آج بروز جمعرات 18 دسمبر 2025 کو صبح 9 بجے جامعہ مظفریہ شیر تالاب، آسنسول میں تکمیلِ حفظِ قرآن، تکمیلِ تفسیرِ قرآن اور تعزیتی نشست برائے حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ کے عنوان سے ایک پُروقار اور روح پرور پروگرام منعقد ہوا۔ اس بابرکت نشست میں شہر آسنسول کے معزز ائمہ، علماء کرام، اساتذہ، طلبہ، سرپرستوں اور بڑی تعداد میں اہلِ علم و سامعین نے شرکت کی۔
تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی دینی، روحانی اور اصلاحی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے فرمایا کہ حضرت ایسے دور میں انجینئر تھے جب انجینئرنگ کا تصور بھی عام نہ تھا، اور وہ ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر سرکاری ملازم تھے، لیکن انہوں نے دنیاوی آسائشات کو ترک کرکے انسانیت سازی اور اصلاحِ باطن کا راستہ اختیار کیا۔ حضرت فخریہ فرمایا کرتے تھے کہ “میں نے انسانوں کی نوکری چھوڑ کر اللہ کی نوکری اختیار کر لی ہے”۔ علماء نے یہ بھی بیان کیا کہ حضرت نے جوانی کے عالم میں تقریباً سو مرتبہ پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زیارت کی سعادت حاصل کی، اور ان کی تقاریر، تصنیفات و تالیفات دلوں کو جھنجھوڑ دینے والی اور بندوں کو رب سے جوڑنے والی ہوا کرتی تھیں۔
اس موقع پر حضرت مفتی شکیل الرحمن قاسمی صاحب (امام و خطیب جہانگری محلہ مسجد) نے بچوں کا تکمیلِ حفظِ قرآن کروایا، جبکہ حضرت مفتی زبیر احمد قاسمی قاضی امارتِ شریعہ نے سورۂ فلق، سورۂ ناس کی تفسیر پڑھا کر بچوں کی تکمیلِ تفسیرِ قرآن کرائی۔ بعد ازاں حضرت مفتی زبیر احمد قاسمی صاحب کی رقت آمیز دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔
پروگرام میں بالخصوص حضرت مولانا امداد اللہ رشیدی صاحب (امام و خطیب، نورانی مسجد)، مولانا اکرام الحق صاحب (امام و خطیب، بیت السلام مسجد)، مولانا نیاز احمد ندوی صاحب (امام و خطیب، بیت الصلاۃ مسجد)، مولانا قیصر عبداللہ صاحب (امام و خطیب، لوگو مسجد)، مولانا مصطفیٰ صاحب، مولانا ابو عبیدہ اعظمی صاحب، مفتی الیاس مظاہری صاحب، قاری شاہد صاحب، قاری ساجد صاحب، جامعہ کے ناظم ماسٹر عزیر احمد صاحب اور دیگر اساتذہ و طلبہ شریک رہے۔
آخر میں جامعہ ہذا کے مہتمم حضرت مولانا فردوس احمد نعمانی صاحب نے تمام معزز شرکاء، علماء کرام اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور بزم کے اختتام کا اعلان فرمایا۔










