# *ووٹ: جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت*
**ریاض اتکلی، آسنسول**
مغربی بنگال اسمبلی کی 294 نشستوں کے لیے اس بار دو مرحلوں، یعنی 23 اور 29 اپریل کو ووٹنگ ہونے جارہی ہے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور اس مرتبہ انتخابات سخت سیکورٹی، مرکزی فورسز کی نگرانی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی کڑی نظر میں کرائے جارہے ہیں۔ انتخابی ماحول پوری ریاست میں گرم ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدواروں کے ساتھ میدان میں ہیں، جلسے، ریلیاں اور عوامی رابطہ مہمات اپنے عروج پر ہیں، لیکن ان سب کے درمیان ایک ایسا مسئلہ بھی سر اٹھائے کھڑا ہے جس نے عام ووٹروں میں تشویش پیدا کردی ہے۔
ایس آئی آر کے تحت نظرِ ثانی کے عمل میں بہت سارے حقیقی اور اہل ووٹروں کے نام ووٹر فہرست سے حذف ہوگئے ہیں۔ اگرچہ الیکشن کمیشن کی جانب سے دستاویزات کی جانچ کے بعد دوبارہ نام شامل کرنے کا عمل بھی جاری رہا، لیکن اب بھی بہت سے اہل ووٹروں کے نام حتمی ووٹر فہرست سے حذف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان ووٹروں کے نام انتخاب کی تاریخ سے قبل ووٹر لسٹ میں شامل کیے جائیں گے یا نہیں؟ کیا وہ اس بار اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر سکیں گے؟ اس مسئلے پر عوام میں بے چینی پائی جارہی ہے۔ یہ سوال صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ جمہوریت کے بنیادی حق سے جڑا ہوا ہے۔
ان تمام خدشات اور مشکلات کے باوجود ایک بات اپنی پوری اہمیت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ ہمیں اپنے ووٹ کی قدر کو سمجھنا ہوگا اور ہر ممکن صورت میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنا ہوگا، کیونکہ ووٹ صرف ایک پرچی یا مشین پر دبایا جانے والا ایک بٹن نہیں بلکہ یہ عوام کی اجتماعی طاقت، شعور اور مستقبل کا فیصلہ ہوتا ہے۔
جمہوریت کی بنیاد ہی عوام کی رائے پر قائم ہوتی ہے، اور عوام کی رائے کا سب سے واضح اور مؤثر اظہار ووٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ ایک عام آدمی کے پاس شاید اقتدار کے ایوانوں تک براہِ راست رسائی نہ ہو، اس کے پاس بڑے وسائل نہ ہوں، وہ سیاسی جماعتوں کا حصہ نہ ہو، مگر اس کے ہاتھ میں ایک ووٹ ایسا ہتھیار ہے جو طاقتور سے طاقتور حکومت کو بدل سکتا ہے۔ یہی ووٹ عوام کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اپنے نمائندے منتخب کریں، ان سے جواب طلبی کریں اور اپنی ریاست، اپنے شہر، اپنے گاؤں اور اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں۔
جب ایک شہری ووٹ دیتا ہے تو وہ دراصل یہ طے کرتا ہے کہ آئندہ برسوں میں اس کے علاقے کی سڑکیں کیسی ہوں گی، اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت کیا ہوگی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے یا نہیں، خواتین کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے گا، کسانوں کے مسائل کیسے حل ہوں گے اور صنعت و تجارت کو کس سمت میں لے جایا جائے گا۔ اس طرح ایک ووٹ کا تعلق صرف سیاسی قیادت کے انتخاب سے نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے ان تمام پہلوؤں سے ہوتا ہے جو براہِ راست عوام کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ووٹ سے کیا فرق پڑتا ہے، یا یہ کہ سیاست میں سب ایک جیسے ہیں، اس لیے ووٹ دینے یا نہ دینے سے کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ جمہوری شعور کے منافی بھی ہے۔ تاریخ میں بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں چند ووٹوں کے فرق سے امیدوار کامیاب یا ناکام ہوئے، حکومتیں بنیں یا گر گئیں، اور ریاستوں کی سیاسی سمت بدل گئی۔ کئی مرتبہ ایک ایک ووٹ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے یہ سوچنا کہ میرا ایک ووٹ بے معنی ہے، دراصل اپنی ہی طاقت کو کم سمجھنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت میں ہر ووٹ برابر حیثیت رکھتا ہے۔ ایک مزدور کا ووٹ، ایک استاد کا ووٹ، ایک طالب علم کا ووٹ، ایک کسان کا ووٹ اور ایک تاجر کا ووٹ سب یکساں اہم ہیں۔ یہی مساوات جمہوریت کا حسن ہے کہ یہاں حیثیت، دولت، زبان، مذہب یا سماجی مرتبہ نہیں بلکہ ہر فرد کی رائے یکساں وزن رکھتی ہے۔
