Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*درگاپور ایم،اے،ایم،سی مدرسہ فیضانِ مصطفٰے میں جشنِ غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

درگا پور : ١١ ربیع ربیع الثانی شریف بمطابق 7/ نومبر بروزِ پیر 8بجےصبح درگاپور ایم،اے،ایم،سی طلبہ وطالِبات مدرسہ فیضانِ مصطفٰے کے زیرِ اہتمام حضرت مولانا محمد علیم الدین فیضی الرضوی صدرمدرس مدرسہ ھٰذا وخطیب وامام ایم،اے،ایم، سی جامع مسجد درگاپورکی صدارت میں ایک عظیم الشان جشنِ غوث الوریٰ پروگرام انعقادکیاگیا۔سب سے پہلے مدرسہ ھذاکےطلبہ وطالبات نے قرآن خوانی کااہتمام کیابعدہٗ نعت و منقبت کا سلسلہ جاری ہوا۔ اس موقع پرحضرت مولانا محمدعلیم الدین فیضی الرضوی نے طلبہ وطالبات کے درمیان غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شان وعظمت بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، غوث الثقلین، سلطان العارفین، حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالٰی عنہ درجئہ ولایت وغوثیت کے اس مقام پرفائزتھےجہاں کسی اولیاء قطب ابدال کی رسائی نہیں۔

اعلٰیحضرت مجددِدین وملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمة والرضوان کی بارگاہِ عشق ومحبت میں دست بستہ عرض کیاجائے کہ ، اے احمد رضا! آپ کے نذدیک دستگیرِ کونین، شیخ الثقلین، سلطان الاقطاب ، مخدوم الوریٰ ، خواجئہ کائنات ، امامِ جیلانی حضورسیدناغوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شانِ کمال کیاہے؟ امامِ عشق ومحبت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی جواب دیتے ہوئے نظر آئیں گے

واہ کیامرتبہ اےغوث ہے بالاتیرااونچے اونچوں کے سروں سےقدم اعلٰی تیرا

سربھلاکیاکوئی جانےکہ ہے کیساتیرااولیاء ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوہ تیرا

جوولی ہوتے ہیں وہ دائمی طورپر تقویٰ وپرہیزگاری کا مظاہرہ کرتےہیں ان کی ذاتِ قدسیہ پرہرلمحہ نورونکہت کی بارشیں ہوتی رہتی ہیں ۔ ولی کاتصرف اللہ کاتصرف ہے ولی کا علم اللہ کاعلم ہے ولی کا کمال اللہ کاکمال ہے۔ ان کی خلوت بھی پاک ہوتی ہے ان کی جلوت بھی پاک ہوتی ہے۔ یہ کوئی بھی کام شریعت و سنت کےخلاف نہیں کرتے۔ اللہ رب العزت جب اپنے ولیوں کوروحانی دنیاکی حکومت اور سلطنت عطا فرمادیتا ہے ان کی نگاہِ ولایت میں دنیا کی حکومتیں اور سلطنتیں ایک جوکےدانےکےبرابر بھی قدروقیمت نہیں رہتیں۔

حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی زبانِ ولایت سے فرماتے ہیں کہ میں پوری دنیاکو اس طرح دیکھتا ہوں جیسے ہتھیلی پر رائی کا دانہ۔ میں اللہ کےعلم کے سمندر میں غوطےمارتاہوں اگر میرے منہ میں شریعت کی لگام نہ ہوتی تو قیامت تک جوکچھ ہونےوالا ہے میں سب کچھ بتادوں۔ آگے فرماتے ہیں میری آنکھیں لوحِ محفوظ پر لگی رہتی ہیں میں جانتاہوں جنتی کون ہے جہنمی کون ہے۔ غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے پچیس سال تک جنگلوں میں اس طرح عبادت کیاکہ میراجسم سراپا روح بن گیا میری غزا اللہ کی عبادت بن گئی میں سالوں سال کچھ نہیں کھاتا تھا مجھے بھوک نہیں ستاتی تھی۔

غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عبادت وریاضت زہدوتقویٰ وطہارت کے تعلق سے شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمةاللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ چالیس سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی مسلسل پندرہ سال تک عشاء اور فجر کے درمیان ایک پیرپر کھڑے ہوکر ہرروز پورا قرآن ختم کیا۔ غوث الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ریاضت ومجاہدے میں کافی جانفشانی کی ہے ۔ آپ سے بےپناہ کرامتوں کا صدور ہواہے ۔ آپ پر ایسےایسے اسرارو رموز ظاہر ہوتے تھے جس سےساری دنیا غافل رہتی تھی۔ مولانا موصوف نے

اس موضوع کےتحت ایک گھنٹہ سے زائدتک طلبہ وطالبات کے درمیان اپنا بیان جاری رکھا کامیابی کے ساتھ ساڑھے دس بجے صلٰوةوسلام کےبعد صدرِ محفل مولانا محمد علیم الدین فیضی الرضوی کی پُر اثر دعاؤں پر مجلس کا اختتام ہوا۔