Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*محبت کا تقدس !*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

*محبت کا تقدس !*

محبت کو عام فہم میں مختلف احساسات کے ساتھ تقسیم کیا گیا ہے، ماں باپ، بھائی بہن، باپ بیٹے، کے ساتھ ساتھ ایک اہم اور نا ختم شدہ محبت شوہر اور بیوی کا ہے یہ کہ جنت تک کا ساتھ کہا گیا ہے ۔
محبت ایک ایسا پاکیزہ جذبہ ہے جو انسان کے دل کو نرمی، روح کو سکون اور زندگی کو خوب صورتی عطا کرتا ہے۔ یہ کائنات کے ان عظیم احساسات میں سے ایک ہے جس کے ذریعے انسان دوسرے انسانوں سے جڑتا ہے اور زندگی کے حقیقی معنی کو سمجھتا ہے۔ محبت صرف کسی کو پسند کرنے یا اس کے ساتھ وقت گزارنے کا نام نہیں، بلکہ یہ خلوص، ایثار، احترام، وفاداری اور قربانی کا حسین امتزاج ہے۔ محبت زبانی یا تحریری شکل نہیں ہے بلکہ محبت کا اصل حسن اس کے تقدس میں پوشیدہ ہے، اور اس کا تقدس اسی وقت برقرار رہتا ہے جب اس میں پاکیزگی، سچائی اور احترام شامل ہوں۔
محبت انسانی فطرت کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ ایک ماں کی اپنے بچے سے محبت، والدین کی اپنی اولاد کے لیے قربانی، بہن بھائیوں کا پیار، دوستوں کی وفاداری اور انسانیت کے لیے ہمدردی، یہ سب محبت کی مختلف صورتیں ہیں۔ محبت انسان کو خود غرضی سے نکال کر دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنا سکھاتی ہے۔
سچی محبت میں صرف اپنی خوشی کی خواہش نہیں ہوتی، بلکہ محبوب کی خوشی، عزت اور بھلائی بھی اہم ہوتی ہے۔ جہاں محبت کے نام پر خود غرضی، دھوکا، جبر یا کسی کی آزادی کو پامال کیا جائے، وہاں محبت کی اصل روح مجروح ہو جاتی ہے۔
محبت کا تقدس اس کے خلوص، پاکیزگی اور احترام میں ہے۔ مقدس محبت وہ ہے جس میں انسان دوسرے انسان کو محض اپنی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ نہ سمجھے، بلکہ اس کی عزت، جذبات، مرضی اور شخصیت کو اہمیت دے۔ محبت کسی کو قید کرنے کا نام نہیں، بلکہ اسے اعتماد اور تحفظ کا احساس دینے کا نام ہے۔
تقدسِ محبت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے وعدوں کی پاس داری کرے، اپنے الفاظ اور اعمال میں سچائی اختیار کرے اور کسی کے جذبات سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔ محبت میں وفا کا مطلب صرف ساتھ رہنا نہیں، بلکہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بننا بھی ہے۔ اسی طرح محبت میں قربانی کا مطلب اپنی ذات کو مٹا دینا نہیں، بلکہ باہمی بھلائی کے لیے خوش دلی سے ایثار کرنا ہے۔

*محبت اور احترام کا رشتہ*

محبت اور احترام ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ جس رشتے میں احترام نہ ہو، وہاں محبت رفتہ رفتہ کمزور پڑ جاتی ہے۔ سچی محبت انسان کو دوسرے کی رائے سننے، اس کے اختلاف کو برداشت کرنے اور اس کی حدود کا خیال رکھنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔
کسی پر اپنی مرضی مسلط کرنا، شک کی بنیاد پر اسے اذیت دینا یا اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا محبت نہیں، بلکہ محبت کے مفہوم سے ناواقفیت ہے۔ محبت کی خوب صورتی یہ ہے کہ دو انسان ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اپنی انفرادی شناخت اور خودداری کو برقرار رکھ سکیں۔
محبت اور روحانیت کا تعلق صرف دنیاوی رشتوں سے نہیں، بلکہ روحانی اور اخلاقی اقدار سے بھی ہے۔ مذہبی تعلیمات میں محبت، رحم، ہمدردی، عفو و درگزر اور حسنِ سلوک کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ خدا سے محبت انسان کو نیکی کی طرف مائل کرتی ہے، جبکہ انسانوں سے محبت اسے مخلوقِ خدا کے ساتھ بھلائی کرنے کا درس دیتی ہے۔
محبت جب خود غرضی سے بلند ہو کر خدمت، ہمدردی اور خیر خواہی کی صورت اختیار کرتی ہے تو انسان کی شخصیت میں عظمت پیدا ہوتی ہے۔ یہی محبت معاشرے میں امن، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے۔
آج کے دور میں بعض اوقات محبت کو محض وقتی کشش، ظاہری حسن یا ذاتی خواہشات تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ اس طرزِ فکر کے نتیجے میں رشتوں میں بے وفائی، بداعتمادی اور جذباتی تکلیف جنم لیتی ہے۔ محبت کے نام پر جھوٹ بولنا، کسی کو دھوکا دینا یا اس کے جذبات سے کھیلنا نہ صرف دوسرے انسان کو زخمی کرتا ہے بلکہ محبت جیسے خوب صورت جذبے کی حرمت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محبت کو محض ایک احساس نہیں، بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری سمجھیں۔ محبت میں سچائی، صبر، وفاداری اور ذمہ داری کو جگہ دیں تاکہ رشتے وقتی جذبات کے بجائے مضبوط بنیادوں پر قائم ہوں۔
محبت انسان کی زندگی کا ایک انمول سرمایہ ہے اور اس کا تقدس انسان کے کردار سے ظاہر ہوتا ہے۔ سچی محبت وہ ہے جو دلوں کو جوڑے، نفرتوں کو کم کرے، انسان کو بہتر بنائے اور زندگی میں امید پیدا کرے۔ محبت کی عظمت اس بات میں نہیں کہ کوئی شخص ہمارے لیے کتنا کچھ کرتا ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ ہم اس کے ساتھ کتنی سچائی، عزت اور خلوص سے پیش آتے ہیں۔
اگر ہم محبت کو ملکیت کے بجائے امانت، خواہش کے بجائے ذمہ داری اور الفاظ کے بجائے عمل سمجھیں تو ہمارے رشتے زیادہ خوب صورت اور معاشرہ زیادہ پُرامن ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محبت کا تقدس دل کی پاکیزگی، کردار کی سچائی اور دوسرے انسان کی عزت میں پوشیدہ ہے۔ جہاں یہ تینوں صفات موجود ہوں، وہاں محبت محض ایک جذبہ نہیں رہتی، بلکہ زندگی گزارنے کا ایک حسین اصول بن جاتی ہے۔

*طارق اطہر حسین*
عبدالحمید نگر برنپور آسنسول مغربی بنگال

Latest News

Related News