مغربی بنگال جیسے سیاسی طور پر بیدار صوبے میں ووٹ کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہاں عوام ہمیشہ سیاسی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں۔ یہ ریاست نظریاتی بحث، سیاسی شعور اور عوامی سرگرمیوں کے لیے پورے ملک میں ممتاز مقام رکھتی ہے۔ ایسے میں اگر ووٹر فہرست سے حقیقی ووٹروں کے نام حذف ہوجائیں تو یہ صرف ایک انتظامی خامی نہیں رہتی بلکہ عوام کے اعتماد کو متاثر کرنے والا معاملہ بن جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر ووٹر اپنے نام کی تصدیق کرے، اگر نام حذف ہوگیا ہو تو فوری طور پر مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ متعلقہ دفتر میں رابطہ کرے، اور اپنے حق کو ضائع نہ ہونے دے۔ جمہوریت صرف حکومت یا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر شہری کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار رہے۔
ووٹ دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ صرف حق نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ ہم اکثر حکومتوں کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہیں، سڑکوں کی خراب حالت، پانی کی قلت، بجلی کے مسائل، بے روزگاری، مہنگائی، بدعنوانی اور تعلیم و صحت کے بحران پر شکایت کرتے ہیں، لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ان مسائل کے حل کی پہلی سیڑھی ایک بہتر نمائندے کا انتخاب ہے۔ اگر باشعور، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار شہری ووٹ دینے سے گریز کریں گے تو فیصلہ ان لوگوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا جو شاید امیدوار کی قابلیت کے بجائے وقتی نعروں، ذاتی مفادات، لالچ یا دباؤ کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہوں۔
اس صورت میں اچھے لوگوں کے آگے آنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں اور ناقص قیادت کے لیے راستے ہموار ہوتے ہیں۔ اس لیے ووٹ نہ دینا دراصل دوسروں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دینا ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ووٹ صرف کسی جماعت یا امیدوار کو کامیاب بنانے کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی احتساب کا بھی سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ جو نمائندہ پانچ برس تک عوام کے مسائل حل نہ کرے، وعدے پورے نہ کرے، عوام سے رابطہ منقطع کردے یا بدعنوانی میں ملوث ہو، عوام اگلے انتخاب میں اپنے ووٹ کے ذریعے اسے مسترد کرسکتی ہے۔ یہی جمہوریت کی اصل روح ہے کہ اقتدار مستقل نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور عوام جب چاہے اسے واپس لے سکتی ہے۔ اس لیے ووٹ دینا دراصل اپنے نمائندوں کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ اقتدار کا اصل سرچشمہ عوام ہیں۔
آج کے دور میں جب سوشل میڈیا، افواہیں، جذباتی نعرے اور مذہبی یا سماجی تقسیم کی سیاست عام ہوچکی ہے، ووٹر کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ووٹ دینا صرف جوش کا معاملہ نہیں بلکہ ہوش کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ ایک ذمہ دار ووٹر کو چاہیے کہ وہ امیدوار کے ماضی، اس کی کارکردگی، عوامی خدمات، کردار، ایمانداری اور علاقے کے مسائل کے حل کے لیے اس کے وژن کو دیکھے۔ صرف جذبات، نعروں، ذاتی تعلقات یا وقتی فائدوں کی بنیاد پر ووٹ دینا مستقبل میں بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ اخبار، معتبر ذرائع، عوامی ریکارڈ اور زمینی حقیقت کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہی باشعور ووٹر کی پہچان ہے۔
