن) بلاک صدر پورنیندو چودھری عرف ٹیپو نے کہا کہ انتظامیہ نے تمام جماعتوں سے امن برقرار رکھنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھیشیک بنرجی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر کوئی اپوزیشن جماعت بدامنی پھیلانے کی کوشش کرے گی تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران اور اس کے بعد بھی ماحول پرامن رہے گا۔
بی جے پی کی جانب سے آسنسول تنظیمی ضلع کمیٹی کے رکن جے دیپ دے نے کہا کہ 2021 کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد کافی تشدد ہوا تھا، جس میں پارٹی کے کئی کارکن زخمی ہوئے تھے اور بعض کی جان بھی گئی تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بار انتخابات کی طرح ووٹوں کی گنتی کے بعد بھی ماحول پرامن رہے گا۔ پولیس انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر جمہوری عمل کا احترام کرنے اور کسی بھی انتخابی نتیجے کو پُرامن طریقے سے قبول کرنے کی بات کہی ہے۔
دوسری جانب ووٹوں کی گنتی کے پیش نظر صرف ہیراپور تھانہ ہی نہیں بلکہ آسنسول۔درگاپور پولیس کمشنریٹ کے تمام تھانے بھی چوکس ہیں۔ اتوار سے ہی مختلف علاقوں میں مائیکنگ کی جا رہی ہے اور سڑکوں پر نگرانی مزید بڑھا دی گئی ہے۔










