Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*” شام در شام جلیں گے تری یادوں کے چراغ نسل در نسل ترا درد نمایاں ہوگا “ برن پور دی کرسنٹ اسکول میں بڑے ہی تزک واحتشام کے ساتھ جشن سر سید تقریب کا انعقاد کیا گیا*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

برن پور: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی اور ہندوستان میں جدید تعلیمی تحریک کے محرک سر سید احمد خان کی یوم پیدائش کے سلسلے میں اتوار کے دن برن پور آزاد نگر میں واقع دی کریسنٹ اسکول میں ”جشن یوم سر سید“بڑے ہی تزک واحتشام کے ساتھ انعقاد پذیر ہوا۔ جس میں مہمانان کے کی حیثیت سے مانو،آسنسول بی ایڈ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد محمود عالم، پچھم بردوان ضلع ترنمول کانگریس اقلیتی سیل کے ضلع صدر سید محمد افروز، محمڈن اسپورٹنگ کلب کولکاتا کے نائب صدر میر اعظم خان، مغربی بنگال کے معروف شاعر و نقیب خالق ادیب اور کریسنٹ آئی ٹی آئی کے ڈائریکٹر و سماجی خدمت گار شہزاد سمیع کے علاوہ دی کریسنٹ اسکول کے بانی و ڈائریکٹر محمد سمیع اللہ (ایڈووکیٹ)، پرنسپل آر کے سریواستو اور گلشن آرا خصوصی طور پر موجود رہیں۔ جشن سر سید کا آغاز تمام مہمانان نے شمع روشن اور اسکول ہزا کے پرنسپل و دیگر استانیوں نے سر سید کی تصویر پر پھول مالائیں پہنا کر کیا۔ اس موقعے پر اسکول ہذا کے طالب علم محمد ادیب درجہ ہفتم اور سنبل فاطمہ درجہ نہم نے تلاوت کلام پاک پیش کر کے پوری محفل کو پاکیزگی عطا کی۔ اسکول کی جان سے اسکول ہذا میں ڈرائینگ اور تقریری مقابلہ کا اہتمام دو گروپ میں کیا گیا۔جس میں اول، دوئم اور سوئم آنے والے طالب علموں کو مہمانان کے دست مبارک سے مومنٹو اور سند دیکر حوصلہ افزائی کی گئی۔درجہ چہارم کی بچیوں نے”تیری ہے زمین۔ تیرا آسمان“گانے پر بڑے ہی خوبصورت انداز میں پروگرام پیش کر کے سامعین کا دل جیت لیا۔ اس کے علاوہ دیگر کلاس کے بچوں اور بچیوں نے بھی مختلف النوع پروگرام پیش کئے۔ اس موقعے پر اسکول ہذا کے بانی و ڈائریکٹر محمد سمیع اللہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ سر سید ایسی ژخصیت کا نام ہے جس نے علی گڑھ تحریک شروع کر کے یہ لوگوں کو بتایا کہ کسی بھی قوم کی ترقی اس وقت تک نہیں ہوسکتی ہے جب تک اس قوم کے اندر بیداری نہ آئے اور تعلیم نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ سر سید نے موڈرن ایجوکیشن حاصل کرنے کے لیے قوم کے اندر تحریک کے ذریعے بیداری لائی۔انہوں نے مزید کہا کہ سر سید ایک سیکو لر شخصیت کا نام ہے۔ ان کا پیغام تھا کہ ہندوستان ایک خوبصورت دلہن کی طرح ہے۔اگراس کی ایک آنکھ بھی خراب ہوجائے توہندوستان خوبصورتی میں داغ لگ جائے گا یعنی ہندو اور مسلمان دونوں قوم کے اندر تعلیم ہو۔ پروگرام کی نقابت درجہ یازدہم کی طالبہ رائبا تبسم اور درجہ نہم کی طالبہ سامیا سجاد نے بحسن وخوبی انجام دئیے۔ پروگرام کا اختتام علی گڑھ ترانہ سے کیا گیا۔