خاص طور پر نوجوان ووٹروں کے لیے یہ انتخاب ایک اہم موقع ہے۔ نوجوان کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔ ان کے مسائل میں تعلیم، روزگار، ٹیکنالوجی، کاروبار، مواقع اور سماجی تحفظ شامل ہیں۔ اگر نوجوان ووٹ کے عمل سے دور رہیں گے تو ان کے مسائل کبھی ترجیح نہیں بن سکیں گے۔ نوجوان نسل کو سمجھنا ہوگا کہ ان کا ووٹ ان کے اپنے مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ وہ جس قیادت کو منتخب کریں گے، وہی ان کے لیے ملازمتوں کی پالیسی، تعلیمی اداروں کی بہتری، صنعتوں کے قیام اور سماجی مواقع کا راستہ متعین کرے گی۔
خواتین ووٹروں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ آج خواتین ہر شعبے میں اپنی موجودگی درج کرا رہی ہیں، مگر ان کی حقیقی طاقت اس وقت مزید نمایاں ہوتی ہے جب وہ ووٹ کے ذریعے اپنی آواز بلند کرتی ہیں۔ خواتین کی تعلیم، تحفظ، صحت، روزگار، مساوی حقوق اور سماجی انصاف جیسے مسائل اسی وقت مؤثر انداز میں حل ہوسکتے ہیں جب خواتین خود انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو ان کے مسائل کو سنجیدگی سے سمجھتے ہوں۔
موجودہ حالات میں ووٹر فہرست سے نام حذف ہونے کا مسئلہ یقیناً تشویش ناک ہے، مگر اس سے مایوس ہونے کے بجائے مزید بیداری کی ضرورت ہے۔ ہر شہری کو چاہیے کہ وہ انتخابی تاریخ سے قبل اپنا نام ووٹر لسٹ میں ضرور چیک کرے، اپنے خاندان، پڑوسیوں اور دوستوں کو بھی اس کی ترغیب دے، اور اگر کسی کا نام حذف ہو تو اسے بحالی کے قانونی طریقۂ کار سے آگاہ کرے۔ جمہوریت کی اصل طاقت صرف ووٹ ڈالنے میں نہیں بلکہ اس پورے عمل میں عوامی شمولیت، نگرانی اور بیداری میں بھی ہے۔
آخر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ووٹ ایک قومی امانت ہے۔ یہ حق ہمیں آسانی سے نہیں ملا بلکہ جمہوری جدوجہد، آئینی اصولوں اور عوامی شعور کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے۔ اس لیے اسے معمولی سمجھنا یا نظر انداز کرنا اپنے مستقبل سے بے اعتنائی کے مترادف ہے۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات صرف حکومت بنانے کا عمل نہیں بلکہ یہ عوام کے شعور، اعتماد اور اجتماعی فیصلے کا امتحان بھی ہے۔ تمام مسائل، خدشات اور فہرستی الجھنوں کے باوجود ہمیں اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا، کیونکہ ایک باشعور ووٹر ہی ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد رکھتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آواز اسمبلی تک پہنچے، ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو، ریاست ترقی کرے اور عوامی مسائل کا حل نکلے، تو ہمیں ہر حال میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنا ہوگا۔ یاد رکھیے، ووٹ صرف ایک نشان نہیں، یہ آپ کی آواز، آپ کا حق، آپ کی طاقت اور آپ کے مستقبل کا فیصلہ ہے۔
مضمون پسند آئے تو شئیر ضرور کریں
اور آسنسول دستک فیس بک کے فالو بٹن کو دباکر تازہ ترین خبروں کا مطالعہ کریں
مذکورہ مضمون روزنامہ اخبار مشرق کولکاتا، روزنامہ عوامی نیوز کولکاتا، روزنامہ جدید بھارت کولکاتا، روزنامہ فاروقی تنظیم رانچی و پٹنہ، اور روزنامہ سماج نیوز دہلی میں شائع ہو چکا ہے۔
میں ان تمام معزز اخبارات کے مدیران، معاونینِ ادارت اور متعلقہ ٹیموں کا دل کی گہرائیوں سے تہہِ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے اس مضمون کو اشاعت کے لیے منتخب کیا۔
ریاض اتکلی، آسنسول















